LogoDars e Mahdi ATFS

شہادت: موت نہیں، ابدی زندگی

شہادت: موت نہیں، ابدی زندگی
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain

کچھ لوگ مرتے ہیں تو ان کے ساتھ ایک زندگی ختم ہو جاتی ہے؛

مگر جب کچھ لوگ شہید ہوتے ہیں تو صدیاں جاگ اٹھتی ہیں۔

شہادت مرنے کا دوسرا نام نہیں؛ یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں انسان اپنے خون سے اپنے نظریے اور عقیدے کی گواہی دیتا ہے۔ شہید کا جسم تو خاک میں اتر جاتا ہے، مگر اس کا نام، اس کا عزم اور اس کی قربانی ہمیشہ کے لیے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔

سید حسن نصراللہ بھی اسی قافلے کے مسافر تھے۔

جب ان کی شہادت کی خبر آئی تو یوں محسوس ہوا کہ ہم نے محض ایک فرد کو نہیں کھویا، بلکہ ایک ایسی توانا اور گونجدار آواز خاموش ہو گئی جس نے دہائیوں تک مظلوموں کے درد کو زبان دی تھی۔ وہ چہرہ جو کبھی حوصلہ بخشتا تھا، اب صرف تصویروں میں رہ گیا؛ وہ آواز جو کبھی دلوں کو تقویت دیتی تھی، اب یادوں میں گونجتی ہے۔

کبھی انسان خبر پڑھتا ہے…

ایک بار پھر پڑھتا ہے…

اور دل تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔

کیا وہ واقعی رخصت ہو گئے؟

آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، دل بوجھل ہو جاتا ہے، اور سینے میں ایک عجیب سا خلا اتر آتا ہے۔

مگر تبھی، قرآنِ پاک کے یہ الفاظ گونج اٹھتے ہیں:

"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ مت کہو۔ بلکہ وہ تو اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں۔"

تب جا کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک شہید کا سفر موت پر ختم نہیں ہوتا۔

حسن نصراللہ کا جسمانی وجود ہم سے جدا ہو گیا، مگر ان کا عزم باقی ہے۔

ان کی آواز خاموش ہو گئی، مگر ان کا پیغام زندہ ہے۔

وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، مگر ان کی قربانی دلوں میں سانس لے رہی ہے۔

ایک شہید رخصت ہوتا ہے، مگر اپنے پیچھے ایک گہرا سوال چھوڑ جاتا ہے:

تم میرے خون کے ساتھ کیا کرو گے؟

کیا تم صرف آنسو بہاؤ گے؟

یا اس قربانی کو اپنے کردار، اپنے ایمان اور اپنے اعمال کے ذریعے زندہ رکھو گے؟

شہادت کی اصل عظمت اسی میں پنہاں ہے کہ شہید کی دنیاوی زندگی کے اختتام پر بھی، وہ لاتعداد دوسروں کے اندر ایک نئی روح پھونک جاتی ہے۔

سلام ہو ہر اس شہید پر جس نے اپنے خون سے سچائی کی گواہی دی۔

اور سلام ہو شہید، سید حسن نصراللہ پر—

جن کی شہادت نے آنکھوں کو اشکبار، دلوں کو سوگوار، اور تاریخ کو ایک نئے باب کا امین بنا دیا۔

شہید مرتا نہیں…

وہ اپنے خون سے تاریخ کے سینے پر نقش کر جاتا ہے:

حق کے راستے پر چلنے والے شاید کم ہوں،

مگر وہ کبھی ختم نہیں ہوتے

Social Media: Share