تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جب باطل کسی حق کا براہِ راست مقابلہ کرنے کی طاقت کھو بیٹھتا ہے تو وہ حق ہی کے الفاظ کو اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ زبان پر حق کا نعرہ ہوتا ہے، مگر دل میں باطل کا ارادہ۔ الفاظ درست ہوتے ہیں، لیکن ان کا رخ بدل دیا جاتا ہے؛ جملہ سچا ہوتا ہے، مگر اس سے جھوٹ کی خدمت لی جاتی ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب اہلِ بصیرت الفاظ سے زیادہ مقاصد کو دیکھتے ہیں۔
اسی حقیقت کی طرف امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اس وقت اشارہ فرمایا تھا جب خوارج نے “لا حكم إلا لله” کا نعرہ بلند کیا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا: “كلمةُ حقٍّ يُرادُ بها الباطل.”
یعنی یہ بات اپنی جگہ درست ہے، مگر اس سے جو مقصد حاصل کیا جا رہا ہے وہ باطل ہے۔ آج اگر ہم اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالیں تو ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ اچانک یہ نعرہ عام کیا جا رہا ہے کہ “معصوم کی جگہ کوئی غیر معصوم نہیں لے سکتا” اور “غیر معصوم کو معصوم سے نہ ملایا جائے۔”
اس جملے کے صحیح ہونے میں کسی اہلِ تشیع کو ذرہ برابر شبہ نہیں۔ یہ تو ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔ ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام اللہ کی معصوم حجت ہیں، ان کی عظمت و منزلت وحی کی تائید سے قائم ہے، ان کی عصمت، ولایت اور حجیت میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہو سکتا۔ نہ کوئی مرجع، نہ کوئی فقیہ، نہ کوئی عارف، نہ شہید رہبر اور نہ دنیا کی کوئی عظیم ترین شخصیت۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس مسئلے پر پورا مکتبِ تشیع پہلے ہی متفق ہے، اسے اس شدت کے ساتھ کیوں اچھالا جا رہا ہے؟
آخر اس مہم کا مخاطب کون ہے؟
وہ کون سا مرجع ہے جو خود کو معصوم کہتا ہے؟
وہ کون سا فقیہ ہے جو ائمۂ اطہار علیہم السلام کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟
وہ کون سا معتبر عالم ہے جس نے مومنین کے درمیان ایسی بات کی ہے؟
اگر واقعی کوئی ایسا شخص موجود ہے تو اس کا نام لیا جائے، اس کا اصل بیان پیش کیا جائے اور اس کی کھلے لفظوں میں مذمت کی جائے۔ ایسے شخص کی نہ کوئی علمی حیثیت ہے اور نہ دینی اعتبار۔ بلکہ اگر کوئی شخص کسی غیر معصوم کو ائمۂ معصومین علیہم السلام کے برابر قرار دیتا ہے تو وہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے انحراف کا مرتکب ہے، اور ایسے غلو کی ہمیشہ مذمت ہونی چاہیے۔
لیکن اگر حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی منظم فکری رجحان موجود ہی نہیں، اور کچھ غیر ذمہ دار افراد کی بے وزن باتوں کو بنیاد بنا کر ایک نیا محاذ کھڑا کیا جا رہا ہے، تو پھر یہ سوچنا پڑے گا کہ اصل ہدف کچھ اور ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ یہ بحث ایسے وقت میں شدت اختیار کرتی ہے جب پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے شیعہ مرجعیت اور دینی قیادت کی عظمت کا ایک بے مثال منظر دیکھا۔ ایک عظیم شہید رہبر کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ مرجعیت صرف ایک علمی ادارہ نہیں بلکہ امت کی فکری، دینی اور سیاسی بیداری کا محور بھی ہے۔ کروڑوں انسانوں نے دیکھا کہ ایک مرجع کی آواز سرحدوں کی قید میں نہیں رہتی، بلکہ ملتوں کے ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے استعماری طاقتوں کو بے چین کر دیا، کیونکہ انہیں ہمیشہ اس قیادت سے خوف رہا ہے جو صاحبانِ ایمان کو منتشر ہونے کے بجائے متحد رکھتی ہے۔
استعمار خوب جانتا ہے کہ اگر مرجعیت مضبوط رہی تو اہلِ بیت علیہم السلام کا مکتب بھی مضبوط رہے گا، اور اگر مرجعیت کو عوام کی نگاہ سے گرا دیا گیا تو اس امت کو فکری انتشار میں مبتلا کرنا آسان ہو جائے گا۔ اسی لیے کبھی براہِ راست حملہ کیا جاتا ہے اور کبھی ایسے عنوانات تراشے جاتے ہیں جو بظاہر عقیدے کی حفاظت معلوم ہوتے ہیں، مگر ان کا غیر محسوس اثر علماء، فقہاء اور مراجع پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔
اس سارے شور میں سب سے زیادہ نظر انداز کی جانے والی حقیقت یہ ہے کہ جن شخصیت کے نام پر یہ بحث چھیڑی جا رہی ہے، وہ خود اپنی پوری زندگی میں انتہائی عاجزی کا نمونہ تھیں۔ وہ بارہا فرمایا کرتے تھے کہ میرے نام کو ائمۂ معصومین علیہم السلام کے اسمائے مبارکہ کے ساتھ اس انداز میں نہ لیا جائے۔ میں تو ان کے غلاموں، بلکہ حضرت قنبر رضوان اللہ علیہ جیسے وفادار خادم کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہوں۔
جو شخص خود اپنی حیثیت کو اس قدر فروتنی سے بیان کر رہا ہو، اسے ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے برابر قرار دینا اس کی فکر کے ساتھ بھی ظلم ہے اور عقیدۂ تشیع کے ساتھ بھی۔ ایسے جاہلانہ خیالات کی کوئی گنجائش نہیں، اور ایسے لوگوں کو منبر کو فتنہ پھیلانے کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے۔
لیکن اسی کے ساتھ اتنی ہی اہم بات یہ بھی ہے کہ چند غیر ذمہ دار افراد کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر پورے نظامِ مرجعیت کو مشکوک بنانے کی کوشش بھی اتنی ہی خطرناک ہے۔ اگر ایک طرف غلو گمراہی ہے تو دوسری طرف مرجعیت کی تحقیر بھی دین کے بنیادی ستونوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ دونوں انتہائیں اہلِ بیت علیہم السلام کے راستے سے دور لے جاتی ہیں۔
اہلِ تشیع کا عقیدہ ہمیشہ واضح رہا ہے۔ معصوم، معصوم ہے؛ اس کا کوئی بدل نہیں۔ لیکن غیبتِ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ … کے دور میں دین کی حفاظت، شریعت کی تشریح، شبہات کا جواب اور امت کی رہنمائی انہی علماء اور فقہاء کے ذریعے ہوتی ہے جنہیں خود ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنی علمی وراثت کا امین بنایا ہے۔
عن الإمام علي الهادي (عليه السلام) أنه قال: «لولا من يبقى بعد غيبة قائمكم من العلماء الداعين إليه، والدالين عليه، والذابين عن دينه بحجج الله، والمنقذين لضعفاء عباد الله من شباك إبليس ومردته، ومن فخاخ النواصب لما بقي أحد إلا ارتد عن دين الله، ولكنّهم الذين يمسكون أزمة قلوب ضعفاء الشيعة كما يمسك صاحب السفينة سكانها، أولئك هم الأفضلون عند الله (عز وجل)»
اسی حقیقت کو امام علی نقی علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا:
“اگر غیبت کے زمانے میں ایسے علماء باقی نہ رہیں جو لوگوں کو ہمارے قائم علیہ السلام کی طرف بلائیں، دین کا دفاع کریں اور مؤمنوں کو گمراہی سے بچائیں تو کوئی شخص دین پر باقی نہ رہے گا، بلکہ سب گمراہ ہو جائیں گے۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل ہیں۔” 📚 الاحتجاج، ج ٢، ص ٢٦٣/ بحار الأنوار، ج٢، ص٦.
یہ روایت مرجعیت کی بنیاد ہے۔ یہاں علماء کو معصوم نہیں کہا گیا، بلکہ معصوم کے دین کا محافظ کہا گیا ہے۔ ان کی فضیلت ان کی ذاتی حیثیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس امانت کی وجہ سے ہے جو انہیں معصومین علیہم السلام نے سونپی ہے۔
لہٰذا آج امت کو اس مصنوعی کشمکش سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ منبروں کو ایسے موضوعات سے نہیں بھرنا چاہیے جو اختلاف اور بدگمانی کو جنم دیں۔ منبر کا اصل کام اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت بڑھانا، لوگوں کو قرآن و عترت سے جوڑنا، مرجعیت کی صحیح حقیقت سمجھانا اور امت میں شعور پیدا کرنا ہے، نہ کہ ایسے فرضی معرکے کھڑے کرنا جن سے دشمن کے سوا کسی کو فائدہ نہ پہنچے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہر مجلس میں ایک نیا شوشہ چھوڑا اور کوئی نیا نعرہ ایجاد کیا جائے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر دل میں معرفت کا ایک نیا چراغ روشن کیا جائے۔ جب معرفت زندہ ہوگی تو نہ کوئی غلو کرے گا، نہ کوئی توہین کرے گا، نہ کوئی معصوم اور غیر معصوم کے فرق کو بھولے گا، اور نہ ہی کوئی دشمن اہلِ بیت علیہم السلام کی صفوں میں شکوک و شبہات کے بیج بونے میں کامیاب ہو سکے گا۔