LogoDars e Mahdi ATFS

History

Fadak: The Dispute - Lady Fatima’s (sa) Rightful Estate P3

The article quotes the passage beginning “Balā, kānat fī aydīnā Fadak” (“Yes, Fadak was in our possession”), associated with Letter 45 in commonly used editions of Nahj al-Balagha. Numbering and commentary may vary between editions.

Read article
Fadak: The Dispute over Lady Fatimah al-Zahra’s (sa) Rightful Estate

اصطلاح ’’رافضی‘‘ کی اصل: ایک تاریخی اور فکری جائزہ

’’رافضی‘‘ کوئی قرآنی یا نبوی اصطلاح نہیں بلکہ بنو امیہ کے دور میں درباری مفتیوں اور مفاد پرست ملاؤں کا گھڑا ہوا ایک تحقیر آمیز لیبل ہے، جسے اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں کو بدنام کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ماضی کے ان درباری عناصر کے فکری وارث آج بھی سامراجی مفادات کی خدمت اور امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف ہیں۔ کسی پر توہین آمیز القاب چسپاں کرنے یا گالی دینے سے نہ تو کسی کے عقائد باطل ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی دلوں سے اہلِ بیتؑ کی محبت مٹائی جا سکتی ہے۔ شیعانِ علیؑ کی اصل شناخت ان کا کردار، پختہ عقیدہ اور اہلِ بیتِ رسولﷺ سے لازوال محبت ہے۔ حق کو سمجھنے کے لیے بغض، تعصب اور طعن و تشنیع کے بجائے دلیل، انصاف اور غیر جانبدارانہ تحقیق کی ضرورت ہے۔

مقالہ دیکھیں
اصطلاح ’’رافضی‘‘ کی اصل: ایک تاریخی اور فکری جائزہ

The Origins of the Term "Rafidi": A Historical and Polemical Critique

The term "Rafidi" has no Quranic or prophetic basis; it was historically manufactured by court-aligned clerics to malign the followers of the Ahl al-Bayt (AS) and legitimize state tyranny during the Umayyad era. This legacy of sectarian slander persists today among opportunists who align religious decrees with imperialist interests rather than divine truth. However, weaponizing derogatory labels cannot invalidate faith, refute reasoned argument, or diminish devotion to the Prophet’s Household. Ultimately, sincere religious discourse demands evidence, justice, and critical inquiry over slurs and fabricated prejudice.

Read article
The Origins of the Term "Rafidi": A Historical and Polemical Critique

The Tragedy of Fadak: Historical Context, Claims & Arguments P2

The dispute over Fadak centers on the confiscation of the valuable estate and its adjoining orchards from Lady Fatima al-Zahra by the caliphal authorities following the Prophet’s passing. Although she had held direct possession of the land as a divine gift and utilized its revenues for charitable relief, her claim was challenged and the testimonies of Imam Ali and Umm Ayman were dismissed. In response to the assertion that prophets leave no inheritance, Lady Fatima delivered her historic sermon, drawing upon explicit Quranic verses detailing prophetic succession to defend her rightful claim and dismantle the legal justification used to dispossess her.

Read article
The Tragedy of Fadak: Historical Context, Legal Claims, and Quranic Arguments

فدک کی درد بھری روداد حصہ 2

املاکِ فدک کی منتقلی، تحصیل، غصب، مقدمہ دلائل جرح، گواہ، ثبوت اور معتبر کتب تاریخی حوالاجات پر مشتم ایک بصیرت سے بھر پور مضمون جو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کے ہوا کیا تھا؟

مقالہ دیکھیں
Tragedy of Fadak

हज़रत फ़ातिमा ज़हरा (स.): उनकी इस्मत और फ़दक का मामला

यह लेख क़ुरआनी आयतों और पैग़म्बरी हदीसों की रोशनी में हज़रत फ़ातिमा ज़हरा (स.) की इस्मत, सच्चाई और बुलंद मक़ाम को बयान करता है। इसमें फ़दक की ऐतिहासिक पृष्ठभूमि, पैग़म्बर-ए-इस्लाम (स.) द्वारा हज़रत फ़ातिमा (स.) को इसके दिए जाने और इसकी मिल्कियत के हक़ से जुड़ी रिवायतों का ज़िक्र है। लेख रसूले ख़ुदा (स.) के इंतिक़ाल के बाद फ़दक के मामले में पेश आने वाले घटनाक्रम को हज़रत फ़ातिमा (स.) की ज़िंदगी के दर्दनाक अध्यायों में से एक के रूप में प्रस्तुत करता है

Read article
Lady Fatima al-Zahra (SA) Her Infallibility and the Case of Fadak

Lady Fatima al-Zahra (SA): Her Infallibility and the Case of Fadak P1

This article explores the infallibility, truthfulness, and exalted status of Lady Fatima al-Zahra (SA) in the light of Quranic verses and Prophetic traditions. It examines the historical background of Fadak, its reported transfer to Lady Fatima by the Prophet Muhammad (PBUH), and the accounts concerning her right to its ownership. The article highlights the events surrounding Fadak after the Prophet’s passing as one of the most painful chapters in Lady Fatima’s life

Read article
Lady Fatima al-Zahra (SA) Her Infallibility and the Case of Fadak

جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ درجہ عصمت پر فایز حصہ 1

یہ مضمون حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت، صداقت اور عظمت کو قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں بیان کرتا ہے۔ اس میں فدک کی تاریخی حیثیت، رسولِ خدا ﷺ کی جانب سے حضرت فاطمہؑ کو اس کی واگذاری، اور آپؑ کے حقِ ملکیت سے متعلق واقعات و روایات پیش کی گئی ہیں۔ مضمون اس امر پر زور دیتا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کے وصال کے بعد فدک کے معاملے میں حضرت فاطمہؑ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات آپؑ کی زندگی کے دردناک ابواب میں سے ہیں۔

مقالہ دیکھیں
Lady Fatima al-Zahra (SA) Her Infallibility and the Case of Fadak

یمن: ایمان اور حکمت کی سرزمین — اور نجد کا کیا؟

یہ اقتباس صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کی روشنی میں یمن اور نجد کے درمیان تقابل پیش کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ یمن کی نرم دلی، ایمان اور حکمت کی تعریف فرمائی، ان کی سرزمین کے لیے برکت کی دعا کی اور حوضِ کوثر پر انہیں ترجیح دینے کی بشارت دی۔ اس کے برعکس، جب نجد کے لیے دعا کی درخواست کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں فتنوں، زلزلوں اور شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی پیشگوئی فرمائی۔ مجموعی طور پر یہ متن نبوی ارشادات کی روشنی میں یمن کی تاریخی اور روحانی فضیلت کو واضح کرتا ہے۔

مقالہ دیکھیں
یہ اقتباس صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کی روشنی میں یمن اور نجد کے درمیان تقابل پیش کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ یمن کی نرم دلی، ایمان اور حکمت کی تعریف فرمائی، ان کی سرزمین کے لیے برکت کی دعا کی اور حوضِ کوثر پر انہیں ترجیح دینے کی بشارت دی۔ اس کے برعکس، جب نجد کے لیے دعا کی درخواست کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں فتنوں، زلزلوں اور شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی پیشگوئی فرمائی۔ مجموعی طور پر یہ متن نبوی ارشادات کی روشنی میں یمن کی تاریخی اور روحانی فضیلت کو واضح کرتا ہے۔

ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنے والو! پہلے اپنی تاریخ پڑھ لو

ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنا تاریخی حقائق اور علمی دیانت کے صریح منافی ہے، کیونکہ یہ خطہ عہدِ رسالت سے لے کر قرونِ وسطیٰ تک اسلامی علوم کا عظیم مرکز رہا ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ کی قربتِ نبوی سے لے کر صحاحِ ستہ کے ائمۂ حدیث، فقہاء اور مفسرین (جیسے غزالی، رازی اور طبری) تک، اسلامی ورثے کی تشکیل میں اس سرزمین کا کردار بنیادی رہا ہے۔ قرآن کی رو سے فضیلت کا معیار تقویٰ ہے نہ کہ نسل یا آباؤ اجداد کا قدیم مذہب؛ لہٰذا سیاسی یا نظریاتی اختلاف کو دلیل کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایک پوری قوم کو صدیوں پرانے متروک مذہب کا طعنہ دے کر جھٹلایا جائے۔

مقالہ دیکھیں
ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنے والو! پہلے اپنی تاریخ پڑھ لو

To Those Calling Iran "Majuus": Read Your Own History First

Labeling modern Iran as "Majuus" disregards centuries of Islamic scholarship and ignores the foundational contributions of the Persian and Khurasanian regions. From the early devotion of Salman al-Farsi to the compilation of the major Hadith corpuses and landmark works in theology and exegesis, this civilization shaped core Islamic heritage. Ascribing a centuries-old pre-Islamic faith to an entire modern population contradicts Quranic principles, which measure honor by piety rather than ancestry. Valid disagreements—whether theological or political—warrant reasoned critique rather than historically inaccurate, derogatory generalizations.

Read article
To Those Calling Iran "Majuus": Read Your Own History First

تاریخِ امت کا تلخ آئینہ: اقتدار کے سائے اور ثقلین کی روشنی

یہ تحریر امتِ مسلمہ کی تاریخ میں اقتدار پرستی اور ثقلین (قرآن و اہلِ بیتؑ) کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتی ہے۔ جہاں ملوکیت اور حکمرانوں نے مذہب کو ظلم، جبر اور خونی فتوحات کے جواز کے لیے استعمال کیا، وہیں اہلِ بیتؑ اور ان کے پیروکاروں نے کربلا کی مانند اصول، عدل اور قربانی کی لازوال تاریخ رقم کی۔ معاصر دور میں ۱۹۷۹ء کے بعد کا ایران اسی نظریاتی مزاحمت اور خود مختاری کا ایک عملی نمونہ پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تحریر کا بنیادی حاصل یہ ہے کہ تاریخ فتوحات اور اقتدار سے نہیں، بلکہ ظلم کے دور میں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے کردار سے یاد رکھی جاتی ہے۔

مقالہ دیکھیں
تاریخِ امت کا تلخ آئینہ: اقتدار کے سائے اور ثقلین کی روشنی

The Bitter Refelection of History: The Shadows of Power and the Light of Thaqalayn

Muslim history reveals a sharp divergence between the corrupting pursuit of political power and the moral path of the Thaqalayn (the Qur'an and the Prophet’s Ahl al-Bayt). While empires routinely weaponized religion to justify tyranny, bloodshed, and conquest, the Ahl al-Bayt and their adherents chose sacrifice, justice, and spiritual steadfastness over worldly compromise—exemplified by Karbala. In the modern era, post-1979 Iran is presented as an ongoing test of whether a nation can maintain this ideological resistance and sovereignty against foreign dominance. Ultimately, history measures greatness not by transient authority or conquered lands, but by where one stood when confronting injustice.

Read article
The Bitter Mirror of History: The Shadows of Power and the Light of Thaqalayn

A Biological Miracle and the Judgment of Maula Ali (A.S)

It is noteworthy that this investigation was done only eighteen years ago with modern technology, which the scientists themselves are not fully familiar with. But no one was aware of this natural phenomenon and the miracle of mother's milk, except the one upon whom the Holy Quran was revealed and who is the heir to this Book.

Read article
A Biological Miracle and the Judgment of Maula Ali (A.S)

شیرِ مادر اور حیاتیاتی تجربہ

قابلِ غور بات یہ ہیکہ یہ تفتیش صرف اٹھارہ سال پہلے کی گئی اور ٹیکنولوجی بھی جدید ہے جس سے خود سائینسدان پوری طرح واقف کار نہیں۔ مگر اس قدرتی مظہر اور شیرِ مادر کے کرشمے سے واقفیّت کسی کو نہ تھی۔ سوائے اس کے کی جس پر قراٰن مجید نازل ہوا اور جو اس کتاب کا وارث ہے۔

مقالہ دیکھیں
Lactating mother of boy and the verdict of Imam Ali according to Quran

امام حسن عسکری علیہ السلام: مختصر حیات اور تابندہ و جاوید پیغام

امام حسن عسکری علیہ السلام اہل تشیع کے گیارہویں امام اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے والد گرامی ہیں، جنہوں نے اپنی مختصر حیات کا بیشتر حصہ سامرا میں عباسی حکومت کی کڑی نظربندی میں گزارا۔ سخت ترین سیاسی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود، آپ نے "نظامِ وکالت" کو منظم کر کے امت کی فکری اور دینی رہنمائی کا سلسلہ بحال رکھا۔ آپ اپنی علمی عظمت، طویل عبادات، اور اعلیٰ اخلاقی کردار کے سبب اپنے معاصرین، حتیٰ کہ اپنے نگرانوں اور غیر مسلموں میں بھی بے حد محترم تھے۔ آپ کا سب سے اہم تاریخی کارنامہ اپنے فرزند کی ولادت کو محفوظ رکھ کر منصبِ امامت کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا، جس کے بعد ۲۶۰ ہجری میں آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

مقالہ دیکھیں
امام حسن عسکری علیہ السلام: مختصر حیات اور تابندہ و جاوید پیغام

Imam Hasan al-Askari (peace be upon him): A Brief Life and an Everlasting Legacy

Imam Hasan al-Askari (peace be upon him), the eleventh Shia Imam and father of Imam al-Mahdi (peace be upon him), spent most of his life under strict Abbasid house arrest in Samarra. Despite intense political suppression, he preserved religious guidance and community unity by establishing a covert network of trusted deputies (Wikalah). Renowned for his deep scholarly intellect, profound spirituality, and exemplary character, he commanded respect even among his captors and non-Muslims. His ultimate legacy was the discreet safeguarding of his son, ensuring the survival and continuity of the Imamate despite his own martyrdom at a young age.

Read article
Imam Hasan al-Askari (peace be upon him): A Brief Life and an Everlasting Legacy

کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟ (پہلی قسط: دینِ رسولؐ بمقابلہ ہماری خود ساختہ سلطنتیں)

یہ اقتباس اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا بنیادی مقصد علاقوں کی تسخیر یا ملوکیت کا قیام نہیں، بلکہ انسانیت کی اخلاقی، فکری اور روحانی اصلاح تھا۔ قرآنی تعلیمات، صلحِ حدیبیہ اور فتحِ مکہ کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کی حقیقی فتح جبر و اقتدار کے بجائے امن، انصاف اور دلوں کی تبدیلی میں مضمر ہے۔ لہٰذا، بعد کی تاریخ میں ہونے والی عسکری توسیع کو دین کا اصل مقصد نہیں بلکہ محض مسلمانوں کے تاریخی واقعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آخر میں اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے، جنہوں نے دین کی بقا کسی بادشاہت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ علم، اخلاق اور بے مثال قربانیوں کے ذریعے یقینی بنائی۔

مقالہ دیکھیں
کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟ (پہلی قسط: دینِ رسولؐ بمقابلہ ہماری خود ساختہ سلطنتیں)

Did Islam Come for Conquest and Imperialism? (Part I: The Religion of the Prophet vs. Our Fabricated Empires)

The article challenges the conflation of Islamic principles with imperial expansion, arguing that the Prophet Muhammad's primary mission was the moral and spiritual transformation of humanity rather than territorial conquest. Drawing directly from the Qur'an, the author emphasizes that authentic victory is rooted in justice, compassion, peace, and voluntary conviction, as demonstrated by the Treaty of Hudaybiyyah and the bloodless entry into Mecca. Consequently, the rapid post-prophetic political expansions should be evaluated as secular historical events rather than inherently sacred acts of faith. Ultimately, the text presents the model of the Ahl al-Bayt, who preserved the essence of Islam through ethical integrity, intellect, and profound personal sacrifice rather than the pursuit of dynastic empire.

Read article
Did Islam Come for Conquest and Imperialism? (Part I: The Religion of the Prophet vs. Our Fabricated Empires)

روایات کا یہ تفاوت کیوں؟

یہ اقتباس حضرت علیؑ (۳۳ سالہ طویل رفاقت کے باوجود صرف ۵۸۶ احادیث) اور ابو ہریرہ (تین سالہ صحبت کے دوران ۵۳۷۴ احادیث) سے منسوب روایات کے عددی فرق پر سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے۔ حدیثِ "مدینۃ العلم" کے تناظر میں مصنف کا مؤقف ہے کہ یہ نمایاں تفاوت محض کوئی اتفاقی امر نہیں ہو سکتا۔ تحریر عالمِ اسلام کو دعوتِ فکر دیتی ہے کہ وہ محض اعداد و شمار پر اکتفا نہ کرے، بلکہ ان تاریخی و سیاسی عوامل کا تنقیدی جائزہ لے جن کے تحت احادیث کی ترسیل کے مخصوص راستے اپنائے گئے اور دیگر کو محدود کیا گیا۔

مقالہ دیکھیں
روایات کا یہ تفاوت کیوں؟

33 Years vs. 3 Years: Decoding the Disparity in Hadith Narrations

The passage raises a critical inquiry into the substantial numerical gap between hadith attributed to Imam Ali (approximately 586 across roughly 33 years of lifelong companionship) and Abu Huraira (5,374 across three years). Highlighting the prophetic declaration naming Ali as the "Gate of Knowledge," the author argues that such a disparity cannot be dismissed as mere coincidence. Instead, it urges the Muslim world to look beyond the raw numbers and examine the historical and sociopolitical factors that shaped which channels of transmission flourished and which were marginalized.

Read article
33 Years vs. 3 Years: Decoding the Disparity in Hadith Narrations

روایتوں کا فرق یا تاریخ کا موڑ: ۳۳ سال بمقابلہ ۳ سال

یہ تحریر احادیث کے ذخیرے میں راویوں کی روایات کی تعداد کے بڑے تفاوت پر ایک فکری اور تاریخی سوال اٹھاتی ہے۔ حضرت علیؑ نے رسولِ خداؐ کی زیرِ تربیت تقریباً ۳۳ سال کا طویل عرصہ گزارا مگر اہلِ سنت کی کتب میں ان سے صرف ۵۸۶ احادیث مروی ہیں، جبکہ ابو ہریرہ نے محض ۳ سال کی صحبت میں ۵۳۷۴ روایات نقل کیں۔ تحریر اس پرزور نبویؐ فرمان کا حوالہ دیتی ہے جس میں علیؑ کو علم کا دروازہ کہا گیا ہے، اور سوال کرتی ہے کہ اس درِ علم تک امت کی رسائی اتنی محدود کیوں رہی۔ مصنف کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اعداد کے پسِ پردہ چھپی تاریخ اور روایتوں کے بہاؤ پر سنجیدگی سے غور کریں۔

مقالہ دیکھیں
روایتوں کا فرق یا تاریخ کا موڑ: ۳۳ سال بمقابلہ ۳ سال

The Gate of Knowledge and the Silence of History

The passage raises a critical inquiry regarding the stark disparity in Hadith transmission within mainstream records. Imam Ali spent roughly 33 years in close companionship with the Prophet yet is attributed only around 586 narrations, whereas Abu Huraira, whose companionship spanned roughly three years, is credited with 5,374. Citing the Prophet’s tradition designating Ali as the "Gate of Knowledge," the text questions whether this discrepancy was mere coincidence. It ultimately urges Muslims to look beyond raw numbers and critically examine the political and historical forces that shaped the preservation and transmission of prophetic knowledge.

Read article
The Gate of Knowledge and the Silence of History

انقلاب کا بیدارگر، مگر آخری میزان نہیں

ڈاکٹر علی شریعتی ایرانی انقلاب کے ایک اہم فکری بیدارگر تھے، جنہوں نے اپنی پرکشش تحریروں اور "سرخ شیعت" کے انقلابی نظریے کے ذریعے نوجوانوں کو اسلام کے انقلابی و سماجی شعور سے روشناس کرایا۔ وہ روایتی حوزوی عالم نہیں تھے، اس لیے ان کے بعض افکار علمی و نظریاتی نقد کی زد میں بھی رہے جن کی تصحیح شہید مطہری جیسے اکابرین نے کی۔ شریعتی نے جمود کے شکار ذہنوں کو بیدار کر کے سوال اٹھانے کا حوصلہ بخشا، مگر انقلاب کو عملی اور شرعی قیادت امام خمینی نے فراہم کی۔ حقیقت پسندانہ تجزیے کا تقاضا ہے کہ شریعتی کو نہ تو حرفِ آخر مانا جائے اور نہ ہی ان کے عظیم تاریخی و انقلابی کردار کو نظر انداز کیا جائے۔

مقالہ دیکھیں
انقلاب کا بیدارگر، مگر آخری میزان نہیں

The Awakener of the Revolution, Yet Not Its Final Measure

Dr. Ali Shariati served as the intellectual catalyst of the Iranian Revolution, transforming Islam into a dynamic, anti-imperialist language of social justice for an alienated, modern generation. While not a traditional jurist or seminary scholar, his charismatic sociology and concept of "Red Shi'ism" awakened critical thought and mobilized mass resistance against the Shah's autocracy. His work, however, was meant to awaken rather than serve as the final theological or institutional authority. The revolution ultimately required Imam Khomeini's political and religious leadership and Ayatollah Motahhari's scholarly rigor to translate that awakened consciousness into a lasting, structured reality.

Read article
The Awakener of the Revolution, Yet Not Its Final Measure

نبیِ رحمتؐ کی امت اور خون آلود تاریخ ؟

دوسری قوموں کے ظلم پر حیرت ہوتی ہے، لیکن اپنی تاریخ کے ظلم پر شرمندگی ہوتی ہے؛ کیونکہ ہمارے پاس ظلم سے بچنے کے لیے صرف نظریہ نہیں تھا، ہمارے سامنے خود نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری زندگی موجود تھی۔

مقالہ دیکھیں
Adventures of Yazeed

یزید: ایک خونی میراث

یزید کا کردار صرف ایک سیاسی حکمران کا نہیں بلکہ ایک ایسی خونی میراث کا نمائندہ ہے جو قدیم دشمنی، اقتدار کی سیاست اور ظلم و بربریت سے بھری ہے۔ کربلا نے یہ ثابت کیا کہ جسمانی طاقت سے زیادہ حق اور انسانیت کا پیروکار نام تاریخی طور پر بلند ہوتا ہے۔ درحقیقت، یزید کے لیے سب سے بڑی تذلیل کربلا کی یادوں اور امام حسینؑ کے نام کی عظمت ہے۔

مقالہ دیکھیں
Yazeed: A Cursed-Caliph of Bani Umaiyya

نو (9) ربیع الاول حقیقت کیا ہے؟

حقیقت یہی ہے کہ ۹ ربیع الاول کو تاریخ کے غیر ثابت شدہ دعووں کا دن بنانے کے بجائے امامِ زمانہ علیہ السلام کی معرفت، ولایت اور انتظار کا دن بنایا جائے۔ یہی خوشی کو شعور و بصیرت دیتی ہے، عقیدے کو عمل سے جوڑتی ہے اور ایک تاریخی مناسبت کو زندہ روحانی پیغام میں بدل دیتی ہے۔

مقالہ دیکھیں
نو (9) ربیع الاول حقیقت کیا ہے؟ (9 Rabiul-Awwal-Haqeeqat-Kya-Hai?

خطیب اعظم مولانا سیدمحمد دہلوی مرحوم: حیات و خدمات

قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد اور علمِ کلام سے گہری دلچسپی نے آپ کی شخصیت کو محض ایک خطیب تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ آپ ایک صاحبِ مطالعہ عالم اور صاحبِ فکر رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ 1943ء میں ادارہ تفسیر القرآن کی اہمیت کے پیش نظر دہلی سے رام پور تشریف لے گئے اور تقریباً سات برس وہاں قیام کیا۔

مقالہ دیکھیں
خطیب اعظم مولانا سیدمحمد دہلوی مرحوم حیات و خدمات

واقعۂ کربلا اور قاتلانِ امام حسینؑ, اہلِ سنت کی معتبر کتب میں

امام حسینؑ نے اپنے عمل سے سکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا ظلم کی تائید ہے، جبکہ حق کی خاطر قربانی دینا انسانیت کی معراج ہے۔ اگر اقتدار کے سامنے جھک جانا ہی کامیابی ہوتی تو حسینؑ بیعت کر لیتے، لیکن آپؑ نے ثابت کیا کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔

مقالہ دیکھیں
Imam Husain - Saarallah wabnas Sareh Al vitral Mavtoor

شکستہ پہلو زہرا ع اور تنہا علیؑ

علیؑ نے کچھ کہنا چاہا،مگر الفاظ ساتھ نہ دے سکےصرف ایک آنسو گرااور زمین نے گواہی دی،کہ یہ آنسو،شرافت بشریت کا سب سے مقدس قطرہ ہے۔پھر خاموشی چھا گئی—ایسی خاموشی کہ فرشتوں کے پر بھی ساکت ہو گئے۔

مقالہ دیکھیں
شکستہ پہلو زہرا ع اور تنہا علیؑ

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا۔۔

مگر جب وہ رسول ص آگیے تو وہی یہودی جو اتنی مدت سے انتظار کررہے تھے وہی رسول ص کی دشمن ہو گیے۔ جن اولادوں کو طاقتور سمجھکر اسکی حفاظت کرتے رہے کہ وہ رسول کا ساتھ دینگے وہی اولادیں رسول خدا کے مقابلے پر آگیں جیسے مرحب و عنتر وغیرہ ۔۔۔۔۔

مقالہ دیکھیں
خیبر کا واقعہ سنتے ہیں یہ خیبر Khaiber Fort

خواتینِ کربلا کا تعرف : قسط 2، بی بی ام کلثوم

حضرت ام کلثوم ایک نہایت صابر، متقی اور پرہیزگار خاتون تھیں۔ آپ کی زندگی سادگی، دین کی پاسداری اور مصائب پر صبر و استقامت کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ اگرچہ آپ کی وفات کے سال اور مقام کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں،

مقالہ دیکھیں
خواتینِ کربلا کا تعرف : قسط  2، بی بی ام کلثوم

خواتینِ کربلا کا تعرف : قسط ۱، بی بی ام رباب

جناب ام رباب بنت امرؤ القیس، امام حسین علیہ السلام کی ایک بلند مرتبہ زوجہ تھیں۔ وہ ایک شفیق اور صابر خاتون تھیں جن کا تعلق ایک معزز عرب قبیلے سے تھا۔ آپ کی حیات اور کربلا میں آپ کے کردار کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

مقالہ دیکھیں
Bibi Zainab Speech: Wa kid kaidak, do your mock and try as much you can

When brothers sold their brothers And were sold themselves too!

Genghis Khan deceived the people of Bukhara, dividing them with false promises. Some, driven by greed, betrayed their own brothers and fought alongside the enemy. Once the city was captured, Genghis executed the traitors, calling them untrustworthy. This story warns that those who betray their own will find no loyalty or honor in return.

Read article
 When brothers sold their brothers And were sold themselves too!

جب بھائیوں نے بھائیوں کو بیچ ڈالا — اور خود بھی بک گئے

چنگیز خان نے بخارا کے مسلمانوں کو فریب دے کر آپس میں لڑا دیا۔ بعض لوگوں نے لالچ میں آکر اپنے ہی بھائیوں سے غداری کی۔ مگر فتح کے بعد چنگیز نے انہی غداروں کو بھی قتل کرا دیا، یہ کہہ کر کہ جو اپنے بھائیوں کے نہ ہوئے، وہ ہمارے کیا ہوں گے۔

مقالہ دیکھیں
عنوان: جب بھائیوں نے بھائیوں کو بیچ ڈالا — اور خود بھی بک گئے!

The reason for the name of Arafah(Day of Arafat)

The Day of Arafah, observed on 9th Dhul-Hijjah, is central to Hajj and symbolizes recognition, learning, and divine connection. Its name has various meanings, including knowing Allah, meeting fellow pilgrims, and divine praise by angels. Imam Hussain (AS) offered the profound Supplication of Arafah, filled with gratitude, humility, and spiritual insight. This day teaches us to seek closeness to Allah through worship, reflection, and sincere prayer.

Read article
The reason for the name of Arafah(Day of Arafat)

عرفہ(یوم عرفہ) کے نام کی وجہ تسمیہ

یومِ عرفہ 9 ذی الحجہ کو آتا ہے اور حج کا اہم ترین دن ہے، جس میں وقوفِ عرفات ادا کیا جاتا ہے۔ اس دن کو "عرفہ" کہنے کی مختلف وجوہات ہیں، جن میں پہچان، معرفت، تعارف اور اللہ کی طرف سے بندوں کی تعریف شامل ہیں۔ امام حسینؑ نے اسی دن دعائے عرفہ میں اللہ سے گہرا روحانی تعلق ظاہر کیا، جو عرفان و بندگی کا عظیم نمونہ ہے۔ یہ دن ہمیں اللہ کی قربت، عاجزی اور شکرگزاری کا سبق دیتا ہے۔

مقالہ دیکھیں
عرفہ" (یوم عرفہ) کے نام کی وجہ تسمیہ

Astronomical Innovations and Discoveries by Muslim Philosophers (700 AD to 1400 AD)

The period from 700 AD to 1400 AD was a golden age for both philosophy and astronomy in the Muslim world. The philosophers of this era not only preserved and expanded upon the knowledge of ancient civilizations, but they also made original contributions that helped shape the scientific and philosophical revolutions that followed

Read article
a library filled with lots of books and candles