LogoDars e Mahdi ATFS

زینبؑ — وقارِ عظمتِ حوّا کا نام ہے!

زینبؑ — وقارِ عظمتِ حوّا کا نام ہے!
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain

کچھ نام تاریخ میں محض لکھے نہیں جاتے، تاریخ ان کے سامنے سر جھکاتی ہے؛ کچھ شخصیات زمانے سے گزر نہیں جاتیں، زمانہ ان کے کردار کی بھٹی سے گزر کر اپنی حقیقی پہچان پاتا ہے۔ جنابِ زینب (سلام اللہ علیہا) ایسا ہی ایک نام ہے: عظمت کا وقار، حریت کا استعارہ، شجاعت کی زندہ تفسیر، اور انسانیت کے شجر کی سربلندی کا وہ فلک بوس مینار جس کی روشنی میں عورت کی شخصیت کا حقیقی مقام نمایاں ہوتا ہے۔

زینب (علیہا السلام) محض ایک بہن کا نام نہیں؛ وہ ایک پورے عہد کے شعور کی بیداری ہیں۔ وہ محض ایک اسیر خاتون نہیں، بلکہ ظالموں کے ایوانوں کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی حریت کی گرجدار آواز ہیں۔ وہ محض کربلا کی سوگوار نہیں، بلکہ اس کے مقدس پیغام کی امین اور انسانی تاریخ کے ضمیر کی فصیح و بلیغ ترجمان ہیں۔ ان کی عظمت اس میں نہیں کہ انہوں نے بے پناہ مصائب جھیلے؛ بلکہ عظمت یہ ہے کہ مصیبتیں ان کے عزم کو جھکا نہ سکیں۔ ان کی شجاعت کسی شمشیر کی محتاج نہیں تھی؛ ان کی دلیری تو اس حقیقت سے عبارت ہے کہ بغیر تلوار کے بھی انہوں نے باطل کے محلات میں حق کا پرچم سربلند رکھا۔

وہ علی (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں، جن کی پرورش ایک ایسے بے مثال گھرانے میں ہوئی جہاں حق نے کبھی مصلحت کے آگے سر نہ جھکایا، جہاں عزت کا معیار اقتدار نہیں بلکہ اخلاقی کردار تھا، اور جہاں زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اپنے ضمیر کو شکست سے بچائے رکھنا تھی۔ ان کے لہجے میں حیدری جلال تھا، ان کے وقار میں فاطمی رفعت جھلکتی تھی، اور ان کی لازوال استقامت حسینی وفا کا عکس تھی۔ مگر ان کی عظمت کو فقط نسب تک محدود کر دینا ان کے تاریخی مقام کو گھٹانے کے مترادف ہوگا؛ انہوں نے اپنے بے باک عمل کے ذریعے تاریخ پر ان تمام پاکیزہ نسبتوں کے حقیقی جوہر کو آشکار کیا۔

کربلا: جہاں عظمتِ نسواں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا

کربلا میں تلواریں چلیں، نیزے بلند ہوئے، خیمے جلے، پیارے خاک و خون میں تڑپے، اور امام حسین (علیہ السلام) نے راہِ حق میں جان نچھاور کر دی۔ مگر کربلا کا ایک اور میدانِ کارزار بھی تھا—ایک ایسا میدان جہاں الفاظ ہتھیار بنے، صبر ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا، اور اسیری آزادی کی عالمی علامت میں ڈھل گئی۔ اس فکری اور روحانی میدان کی سالارِ کارواں جنابِ زینب (سلام اللہ علیہا) تھیں۔

دنیا نے ایک ایسی خاتون کو دیکھا جس نے اپنے بھائی، بیٹوں، بھتیجوں اور عزیز ترین جانثاروں کی شہادت کا دلدوز کرب سہا۔ لیکن جب وہ میدانِ شہادت کے بعد اٹھیں، تو غم کا طوفان بھی ان کے عزم کو نہ نگل سکا۔ وہ روئیں، مگر حق کو دھندلانے نہ دیا؛ انہوں نے دکھ جھیلے، مگر ظلم کو حقیقت کا چہرہ مسخ نہ کرنے دیا؛ وہ اسیروں کے قافلے کے ساتھ پیدل چلیں، مگر اپنے ضمیر کی حریت پر پہرہ دیا۔

کربلا میں حسین (علیہ السلام) نے اپنے خون سے حق رقم کیا، اور زینب (علیہا السلام) نے اپنے خطبات سے اس حق کو تاریخ کے حافظے میں ہمیشہ کے لیے نقش کر دیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں عورت کا وجود محض رسمی تعریف کا موضوع رہنے کے بجائے انسانی تاریخ کی فیصلہ کن اور انقلابی قوت بن جاتا ہے۔ زینب (علیہا السلام) نے ثابت کر دیا کہ عورت کا کمال محض یہ نہیں کہ وہ خاموشی اور بے بسی سے المیے برداشت کرے؛ بلکہ اس کا کمال یہ ہے کہ وہ مصائب کے طوفان میں بھی حق کی پہچان کو زندہ رکھے، آنے والی نسلوں کو شعور بخشے، اور ظلم کو خاموشی کی پناہ گاہ فراہم نہ ہونے دے۔

دربارِ شام: جسم کی اسیری، کردار کی حریت!

شام کا دربار شان و شوکت سے سجا تھا اور اقتدار اپنی رعونت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ یزید کے سامنے اسیرانِ کربلا کا وہ قافلہ موجود تھا جسے وہ اپنی فتح کی علامت سمجھ رہا تھا۔ مگر اقتدار کی اندھی آنکھیں یہ دیکھ نہ پائیں کہ ان قیدیوں میں ایک ایسی باوقار ہستی بھی موجود ہے جس کی جرأت تخت کی ظاہری بلندی سے کہیں بلند تر ہے۔

جنابِ زینب (سلام اللہ علیہا) نے اپنے خطبے سے دربار کے پورے ماحول کو بدل کر رکھ دیا۔ قرآن کی تابناک روشنی میں انہوں نے جابرانہ اقتدار کے تکبر کو پاش پاش کر دیا اور واضح کیا کہ ظالم کو مہلت ملنا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہوتا، اور نہ ہی وقتی غلبہ سچائی کا ثبوت ہے۔

ان کے تاریخی خطبے کے وہ الفاظ فضا میں گونجے:

"تو جو مکر کرنا چاہتا ہے کر لے، اپنی پوری کوشش بروئے کار لے آ، اور اپنی ساری طاقت جھونک دے؛ بخدا! تو ہمارے ذکر اور یاد کو کبھی مٹا نہیں سکے گا!"

یہ ایک ایسی خاتون کی بے باک للکار تھی جس کے سامنے دنیاوی جبر کے تمام مظاہر موجود تھے، مگر جس کا دل ذرہ برابر بھی مرعوب نہ ہوا۔ ان کے خطبے نے ثابت کیا کہ جب انسان کا ضمیر زندہ ہو، تو لوہے کی زنجیریں بھی سچائی کی آواز کو قید نہیں کر سکتیں۔

یزید کے پاس ظاہری دربار تھا؛ زینب (علیہا السلام) کے پاس ناقابلِ شکست دلیل تھی۔ اس کے پاس جبر کا اقتدار تھا؛ ان کے پاس بے داغ کردار تھا۔ اس کے پاس وقتی تسلط تھا؛ ان کے پاس وہ ابدی پیغام تھا جسے گردشِ دوراں کبھی مٹا نہیں سکتی۔

حوّا کی بیٹی کا اصل وقار

عورت کی عظمت کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے سیرتِ زینب (علیہا السلام) ایک ایسا آئینہ ہے جس میں کمزوری کی جگہ غیر متزلزل قوت، بے بسی کے بجائے دانشمندی، اور محض خام جذباتیت کے بجائے فکری اور اخلاقی پختگی دکھائی دیتی ہے۔

ان کی حیاتِ طیبہ یہ اعلان کرتی ہے کہ عورت کی خودداری اور وقار دوسروں کے عطا کردہ اعتراف کا محتاج نہیں۔ اس کی عزت اس کے شعور، بلند کردار، عزتِ نفس اور حق کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی سے پھوٹتی ہے۔ وہ خاندان کی محافظ بھی بن سکتی ہے، معاشرے کی رہنما اور معلمہ بھی، تاریخ کی سچی گواہ بھی، اور ظلم و ستم کے سامنے مزاحمت کا استعارہ بھی۔

ان کی عظمت کا ادراک اس میں نہیں کہ عورت پر ظلم ڈھائے جائیں تاکہ اس کے صبر کا امتحان لیا جائے؛ بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ عورت کو ایک مکمل انسان تسلیم کیا جائے، اس کی عقل اور فکری خودمختاری کا احترام کیا جائے، اس کے وقار کا تحفظ ہو، اور اس کی آواز کو حقیر نہ گردانا جائے۔

جنابِ زینب (علیہا السلام) سے حقیقی عقیدت محض زبان سے تعریف کرنے کا نام نہیں؛ بلکہ یہ عورتوں کے حقوق کے تحفظ، ان کی انسانی توقیر کی پاسداری، اور ان کی فکری و اخلاقی آزادی کو تسلیم کرنے سے عبارت ہے۔

جو معاشرہ بھی زینب (علیہا السلام) کی عظمت کا دم بھرتا ہے، اسے اپنے رویوں اور کردار میں بھی اس عظمت کی جھلک پیدا کرنی ہوگی۔ اگر زبان پر زینب (علیہا السلام) کا نام ہو اور عملی زندگی میں عورت کی تحقیر، تو عقیدت ابھی اخلاق کا حصہ نہیں بن سکی۔ اگر مجالس میں ان کی بہادری کے قصیدے پڑھے جائیں لیکن گھروں میں بیٹیوں کے خواب اور حقوق روندے جائیں، تو زینبی پیغام کی روح کو ابھی سمجھا ہی نہیں گیا۔

سچی عزت انصاف سے قائم ہوتی ہے، حقیقی عظمت کردار سے ثابت ہوتی ہے، اور مخلصانہ عقیدت اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے سے پہچانی جاتی ہے۔

زینبؑ: ہر دور کے ضمیر کی آواز

تاریخ کے آئینے میں یزید محض ایک فرد کا نام نہیں؛ وہ اس ظالمانہ ذہنیت کی علامت بن جاتا ہے جو طاقت کو حق، جبر کو کامیابی، اور جبری خاموشی کو رضامندی گردانتی ہے۔ اسی طرح، زینب (علیہا السلام) ہر اس آواز کا ابدی استعارہ بن جاتی ہیں جو جبر کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی جرأت رکھتی ہے۔

جب بھی کسی مظلوم کی آواز دبائی جاتی ہے، زینب (علیہا السلام) کا خطبہ گونج اٹھتا ہے۔ جب بھی حکمران اپنے تکبر میں انسانیت کو فراموش کر بیٹھتے ہیں، ان کا کردار ایک چٹان بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ جب بھی کسی عورت کو کمزور سمجھ کر اس کی قوتِ ارادی کا انکار کیا جائے، ان کی تاریخی استقامت اس باطل گمان کو رد کر دیتی ہے۔

ان کی یاد محض ماضی پر فخر کرنے کا درس نہیں دیتی؛ بلکہ وہ حال کی ذمہ داری اور روشن مستقبل کی تعمیر کا شعور عطا کرتی ہے۔ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا تقاضا یہ ہے کہ حق اور انصاف کے معاملے میں کبھی مصلحت پسندی کا شکار نہ ہوا جائے، بے باکی کے ساتھ مظلوم کا ساتھ دیا جائے، علم و آگہی کو اپنی طاقت بنایا جائے، اور ہر مفاد پر انسانی وقار کو ترجیح دی جائے۔

زینب (علیہا السلام) نے یہ ثابت کر دیا کہ انقلاب ہمیشہ تلوار سے برپا نہیں ہوتے؛ بسا اوقات ایک سچا جملہ شہنشاہیت کے غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے، اور ایک باوقار خاتون پوری انسانی تاریخ کو بیداری اور حریت کا نیا شعور عطا کر جاتی ہے۔

Social Media: Share