Mushkelat e Zindagi
اگر اس دور میں موبائل نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ ٹیکنالوجی، توازن اور انسانی زندگی
موبائل فون دورِ حاضر کا ایک انقلابی آلہ ہے جس نے فاصلوں کو سمیٹ کر معلومات اور عالمی رابطوں کو بے پناہ آسان بنا دیا ہے۔ تاہم، اس کے بے قابو اور عادی بن کر استعمال کرنے سے گہرے انسانی رشتے، ذہنی یکسوئی اور قیمتی وقت شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود اچھی یا بری نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اچھائی یا برائی کا انحصار انسان کے اپنے طرزِ عمل اور نیت پر ہے۔ ماضی کا دور اگرچہ دشواریوں سے خالی نہ تھا، لیکن موجودہ دور کی بے مقصد اسکرولنگ روح اور فکر کے لیے اس سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ اصل دانشمندی یہ ہے کہ موبائل کو اپنی ضروریات کا خادم بنایا جائے، نہ کہ اپنی زندگی کا حاکم۔
مقالہ دیکھیں
Life Without the Smartphone: A Blessing, a Curse, or a Test of Balance?
The mobile phone is a revolutionary tool that has connected the world and democratized access to information, yet its excessive use has eroded deep personal relationships, focus, and mental well-being. Rather than being inherently good or evil, technology reflects human intent; it can serve as a powerful engine for knowledge and growth, or a source of distraction and intellectual clutter. While the pre-digital era had genuine challenges, the modern urge to mindlessly scroll poses an equal threat to our time and presence. The ultimate challenge is balance—allowing mobile devices to serve our essential needs without permitting them to dominate our lives.
Read article
ایک یوٹرن گھر تباہ ہونے سے بچا لیتا ہے
میاں جی بیگم کے شکر گزار ہو رہے تھے... اور بیگم صاحبہ دل ہی دل میں اپنی ماں کو دعائیں دے رہی تھیں... جس کی سختی نے اس کو یوٹرن لینے پر مجبور کیا تھا...
مقالہ دیکھیں
مرنے سے پہلے ذرا جینا بھی سیکھ لیجیے!
"مرنے سے پہلے جینا سیکھ لیجیے" کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ خوشیوں اور نعمتوں کو "خاص مواقع" کے لیے بچا کر رکھنا ایک بڑی غلطی ہے۔ یہ تحریر اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں بتاتی ہے کہ اللہ اپنی نعمتوں کا اثر اپنے بندوں پر دیکھنا پسند کرتا ہے، اس لیے انہیں الماریوں میں قید کرنے کے بجائے آج ہی استعمال کریں۔ محض ظاہری صفائی ہی نہیں، بلکہ دل کو حسد اور لالچ سے پاک کرنا بھی ضروری ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ ہر وہ دن جس میں گناہ نہ ہو، وہ عید ہے اور اصل زندگی "آج" ہے کیونکہ کل صرف ایک امید ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور زندگی کو مؤخر کرنا چھوڑ دیں۔
مقالہ دیکھیں
Sharia Dilemma
This humorous story highlights a newlywed wife who insists on living strictly by Sharia, demanding her rights such as a separate home and exemption from serving in-laws. The husband, overwhelmed, consults a scholar who reminds him that Sharia is about duties and balance—not just rights. When the husband mentions Sharia’s allowance for a second marriage, the wife quickly softens her stance. The message is clear: true Sharia means fairness, responsibility, and harmony in the home.
Read article
جب عالمہ بیوی ملی تو شوہر نے سمجھا بہار آ گئی… مگر
یہ مزاحیہ اور سبق آموز تحریر ایک شوہر اور عالمہ بیوی کی کہانی بیان کرتی ہے۔ نکاح کے بعد بیوی نے شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا اعلان کیا، مگر جلد ہی ساس سسر کی خدمت سے انکار اور علیحدہ گھر کا مطالبہ کر دیا۔ شوہر پریشان ہو کر عالم دین کے پاس گیا، جنہوں نے سمجھایا کہ شریعت صرف حقوق کا نہیں، فرائض اور انصاف کا بھی نام ہے۔ جب شوہر نے دوسری شادی کی اجازت کا ذکر کیا تو بیوی فوراً نرم پڑ گئیں۔ نتیجتاً، سبق یہ ملا کہ شریعت کو مکمل اپنانا چاہیے، صرف اپنے فائدے کے لیے نہیں۔
مقالہ دیکھیں
امام علی رضؑا : دعا و اعمال برائے نکاح
یہ دعا نکاح سے پہلے نیک بیوی کی تلاش کے لیے مستحب عمل کے طور پر ذکر ہوئی ہے۔ دعا کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے، جیسا کہ دیگر اہم امور (استخارہ، حاجت، توبہ) کے موقع پر ہوتا ہے۔
مقالہ دیکھیں
امام علی النقیؑ : دعا سریع الاجابت
حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا: "جو شخص اس دعا کو اپنی دعاؤں سے پہلے پڑھے، اس کی حاجت ضرور قبول ہوتی ہے۔"
مقالہ دیکھیں
قرآنی شفاء ؛ نیک اولاد کے حصول کے لیے مجرب آیات
کتاب "خواص آیاتِ قرآن کریم" (صفحہ 165) میں بیان ہوا ہے کہ: "جو شخص سچے دل، خلوصِ نیت اور یقینِ کامل کے ساتھ ان دو آیات کو اولاد کے حصول کے لیے پڑھے، اور اللہ سے دعا کرے، تو ان شاء اللہ اس کی گود جلد بھر جائے گی۔ اور جو بچہ پیدا ہوگا، وہ اللہ کے حفظ و امان میں رہے گا۔"
مقالہ دیکھیں
نفسیاتی بصیرت از قراٰنِ مجید
ایسے افراد کے ساتھ مستقل تعلق رکھنا ذہنی سکون، جذباتی توازن اور صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ایسے رویوں کو پہچاننا اور حدود کا تعین کرنا، یا خود کو ایسے افراد سے علیحدہ کرنا، ایک اہم قدم ہے۔
مقالہ دیکھیں
Quranic Insight into the psychology of human being
These are the gossipers, backbiters, and instigators who enjoy turning people against each other. They destroy trust and create divisions in families, friendships, and organizations.
Read article
