LogoDars e Mahdi ATFS

سر سید احمد خانؒ: ایک عہد ساز شخصیت، فکری بیداری اور اصلاحی تحریک کا زندہ باب

سر سید احمد خانؒ: ایک عہد ساز شخصیت، فکری بیداری اور اصلاحی تحریک کا زندہ باب
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain

تاریخ کے صفحات پر بعض شخصیات اپنے کارناموں کی وجہ سے جگہ پاتی ہیں، لیکن بعض ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی ایک پورے عہد کی داستان بن جاتی ہے۔ ان کے افکار اپنے زمانے کی حدود سے نکل کر آنے والی نسلوں کے لیے سوال بھی بن جاتے ہیں اور رہنمائی بھی۔ سر سید احمد خانؒ ایسی ہی شخصیت تھے۔ وہ ایک فرد نہیں، ایک فکر؛ ایک نام نہیں، ایک تحریک؛ ایک تعلیمی ادارے کے بانی نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کے ترجمان تھے جس میں مسلمانوں کو اپنی شکست خوردہ حالت سے نکل کر زندگی کی نئی راہوں کا تعین کرنا تھا۔ ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے اس ہندوستان کو سمجھنا ضروری ہے جس میں وہ پیدا ہوئے، اس انقلاب کو سمجھنا ضروری ہے جس نے ان کی آنکھوں کے سامنے ایک سلطنت کا خاتمہ کیا، اور اس عزم کو سمجھنا ضروری ہے جس نے انہیں مایوسی کے اندھیروں میں تعلیم کی شمع روشن کرنے پر آمادہ کیا۔

سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز سادات خاندان سے تھا اور ان کے نسب کا شجرہ ان کی قبر پر بھی درج ہے۔ ان کے بزرگوں کی نسبت ہرات سے ہندوستان آنے کی روایت بیان کی جاتی ہے۔ ان کا خاندان مغلیہ سلطنت کے علمی، تہذیبی اور درباری ماحول سے وابستہ تھا۔ گھر میں عربی و فارسی کی تعلیم، تہذیبی آداب اور علمی روایت کو اہمیت حاصل تھی۔ سر سید نے اسی ماحول میں ابتدائی تربیت پائی، لیکن ان کی شخصیت کی تشکیل محض خاندانی وجاہت اور روایتی تعلیم تک محدود نہ رہی۔ زندگی کے تجربات، زمانے کی تبدیلیوں اور معاشرے کی زبوں حالی نے ان کے اندر ایک ایسی فکری بے چینی پیدا کی جو آگے چل کر ایک عظیم اصلاحی تحریک کا سرچشمہ بنی۔

1838ء میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت اختیار کی۔ عدالتی و انتظامی ذمہ داریوں نے انہیں ہندوستانی معاشرے، سرکاری نظام اور عام لوگوں کے مسائل کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔ وہ صرف واقعات کے مشاہد نہیں تھے، بلکہ ان کے اسباب پر غور کرنے والے انسان بھی تھے۔ ان کی طبیعت میں تاریخ کا شعور، حالات کو سمجھنے کی جستجو اور مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کا رجحان نمایاں ہوتا گیا۔ اسی دوران انہوں نے دہلی کی تاریخی عمارتوں، آثار اور تہذیبی ورثے کا مطالعہ کیا، جس کا نتیجہ ان کی معروف تصنیف ”آثار الصنادید“ کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ کتاب ان کے علمی ذوق، تاریخی شعور اور اپنے شہر کی تہذیبی میراث سے وابستگی کی روشن گواہی دیتی ہے۔

پھر 1857ء کا ہنگامہ برپا ہوا؛ وہ حادثہ جس نے ہندوستان کی سیاسی تاریخ ہی نہیں، اس کے معاشرتی اور تہذیبی وجود کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ مغلیہ اقتدار کا چراغ بجھ گیا، دہلی کی رونقیں اجڑ گئیں، ہزاروں خاندان تباہ ہوئے، اور مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سیاسی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے شدید بحران میں مبتلا ہو گیا۔ سر سید اس وقت بجنور میں تعینات تھے۔ انہوں نے ان ہنگاموں میں انسانی جانیں بچانے کی مخلصانہ کوششیں کیں، لیکن ان کی نگاہ محض فوری واقعات تک محدود نہ رہی۔ انہوں نے اس بنیادی سوال پر غور کیا کہ آخر وہ کون سے اسباب تھے جنہوں نے اتنے بڑے سیاسی تصادم کو جنم دیا، اور اس کے بعد ہندوستانی معاشرے کو ایسی تباہی کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔

ان کے اسی غور و فکر کا نتیجہ ”اسبابِ بغاوتِ ہند“ کی صورت میں سامنے آیا۔ اس تصنیف میں انہوں نے حکومتی غلطیوں، عوامی بے اطمینانی اور انتظامی پالیسیوں کے ان پہلوؤں کی نشان دہی کی جنہیں سمجھنا آئندہ ایسے بحرانوں سے بچنے کے لیے ناگزیر تھا۔ یہ ایک ایسے شخص کی تحریر تھی جو محض جذباتی ردِعمل پر اکتفا نہیں کرنا چاہتا تھا، بلکہ حالات کی تہہ تک پہنچ کر ان سے سبق حاصل کرنے کا متمنی تھا۔ سر سید نے گویا اپنی قوم کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ شکست کے بعد صرف ماتم کرنا کافی نہیں؛ بلکہ اپنی کمزوریوں کا بے لاگ تجزیہ، حالات کی صحیح شناخت، اور مستقبل کے لیے ٹھوس عملی منصوبہ بندی بھی لازمی ہے۔

1857ء کے بعد مسلمانوں کے سامنے ایک کٹھن سوال تھا: اب کیا کیا جائے؟

ایک راستہ ماضی کی عظمت کے تذکروں میں پناہ لینے کا تھا؛ دوسرا حالات سے بدظن ہو کر گوشہ نشینی اختیار کرنے کا؛ اور تیسرا بدلتی ہوئی دنیا کو سمجھ کر اپنی صلاحیتوں کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا۔ سر سید نے تیسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ محض جذباتی نعروں سے اقتدار واپس نہیں آ سکتا، مسلسل شکایتوں سے تعلیمی پسماندگی دور نہیں ہو سکتی، اور صرف ماضی پر فخر کرنے سے روشن مستقبل کے دروازے نہیں کھلتے۔ اس کے لیے علم کی روشنی چاہیے، تنظیمی صلاحیت چاہیے، معاشرتی بیداری چاہیے، اور ایک ایسی نئی نسل درکار ہے جو اپنے زمانے کے تقاضوں کا ہمت سے مقابلہ کر سکے۔

یہی وہ تاریخی موڑ تھا جہاں سر سید ایک سرکاری ملازم سے بلند ہو کر ایک قومی مصلح کی حیثیت اختیار کرنے لگے۔ انہوں نے جدید علوم کی اہمیت کو شدت سے محسوس کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی حقیقی ترقی کے لیے ایک ایسا نظامِ تعلیم ناگزیر ہے جو انہیں سائنسی علوم، جدید زبانوں، تحقیقی شعور اور عملی زندگی کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔ ان کے نزدیک انگریزی تعلیم محض ایک زبان سیکھنے کا نام نہیں تھی، بلکہ اس علمی اور انتظامی نظام تک رسائی کا وسیلہ تھی جس کے ذریعے برطانوی ہندوستان میں معاشی اور پیشہ ورانہ ترقی کے امکانات پیدا ہو رہے تھے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان اس نظام سے بے خبر رہ کر مزید پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دیے جائیں۔

1864ء میں غازی پور میں ”سائنٹفک سوسائٹی“ کا قیام اسی فکر کا ٹھوس عملی اظہار تھا۔ اس ادارے کے ذریعے جدید علوم کی اہم کتابوں کے تراجم، علمی معلومات کی اشاعت اور سائنسی تحقیق کے رجحان کو فروغ دینے کی باقاعدہ کوشش کی گئی۔ 1866ء میں ”علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ“ کا اجرا عمل میں آیا، جس نے علمی، تحقیقی اور سماجی مباحث کو وسیع تر حلقوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان تمام اقدامات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ سر سید کسی وقتی تقریر یا جذباتی اپیل کے ذریعے قوم کو بدلنا نہیں چاہتے تھے؛ بلکہ وہ علم کے مستقل ابلاغ، پائیدار اداروں کی تعمیر، اور اجتماعی ذہن سازی کے لیے ٹھوس وسائل اور بنیادیں فراہم کرنا چاہتے تھے۔

1869ء میں انہوں نے انگلستان کا سفر کیا۔ وہاں کے تعلیمی اداروں، علمی ماحول اور منظم معاشرتی ڈھانچے کا عمیق مشاہدہ کیا۔ اس مشاہداتی سفر نے ان کے تعلیمی منصوبے کو مزید واضح اور پختہ شکل دینے میں مدد دی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ تعلیمی انقلاب صرف کتابوں کے جمع کر لینے سے نہیں آتا؛ بلکہ اس کے لیے منظم ادارے، باصلاحیت اساتذہ، آہنی نظم و ضبط، فکری آزادی اور ایک ایسا سازگار ماحول درکار ہوتا ہے جس میں طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتیں پروان چڑھ سکیں۔ ان کے ذہن میں ایک ایسے عظیم ادارے کا تصور جڑ پکڑ گیا جو مشرقی علمی اقدار اور جدید سائنسی علوم کے مابین ایک مضبوط پُل کا کردار ادا کر سکے۔

1870ء میں انہوں نے تاریخ ساز رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ جاری کیا۔ یہ رسالہ محض مضامین کی اشاعت کا پلیٹ فارم نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کی فکری اور معاشرتی اصلاح کا ایک ہمہ گیر منصوبہ تھا۔ سر سید نے اس کے صفحات کے ذریعے اخلاقی خامیوں، فرسودہ رسم و رواج، تعلیمی غفلت اور منفی سماجی رویوں پر کھل کر بحث کی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے طرزِ زندگی کا ازسرِ نو جائزہ لیں، اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کریں، مفید اور مثبت تبدیلیوں سے خوف زدہ نہ ہوں، اور ہر معاملے میں دلیل و بصیرت کی روشنی میں فیصلے کریں۔ ان کا پختہ ایمان تھا کہ معاشرے کی اصلاح صرف بیرونی حالات کی تبدیلی سے ممکن نہیں؛ اس کے لیے انسانوں کی سوچ، عادات اور ترجیحات کا بدلنا بنیادی شرط ہے۔

بالآخر 1875ء میں علی گڑھ میں ”مدرسۃ العلوم“ کی بنیاد رکھی گئی، جو 1877ء میں ترقی کر کے ”محمڈن اینگلو اورینٹل (ایم اے او) کالج“ کی صورت میں باضابطہ تعلیمی ادارہ بن گیا۔ یہی ادارہ آگے چل کر 1920ء میں تاریخی ”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“ کے روپ میں جلوہ گر ہوا۔ اس طویل اور کٹھن سفر کے پیچھے سر سید کی شبانہ روز محنت، مالی وسائل کی انتھک فراہمی، اہلِ خیر کی حوصلہ افزائی اور شدید ترین مخالفتوں کے باوجود ان کا آہنی عزم کارفرما تھا۔ وہ جانتے تھے کہ نئے ادارے قائم کرنا آسان نہیں، ان کی نگہبانی اور انتظام و انصرام اس سے بھی کٹھن ہے، اور انہیں کسی قوم کی حیات کا مستقل حصہ بنا دینا سب سے بڑی آزمائش ہے۔

علی گڑھ کالج کا تصور اپنے دور کے لحاظ سے بے حد انقلابی تھا۔ اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنا تھا، لیکن سر سید اسے ہرگز مغربی نظام کی اندھی تقلید نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ان کی دلی تمنا تھی کہ مسلمان اپنی تہذیبی و مذہبی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم کے ثمرات سے مستفید ہوں۔ وہ تعلیم کو معاشی خود کفالت، اخلاقی تربیت اور اجتماعی بیداری کے ساتھ لازم و ملزوم سمجھتے تھے۔ ان کی نگاہ میں کسی بھی قوم کا وقار صرف ماضی کے شاندار قصوں سے سلامت نہیں رہ سکتا؛ اسے اپنے حال میں صلاحیت و اہلیت پیدا کرنی ہوتی ہے اور مستقبل میں اپنے لیے ایک باعزت مقام تراشنا پڑتا ہے۔

یہاں سر سید کی شخصیت کا ایک نہایت تابناک پہلو اجاگر ہوتا ہے: انہوں نے ایک ایسی قوم کو علم و شعور کی طرف راغب کیا جو سیاسی زوال، معاشی تباہی اور ہمہ گیر مایوسی کے دلدل میں دھنسی ہوئی تھی۔ انہوں نے ان کے سامنے ایک واضح اور قابلِ عمل راستہ رکھا: علم کی طلب کرو، نئی مہارتیں سیکھو، اپنے تعلیمی ادارے خود کھڑے کرو، اپنے نوجوانوں کی بہترین اخلاقی و فکری تربیت کرو، اور اپنی اجتماعی کمزوریوں کا عملی علاج تلاش کرو۔ ان کی تحریک نے مسلمانوں کے اندر جدید تعلیم سے متعلق سنجیدہ مباحث کو بالکل نئی اور مثبت جہت عطا کی۔ اس تحریک کے ثمرات محض سر سید کی ذات تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کے رفقا، اداروں اور آنے والی نسلوں نے بھی اس مشن کو پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھایا۔

تاہم، سر سید کی حیات کا تفصیلی مطالعہ اس وقت تک ادھورا رہتا ہے جب تک ان کے مذہبی افکار اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے علمی تنازعات کو غیر جانب داری سے نہ سمجھا جائے۔ انیسویں صدی کا ہندوستان شدید فکری اور مذہبی انتشار کے دور سے گزر رہا تھا۔ جدید سائنسی نظریات، مغربی فلسفے کے سوالات، استعماری اقتدار کی موجودگی اور روایتی مذہبی اداروں کے تعطل نے مسلمانوں کے سامنے ایسے پیچیدہ مسائل لا کھڑے کیے جن پر کوئی متفقہ رائے موجود نہ تھی۔ سر سید نے عقل، مشاہدے اور فطری قوانین کے تناظر میں مذہبی نصوص کو سمجھنے اور سمجھانے کی سنجیدہ کوشش کی۔ ان کا ماننا تھا کہ سچے دینی فہم اور خالص علمی و سائنسی حقائق میں کوئی بنیادی ٹکراؤ نہیں ہو سکتا۔

البتہ، ان کی بعض مذہبی تعبیرات نے روایتی علمائے کرام کے ساتھ گہرے اختلافات کو جنم دیا، بالخصوص معجزات کی توجیہ، قوانینِ فطرت کی نوعیت، اور بعض کلامی مسائل کی عقلی تاویلات کے سلسلے میں۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ سر سید بعض مقامات پر نصوص کے متفقہ اور مسلمہ مفاہیم کو ایسی تاویلات کے تابع کر دیتے ہیں جن سے روایتی عقائد کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ وہ مسلمانوں کو جدید سائنسی تشکیک اور الحاد کے طوفان سے بچانے اور ان کے اندر فکری مدافعت پیدا کرنے کی مخلصانہ کوشش کر رہے تھے۔ یہ اختلاف ایک حقیقی فکری کشمکش تھی، جسے نہ تو کسی ایک فریق کی جہالت قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی دوسرے فریق کی مطلق حقانیت کا نام دیا جا سکتا ہے۔

سر سید کی مخالفت کے پیچھے بھی متنوع عوامل کارفرما تھے۔ بعض علما جدید تعلیمی ماحول کے منفی تہذیبی اثرات سے خائف تھے؛ بعض کو ان کے مخصوص دینی نظریات پر اصولی اور علمی اعتراضات تھے؛ جبکہ بعض حلقوں میں یہ مخالفت شدت اختیار کر کے ذاتی عداوت اور تکفیر کے فتوؤں تک جا پہنچی۔ ان تمام رویوں کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جانا چاہیے۔ سنجیدہ علمی اعتراضات کا جواب ہمیشہ ٹھوس دلیل اور منطق سے دیا جاتا ہے، جبکہ ذاتی عناد اور بے سروپا الزامات علمی مکالمے کی روح کو فنا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح، کسی مفکر کی لازوال ملی و سماجی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کے ہر مذہبی یا تفسیری نظریے سے بھی مکمل اتفاق کیا جائے۔

سر سید کے حوالے سے عدل و انصاف پر مبنی متوازن رائے یہی ہے کہ ان کی گراں قدر تعلیمی اور سماجی خدمات کو ان کے اختلافی مذہبی نظریات سے الگ معیار پر پرکھا جائے، اور ان کے مذہبی افکار کا تجزیہ بھی ان کی اصل تحریروں اور دلائل کی بنیاد پر کیا جائے۔ نہ تو ان کے مخالفین کے ہر اعتراض کو تعصب قرار دے کر یکسر مسترد کرنا درست ہے، اور نہ ہی ان پر ہونے والی ہر تنقید کو آنکھیں بند کر کے تسلیم کر لینا انصاف ہے۔ علمی دیانت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ اختلافِ رائے کو سنجیدہ علمی تحقیق کا موضوع بنایا جائے، نہ کہ کسی کی کردار کشی کا ذریعہ۔

ان کی سیاسی بصیرت اور حکمتِ عملی کو بھی اس کے مخصوص تاریخی پس منظر ہی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ 1857ء کے ہولناک سانحے کے بعد سر سید نے حکومتِ وقت سے تصادم کے راستے کے بجائے خاموش تعلیمی جدوجہد اور تدریجی اصلاح کو دانشمندی جانا۔ ان کا پختہ موقف تھا کہ سیاسی اور معاشی طور پر کمزور مسلمانوں کے لیے تعلیمی بحالی اور معاشرتی استحکام ہی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگرچہ ان کے بعض معاصرین نے اس حکمتِ عملی سے اختلاف کیا، مگر ان کے حامیوں نے اسے معروضی حالات کے تقاضوں کے عین مطابق ایک مدبرانہ اور ناگزیر فیصلہ گردانا۔ ان کے سیاسی فیصلوں پر نقد و نظر کی پوری گنجائش موجود ہے، لیکن ان کی ہمہ جہت اور پرخلوص زندگی کو محض انگریز حکومت کے ساتھ تعلقات کے پیمانے پر جانچنا تاریخ کی روح کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔

سر سید کی قیادت کا ایک اور روشن ترین پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنی اس تاریخی تحریک کو کبھی بھی اپنی ذات کے گرد محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اپنے گرد ایک ایسی عبقری جماعت جمع کی جس میں اپنے وقت کے ممتاز ترین اہل علم، نابغۂ روزگار اہلِ قلم اور بے لوث سماجی رہنما شامل تھے، جنہوں نے الگ الگ شعبوں میں شاندار کارنامے انجام دیے۔ خواجہ الطاف حسین حالی، مولانا شبلی نعمانی، ڈپٹی نذیر احمد، نواب محسن الملک، نواب وقار الملک، مولوی ذکاء اللہ اور دیگر اکابرین کی علمی، فکری اور ادبی خدمات اپنی جگہ تاریخ کا درخشندہ باب ہیں۔ یہ تمام شخصیات ہر مسئلے پر سر سید سے سو فیصد متفق نہیں تھیں، مگر علی گڑھ کی تحریک نے انہیں ایک ایسا پروقار فکری پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں تعلیم، علمی تحقیق، سماجی اصلاح اور ملت کے مشترکہ مستقبل پر آزادانہ اور سنجیدہ مکالمہ پروان چڑھ سکا۔

سر سید کی تصانیف ان کے ہمہ جہت علمی ذوق کا آئینہ دار ہیں۔ ”آثار الصنادید“ میں تاریخ اور آثارِ قدیمہ کی تحقیق ہے؛ ”اسبابِ بغاوتِ ہند“ میں سیاسی حقائق کا گہرا بصیرت افروز تجزیہ؛ ”خطباتِ احمدیہ“ میں سیرتِ نبویؐ کا پروقار اور عالمانہ دفاع؛ ”تبیین الکلام“ میں کلامی و تقابلی تفسیری مباحث؛ اور ”تہذیب الاخلاق“ میں فکری و سماجی بیداری کے شاہکار مضامین جلوہ گر ہیں۔ یہ تمام کتب اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ اپنے عہد کے ہر بڑے مسئلے کو ہمہ جہت زاویوں سے پرکھنے اور اس کا مدلل حل پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔

ان کی زندگی کی آخری سانسیں بھی اسی عظیم تعلیمی مشن کے لیے وقف رہیں۔ انہوں نے ذاتی آرام، صحت اور آسائشوں کو قربان کر کے اپنے قائم کردہ ادارے کی ترقی، بقا اور استحکام کے لیے خود کو نچوڑ دیا۔ وہ جانتے تھے کہ انسان فانی ہے، لیکن اگر اس کا لگایا ہوا تعلیمی پودا ایک تناور درخت بن کر مضبوط بنیادوں پر استوار ہو جائے تو اس کا سایہ اور ثمر صدیاں گزرنے کے بعد بھی قائم رہے گا۔ ادارے کی تعمیر کی اصل روح بھی یہی ہے: یعنی ایک ایسا پائیدار کام کر جانا جو بانی کی زندگی کی سرحدوں سے آگے نکل کر نسل در نسل انسانیت کے کام آتا رہے۔

بالآخر، 27 مارچ 1898ء کو سر سید احمد خانؒ نے علی گڑھ میں داعیِ اجل کو لبیک کہا اور اپنے محبوب تعلیمی ادارے کی جامع مسجد کے احاطے میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کا سفرِ حیات ایک ایسے تاریخ ساز مجاہد کا فسانہ ہے جس نے زوال کی تاریک ترین گھڑیوں میں علم کو روشنی کا ذریعہ بنایا، صدیوں کے فکری جمود کو توڑ کر عقل و شعور کی راہ دکھائی، اور مایوس قوم کو منظم جدوجہد کی پٹڑی پر گامزن کیا۔

سر سید کو نہ تو کسی ایسے خیالی مجسمے کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے جس کے ہر قول و فعل کی اندھی تقلید لازم ہو، اور نہ ہی محض تعصب کی عینک لگا کر ان کے تاریخی احسانات اور عظیم الشان خدمات کو جھٹلایا جانا چاہیے۔ وہ اپنے عہد کی پیداوار تھے؛ ان کی شاندار کامیابیاں بھی تھیں، ان کے افکار پر شدید فکری اختلافات بھی سامنے آئے، اور ان کی سیاسی و دینی فکر کے بعض پہلو آج بھی مزید سنجیدہ تحقیق کے متقاضی ہیں۔ لیکن ان تمام آرا کے باوجود، ان کی تعلیمی بیداری کی تحریک، ان کے تعمیر کردہ ادارے، ان کے علمی و ادبی کارنامے اور ان کا پرخلوص اصلاحی عزم تاریخ کا ایک ایسا انمٹ باب ہیں جس کا انکار کسی طور ممکن نہیں۔

سر سید کی حیات کا بنیادی سبق یہ ہے کہ قوموں کی کھوئی ہوئی عظمت محض پرانے دور کی یادوں اور قصے کہانیوں سے بحال نہیں ہوتی؛ بلکہ اس کے لیے حصولِ علم کی سچی لگن، اپنی کوتاہیوں کا بہادری سے اعتراف، نئی نسل کی فکری و اخلاقی نشوونما، مخالفانہ آرا کو سننے اور برداشت کرنے کا جمہوری حوصلہ، اور مستقبل کے لیے ایک ٹھوس، عملی لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں اس چیلنج کو وقت سے پہلے محسوس کیا اور اس کی تکمیل کے لیے اپنا تن، من، دھن وقف کر دیا۔ اگرچہ قوم کی تمام تر کامیابیوں کو محض ایک فرد سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، مگر تاریخ اس سچائی سے انکار نہیں کر سکتی کہ برصغیر کے مسلمانوں کے تعلیمی، فکری اور تہذیبی سفر کو نیا رخ دینے والے سر سید احمد خان ہی تھے۔

تاریخ کے تقاضۂ عدل کا پاس یہی ہے کہ سر سید کو ان کے پورے پس منظر، ان کے دور کے تقاضوں، ان کے افکار اور ان کے بے پایاں کارناموں کے ساتھ پرکھا جائے۔ ان کی قومی خدمات کو دل سے سراہا جائے، ان کے علمی نظریات کا سنجیدہ تنقیدی جائزہ لیا جائے، اور ان کے نقشِ قدم سے وہ ابدی سبق حاصل کیا جائے جو کل بھی سچ تھا اور آج بھی حرفِ حق ہے:

علم کے بغیر قوموں کی بقا ممکن نہیں، دلیل کے بغیر اختلاف بارآور نہیں ہو سکتا، اور عملی جدوجہد کے بغیر اصلاح کا ہر خواب محض ایک سراب ہے۔

یہی سر سید احمد خانؒ کی حیات کا حقیقی پیغام اور ان کی تاریخ ساز میراث کا سب سے درخشندہ پہلو ہے۔

Social Media: Share