LogoDars e Mahdi ATFS

Ulema ke Jawab

اہلِ بیتؑ کے فضائل پر تاویلیں، دوسروں کے مناقب کے لیے حیلے: یہ کیسا انصاف ہے؟

یہ تحریر تاریخی اور مذہبی مباحث میں اہلِ بیت (علیہم السلام) اور دیگر شخصیات کے فضائل کے لیے اپنائے جانے والے دوہرے معیارات پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جہاں اہلِ بیتؑ کے صریح قرآنی و نبوی فضائل کے سامنے کڑی تاویلیں اور شکوک تراشے جاتے ہیں، وہیں دیگر شخصیات کے حق میں ضعیف اور غیر مستند روایات کو بھی آسانی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ مصنف کا موقف ہے کہ حق و باطل اور قبولِ روایت کی کسوٹی ہر ایک کے لیے غیر جانبدار اور یکساں ہونی چاہیے۔ قرآن کا بنیادی حکم عدل و انصاف ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ذاتی پسند کو سچائی کے تابع کرے، نہ کہ سچائی کو اپنی پسند کے مطابق ڈھالے۔

مقالہ دیکھیں
اہلِ بیتؑ کے فضائل پر تاویلیں، دوسروں کے مناقب کے لیے حیلے: یہ کیسا انصاف ہے؟

Reinterpretations for the Virtues of the Ahl al-Bayt (AS), Yet Excuses for the Merits of Others: What Kind of Justice Is This?

The text critiques the intellectual double standards applied when evaluating the virtues of the Ahl al-Bayt (AS) versus the merits of other historical figures. It highlights how explicit Qur'anic verses and authentic traditions regarding the Prophet’s family are often subjected to restrictive reinterpretations and intense skepticism, while unverified or weak narrations for others are readily accommodated. Demanding consistent principles of verification, the author emphasizes that personal bias must never dictate historical and religious truth. Ultimately, genuine justice and intellectual integrity require that evidence be evaluated through a single, fair standard for all.

Read article
Reinterpretations for the Virtues of the Ahl al-Bayt (AS), Yet Excuses for the Merits of Others: What Kind of Justice Is This?

تنظیم المکاتب کا نصابِ تعلیم: عصرِ غیبت میں جہاد اور نائبِ عام کی اجازت — ایک تجزیاتی مطالعہ

نیابت کی تفریق: تحریر میں غیبتِ صغریٰ کی معین و شخصی ’’نیابتِ خاص‘‘ اور غیبتِ کبریٰ میں جامع الشرائط فقہاء کی مسلسل ’’نیابتِ عامہ‘‘ کے درمیان واضح فرق بیان کیا گیا ہے۔ جہاد پر فقہی آراء: متقدمین کے مشہور موقف کے برعکس (جو عدمِ معصوم میں جہادِ ابتدائی کو ساقط مانتے تھے)، آیت اللہ خوئی اور آیت اللہ خامنہ ای جیسے معاصر فقہاء شرائط کی موجودگی میں اس کے وجوب یا نفاذ کو باقی مانتے ہیں۔ قیادت اور نفاذ کی بنیاد: آیت اللہ خوئی نے انتشار (ہرج و مرج) کی روک تھام اور ’’بابِ حسبہ‘‘ کے تحت جہاد کا اختیار فقیہ کے سپرد کیا ہے، جبکہ آیت اللہ خامنہ ای اسے ’’ولایتِ امر‘‘ اور مصلحتِ عامہ کے دائرے میں رکھتے ہیں۔ نصاب کا پس منظر: تنظیم المکاتب کے نصاب میں ’’نائبِ امام‘‘ کی اجازت کی شرط دراصل ایک تنظیمی و سماجی حفاظتی اصول ہے، تاکہ کوئی بھی غیر ذمہ دار فرد یا جتھہ اپنی مرضی سے جہاد اور مسلح تصادم کا اعلان نہ کر سکے۔

مقالہ دیکھیں
تنظیم المکاتب کا نصابِ تعلیم: عصرِ غیبت میں جہاد اور نائبِ عام کی اجازت — ایک تجزیاتی مطالعہ

The Educational Curriculum of Tanzeem-ul-Makatib: Jihad in the Era of Occultation and the Authorization of the General Deputy (Na’ib al-Amm) — An Analytical Study

Distinction of Deputyship: The text differentiates between the specific, historical Special Deputyship (Niyabat al-Khas) and the ongoing General Deputyship (Niyabat al-Amm) held by qualified jurists during the Major Occultation. Jurisprudential Views on Jihad: While classical consensus largely viewed initiative jihad as suspended without an Infallible Imam, several contemporary authorities (such as Ayatollah al-Khoei and Ayatollah Khamenei) maintain that its obligation or execution can persist under specific conditions. Authority and Execution: Grand Ayatollah al-Khoei grounds the jurist’s mandate to oversee such matters in Bab al-Hasbah and the prevention of social chaos, whereas Ayatollah Khamenei views it as an explicit prerogative of the Wali al-Amr. Contextual Application to Tanzeem-ul-Makatib: The curriculum's requirement of authorization from the "Deputy of the Imam" reflects this jurisprudential need for institutional oversight, emphasizing that military action cannot be declared arbitrarily by unauthorized individuals or rogue groups.

Read article
The Educational Curriculum of Tanzeem-ul-Makatib: Jihad in the Era of Occultation and the Authorization of the General Deputy (Na’ib al-Amm) — An Analytical Study

نصابِ تنظیم المکاتب: تحقیق کی میز پر، الزام کے کٹہرے میں نہیں

سید نجیب الحسن زیدی تنظیم المکاتب کے نصاب کا دفاع کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ شریعت کے بنیادی احکام اٹل ہیں جبکہ تدریسی اسلوب حالات کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ بچوں کے فہم کے مطابق فقہی اصطلاحات کو آسان بنانا—خصوصاً جہاد کو بااختیار دینی قیادت کے اذن سے مشروط کرنا—روایتی شیعہ فقہ کے عین مطابق ہے، نہ کہ شریعت میں کوئی تحریف۔ یہ شرعی قید ہندوستان جیسے جمہوری اور تکثیر الوجود معاشرے میں من مانی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ مصنف ناقدین کو لفظی بحث کے بجائے سنجیدہ علمی تحقیق کی دعوت دیتے ہوئے زور دیتے ہیں کہ ایک باحیات تعلیمی نظام کے لیے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے نصاب میں تدریسی لچک برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

مقالہ دیکھیں
نصابِ تنظیم المکاتب: تحقیق کی میز پر، الزام کے کٹہرے میں نہیں

The Curriculum of Tanzeem-ul-Makatib: On the Desk of Research, Not in the Dock of Accusation

This article defends Tanzeem-ul-Makatib's educational curriculum, arguing that simplifying complex jurisprudence (Fiqh) for children is a necessary pedagogical tool rather than an alteration of divine law (Sharia). It emphasizes that stating Jihad requires the authorization of a legitimate religious authority aligns with classical Shi'a jurisprudence and serves as a vital safeguard against vigilantism and extremist violence, especially in pluralistic societies like India. Furthermore, introductory textbooks must be understood within their educational and historical contexts rather than judged as advanced legal treatises.

Read article
The Curriculum of Tanzeem-ul-Makatib: On the Desk of Research, Not in the Dock of Accusation

علامہ عبدالحسین امینیؒ اور حلب کے قاضی القضات کا حیرت انگیز مناظرہ

کہا جاتا ہے کہ علامہ امینیؒ علمی تحقیق کے لیے شام کے تاریخی شہر حلب تشریف لے گئے۔ وہاں دن رات کتب خانوں میں قدیم اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ اسی دوران ایک نہایت مہذب، پڑھے لکھے اور خوش اخلاق سنی تاجر سے ان کی ملاقات ہوئی۔ چند ملاقاتوں میں یہ تعلق دوستی میں بدل گیا۔

مقالہ دیکھیں
Shia-Sunni-Debate-Allama-Ameeni-vs-Chief-Justice-of-Shaam

تبرّاء: مقصد اور ہمارا طرزِ عمل

حق بات کہنا ضرور ہے، مگر ایسی زبان میں کہ دل بند نہ ہوں بلکہ سوچنے پر مجبور ہوں؛ کیونکہ بہترین تبرّاء وہ ہے جو باطل سے نفرت پیدا کرے، مگر انسان کو حق سے قریب بھی کرے۔ اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ، حق بیان کرنا بھی ضروری ہے، مگر حق بیان کرنے اور دل توڑنے، نفرت پھیلانے اور کسی کو اپنے سے دور کرنے میں بڑا فرق ہے۔

مقالہ دیکھیں
tabarra-pointing-at-others-to-embarass-or-correcting-themistakes

معصوم و غیر معصوم کی بحث

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہر مجلس میں ایک نیا شوشہ چھوڑا اور کوئی نیا نعرہ ایجاد کیا جائے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر دل میں معرفت کا ایک نیا چراغ روشن کیا جائے۔ جب معرفت زندہ ہوگی تو نہ کوئی غلو کرے گا، نہ کوئی توہین کرے گا، نہ کوئی معصوم اور غیر معصوم کے فرق کو بھولے گا، اور نہ ہی کوئی دشمن اہلِ بیت علیہم السلام کی صفوں میں شکوک و شبہات کے بیج بونے میں کامیاب ہو سکے گا۔

مقالہ دیکھیں
معصوم و غیر معصوم کی بحث (masoom-w-ghair-masoom-ki-bahas o tajziya)

ہم ایام فاطمیہ کیوں مناتے ہیں؟

اس مظمون میں تفصیلات بیان کی جاتی ہیں کی ایام فاطمیہ کیوں منعقد ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ سوالات جو بی بی کی شہادت اور حالات مصائب کے ذیل میں ذہنوں میں آتے ہیں ان کا خاطر خواہ جواب بھی عالمہ نے اپنے مطالعہ کے ضمن میں پیش کیا ہے۔

مقالہ دیکھیں
Burning the door of Bibi Fatima SA

قرآن یا اسماء متبرکہ والے کاغذ کو ضائع کرنے کے تین شرعی طریقے

قرآن کی آیات یا اللہ تعالیٰ کے اسماء پر مشتمل کاغذات کو عزت و احترام کے ساتھ تلف کرنا چاہیے۔ جائز طریقوں میں انہیں ری سائیکلنگ مراکز کو دینا، باادب طریقے سے دفن کرنا یا بہتے ہوئے پانی میں ڈالنا شامل ہیں۔ شریعت میں انہیں جلانا یا کوڑے دان میں پھینکنا جائز نہیں ہے۔ اس حکم پر بڑے شیعہ علما کا اتفاق ہے۔

مقالہ دیکھیں
قرآن یا اسماء متبرکہ والے کاغذ کو ضائع کرنے کے تین شرعی طریقے

Three Shariah methods of disposing of paper of Quran or holy names

Papers containing Quranic verses or the names of Allah should be disposed of respectfully. Permissible methods include giving them to recycling centers, burying them respectfully, or placing them in flowing water. It is not allowed in Sharia to burn or throw them in the trash. This ruling is agreed upon by major Shia jurists.

Read article
 Three Shariah methods of disposing of paper of Quran or holy names