LogoDars e Mahdi ATFS

ناصبیت کا فکری چہرہ: تعصب، نفرت اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ

ناصبیت کا فکری چہرہ: تعصب، نفرت اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain

ناصبیت کی اصل پہچان کیا ہے؟

یہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور انسانیت دشمنی کی وہ سفاک ترین شکل ہے جہاں انسانوں کے جگر چاک کر کے چبائے جاتے ہیں، بے گناہوں کے لہو سے زمین رنگ دی جاتی ہے، گردنیں کاٹی جاتی ہیں، اور کٹے ہوئے سروں سے فٹ بال کھیلنے جیسی درندگی کو بہادری کا تمغہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ساری درندگی کے پسِ پشت رسولؐ اور آلِ رسولؑ سے بغض و عناد کی وہ دہکتی ہوئی آگ کارفرما ہے، جو انسانی دل سے رحم، انسانیت، اخلاق اور ضمیر کا آخری احساس تک جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ لرزہ خیز وہ فتنہ پرور مفتی اور نام نہاد واعظ ہیں، جو اپنے فتووں، خطبات اور مذہبی اثرو رسوخ کے ذریعے دہشت گردی کی اس غلیظ اور ناپاک فصل کو سیراب کرتے ہیں۔ وہ قاتل ذہنوں کو نظریاتی زہر فراہم کرتے ہیں، نفرت کو تقدس کی چادر اوڑھا دیتے ہیں، محراب و منبر سے تشدد کے لیے جواز تراشتے ہیں، اور خون ریزی کے حق میں مذہب کے نام پر من گھڑت دلائل پیش کرتے ہیں۔ وہ محض دہشت گردوں کے ہاتھوں میں اسلحہ نہیں تھماتے، بلکہ ان کے ذہنوں میں ایسا زہر گھول دیتے ہیں کہ انسان، انسان نہیں رہتا اور قتل و غارت گری ایک عبادت کا روپ دھار لیتی ہے۔

جب منبر سے اگلنے والی نفرت کو ایمان کا نام دیا جائے، بنی نوع انسان کے قتلِ عام کو جہاد قرار دیا جائے، تکفیر کو عقیدہ اور اہلِ بیتؑ سے بغض کو اسلام گردانا جائے؛

جب کوئی بیدار ضمیر اہلِ بیتؑ کی عظمت و فضائل پر قلم اٹھائے یا ان پر ڈھائے گئے مظالم کے خلاف صدا بلند کرے، اور ناصبیت کے علمبرداروں کے اندر چھپی ہوئی نسلی عداوت پورے غیظ و غضب کے ساتھ جاگ اٹھے—زبانیں زہر اگلنے لگیں، فتوے گڑھے جانے لگیں اور حق کی آواز دبانے کے لیے وہی پرانا تعصب میدان میں اتر آئے—تو جان لینا چاہیے کہ یہ کوئی فکری یا فقہی اختلاف نہیں، نہ ہی محض ایک گمراہ نظریہ ہے۔

بلکہ یہ نفرت کا وہ نظریاتی کارخانہ ہے جہاں تعصب کو عقیدہ، بغض کو ایمان، ظلم کو اسلام، اہلِ بیتؑ سے بیر کو حق شناسی، ظالموں اور ستم گروں کی وکالت کو دینی فریضہ، اور مظالم کی توجیہ کو تاریخی انصاف قرار دیا جاتا ہے۔

یہ سوچ پہلے دلوں میں کینے کے بیج بوتی ہے، پھر شعور کو مفلوج کرتی ہے، تشدد کے لیے ذہنی راستہ ہموار کرتی ہے، اور بالآخر جب خون کی ندیاں بہتی ہیں تو اسی خون پر مذہب کی چادر تان کر قاتل کے خون آلود ہاتھوں کو پاک و صاف ثابت کرنے پر تل جاتی ہے۔ یوں دہشت گردی صرف ان ہاتھوں سے جنم نہیں لیتی جو بندوق اٹھاتے ہیں، بلکہ اس کی اصل بنیاد وہ زہریلا منبر اور وہ دار الافتاء ہیں جہاں نفرت کو تقدیس کا درجہ دیا جاتا ہے، بربریت کو جواز بخشا جاتا ہے اور اہلِ بیتؑ کے ساتھ دشمنی کو عینِ دین بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اس نظریے کا نام ناصبیت ہے—ایک ایسی ناصبیت جو اپنے نام بدل سکتی ہے، اپنے چولے اور ملبوسات تبدیل کر سکتی ہے، اپنے منبر اور مسندیں بدل سکتی ہے، مگر اپنی اصل حقیقت کبھی نہیں بدل سکتی: یعنی اہلِ بیتِ رسولؑ سے عداوت اور ظلم و ستم کا مسلسل دفاع۔

Social Media: Share