LogoDars e Mahdi ATFS

شیرِ مادر اور حیاتیاتی تجربہ

Lactating mother of boy and the verdict of Imam Ali according to Quran
Author Sayed Minhal in blue shirt
سید منہال
Sayed Minhal

تمہید:

کچھ دنوں پہلے انٹرنیٹ پر وقت صرف کرتے ہوئے ایک شورٹ ویڈیونے توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ اس ویڈیو میں صناع نے ایک حیاتیاتی موضوع (Biological Phenomenon)سے متعلق پروفیسر کیٹی ہِنڈے (Katie Hinde)کی تجرباتی تجزیے کا خلاصہ تیار کرکے پیش کیاتھا۔

مجھے ذاتی طور پرکریئیٹر کی یہ کوشش لائیقِ صد تحسین محسوس ہوئی، جس کے پیچھے تین وجوہات تھیں۔ پہلی یہ کے یہ علمی موضوع تھا، دوسری یہ کے ویڈیو آے آئی (Artificial Intelligence) کی مدد سے بنایا گیا تھا اور تیسری یہ کہ اس ویڈیو نے امام علی کا ایک عدالتی فیصلہ یاد دلایا جو کے اس ریسرچ سے تعلق رکھتا ہے۔ مولا کا واقعہ پہلے بیان کرتا ہون بعد ازاں حیاتیاتی مظہر بھی پیشِ خدمت رکھوں گا۔

مولا علی کا فیصلہ: مرد کا حصہ عورت سے دوگنا۔

تہذیب الا حکام، جلد 6، صفحہ 361 پر شیخ الطائفہ الطوسی کے باب قضایا والاحکام اور شیخ الصدوق کی من لا یحضرۃ الفقیہ میں مزکور ہے کہ۔۔۔

ایک شخص کے پاس دو کنیزیں (باندیاں) تھیں، اتفاق سے دونوں نے ایک ہی رات بچہ جنا؛ ایک کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور دوسری کے ہاں لڑکی۔

جس کنیز کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تھی، اس نے حسد یا لالچ کی وجہ سے رات کے اندھیرے میں اپنے پاس موجود لڑکی کو دوسری کنیز کے لڑکے سے بدل دیا اور دعویٰ کر دیا کہ: "لڑکا میرا ہے اور لڑکی تیری ہے"۔ دوسری عورت اس پر سخت پریشان ہوئی اور کہنے لگی کہ لڑکا میرا ہے، لیکن کوئی گواہ موجود نہیں تھا۔

مولا علیؑ کی عدالت میں پیشی اور فیصلہ:

جب یہ معاملہ حل نہ ہوا تو یہ معاملہ امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی عدالت میں لایا گیا۔ مولا علیؑ نے الٰہی حکمت اور علم لدنی کے تحت اس کا فیصلہ کس طرح فرمایا مُلاحظہ فرمائیں ۔

  • مولا علیؑ کا حکم:آپؑ نے دونوں عورتوں کو بلایا اور حکم دیا کہ دو یکساں وزن کے برتن لائے جائیں۔ پھر آپؑ نے دونوں ماؤں سے کہا کی دونوں بچوں کی قدرتی غذا اس برتن میں جمع کر کے لے آئیں۔
  • میزان (وزن): آپؑ نے دونوں برتنوں کا وزن پھر سے کروایا۔ جس برتن کا وزن زیادہ (بھاری) نکلا، آپؑ نے لڑکا اس کے حوالے کیا اور جس کا برتن ہلکا تھا، لڑکی اس کی قرار دی۔

فیصلے کی علمی و قرآنی دلیل:

جب آپؑ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپؑ نے قرآن مجید کی روشنی میں حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا اصول بنایا ہے:

"لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ"
(مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے)۔

حوالہ از قرآنِ مجید:

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَـٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اوﻻد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے (سورۃ النسا آیت 11)

چونکہ لڑکے کی پرورش اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے اللہ نے بیٹے کے لئے شیرِ مادر میں غذائیت اور کثافت (Density) بیٹی کی ماں کے مقابلے میں دو گنا (زیادہ بھاری) رکھی ہے۔ اس الٰہی قانون کے تحت وزن سے سچی ماں کا پتا چل گیا۔

کلینیکل ریسرچ؛ پرائمیٹ لیبس، کیلیفورنیا:

سنہ 2008 میں پروفیسر کیٹی ہنڈی,California, Primate Labمیں معلومات کا تجزیہ (Data Analysis)کررہی تھیں. انھوں نے یہ غور کیا کے جو مائیں لڑکے کی پرورش کر رہی تھیں ان کے دودھ میں کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین کی مقدار زیادہ تھی، جبکہ لڑکیوں کی پرورش کرنے والی مائوں میں ایسا نہ تھا۔ کیٹی نے کئی بار اپنے تجزیے پر نظرِ کی مگر ہر بار نتیجے ایک ہی قسم کے تھے۔ کیٹی نے یہ بھی دیکھا کی جو مائیں پہلی دفعہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھیں ان نمونوں میں کورٹیسول کی مقدار زیادہ تھی۔ یعنی زیادہ قوتِ دفعیہ اس شیرِ مادر میں موجود تھا۔ اور انکے بچے جلد پروان چڑھے اور وہ بچے زیادہ حساس ہوئے۔

کیٹی کے مطابق شیرِ مادر صرف عضلات ہی نہیں شخصیتیں بھی تعمیر کر رہا تھا۔

قابلِ غور بات یہ ہیکہ یہ تفتیش صرف اٹھارہ سال پہلے کی گئی اور ٹیکنولوجی بھی جدید ہے جس سے خود سائینسدان پوری طرح واقف کار نہیں۔

مگر اس قدرتی مظہر اور شیرِ مادر کے کرشمے سے واقفیّت کسی کو نہ تھی۔ سوائے اس کے کی جس پر قراٰن مجید نازل ہوا اور جو اس کتاب کا وارث ہے۔

  1. تحریر سید منہال (ابنِ شرر)

    حوالاجات:
    قرآن مجید: سورۃ النسا آیت 11
  2. تہذیب الاحکام، جلد 6، باب قضایا و الاحکام۔ صفحہ 361، شیخ الظائیفہ الطوسی۔
    کلینیکل رپورٹ: https://www.totalhealth.co.uk/blog/total-health-and-biological-power-mothers-milk
Social Media: Share