LogoDars e Mahdi ATFS

اہلِ بیتؑ کے فضائل پر تاویلیں، دوسروں کے مناقب کے لیے حیلے: یہ کیسا انصاف ہے؟

اہلِ بیتؑ کے فضائل پر تاویلیں، دوسروں کے مناقب کے لیے حیلے: یہ کیسا انصاف ہے؟
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain

یہ واقعی حیرت انگیز امر ہے کہ جب بھی قرآنِ مجید اہل بیت (علیہم السلام) کی فضیلت اور برتری بیان کرتا ہے، تو اس کے دور از کار معنی نکالے جاتے ہیں، اور آیات کی ایسی تاویلیں تراشی جاتی ہیں جن کا مقصد ان کے مناقب کو محدود کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح، جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث ان کے بلند مرتبے اور جلالتِ شان کو واضح کرتی ہیں، تو ان پر ہر قسم کے اعتراضات اور شکوک و شبہات کے پہاڑ کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، جب بعض اصحاب کے فضائل کا تذکرہ آتا ہے، تو ضعیف روایات، غیر مصدقہ تاریخی واقعات اور محض قیاس آرائیوں کو بھی قبول کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے۔ ان مواقع پر ٹھوس دلیل کی ضرورت شاذ و نادر ہی سمجھی جاتی ہے، لیکن دوسری طرف اہل بیت (علیہم السلام) کے روشن اور واضح فضائل کو بھی آسانی سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔

اہلِ بیت (علیہم السلام) کے لیے ہزار سوال اور چھان بین، جبکہ دوسروں کے لیے ہر بات بلا چوں و چرا قبول! آخر یہ کیسا انصاف ہے؟

قرآنِ حکیم اہل بیت (علیہم السلام) کی طہارت و عصمت کا دوٹوک اعلان فرماتا ہے (سورۂ احزاب: ۳۳)، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کو ان کے متعلق اللہ کی یاد دہانی کراتے ہوئے تاکیدی حکم دیا: ”میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں“ (صحیح مسلم)۔ اگرچہ ان آیات اور احادیث سے باریک بین مفاہیم اخذ کرنے میں آرا کا اختلاف ممکن ہے، لیکن محض اس بنیاد پر ان کی اہمیت کو کم کرنا کہ وہ اہل بیت (علیہم السلام) کے خصوصی اور منفرد فضائل کو آشکار کرتی ہیں، قطعاً ایک ناقابلِ قبول اور نامناسب رویہ ہے۔

اصول بالکل واضح اور دوٹوک ہے: اگر کسی روایت کی سند کمزور ہے تو اسے ہرگز قبول نہ کیا جائے، خواہ وہ کسی کے بھی حق میں کیوں نہ جاتی ہو۔ لیکن اگر دلیل معتبر، ثابت شدہ اور صحیح ہے، تو اسے محض اس لیے مسترد نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ کسی کی ذاتی پسند یا رجحان کے موافق نہیں۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

"انصاف کرو، یہی تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔" (سورۂ مائدہ: ۸)

اہلِ بیت (علیہم السلام) کے فضائل بیان کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی دوسرے کی تحقیر کی جائے، اور نہ ہی دوسروں کے جائز مناقب تسلیم کرنے کا یہ تقاضا ہے کہ اہل بیت (علیہم السلام) کے بلند و بالا الٰہی مقام میں کمی کی جائے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تحقیق، پرکھ اور استدلال کا معیار سب کے لیے یکساں اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ پسندیدہ ہستیوں کے لیے تو کمزور اور بے بنیاد باتیں بھی آنکھیں بند کر کے مان لی جائیں، جبکہ اہلِ بیت (علیہم السلام) کے حق میں قرآن اور سنت کے واضح ترین دلائل کے سامنے عیب جوئی اور شکوک تراشے جائیں۔

یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھیے: حق کو کبھی انسان کی ذاتی خواہشات اور ترجیحات کے تابع نہیں کیا جا سکتا؛ بلکہ انسان کی خواہشات کو حق کے تابع ہونا پڑتا ہے۔ یہی حقیقی انصاف ہے، اور یہی دیانت دارانہ علمی طرزِ فکر کا بنیادی جوہر ہے۔

Social Media: Share