محرم الحرام کا چاند افق پر نمودار ہوتے ہی جہاں فضا سوگوار ہو جاتی ہے اور دلوں میں غمِ شبیرؑ کی ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں، وہیں ہر سال کی طرح کچھ مخصوص حلقوں میں ایک روایتی بحث کا بازار بھی گرم ہو جاتا ہے۔
سوال اٹھایا جاتا ہے کہ علماء، ذاکرین، خطباء اور نوحہ خواں حضرات کے لیے مجالسِ عزا کے عوض ہدیہ یا معاوضہ قبول کرنا درست ہے یا نہیں؟
کچھ لوگ بڑے معصومانہ درد اور نام نہاد اخلاص کے لبادے میں یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ امامِ مظلوم کے غم پر دنیاوی مال و زر کی چھاپ لگانا روحِ اخلاص کے منافی ہے؟ بات یہاں رک جائے تو شاید علمی بحث کہلائے، مگر کچھ مصلحینِ قوم تو جذبات کی رو میں اس سے بھی آگے نکل جاتے ہیں اور ذکرِ امام حسینؑ پر ملنے والے جائز ہدیے کو “خونِ حسینؑ کی تجارت” جیسے سنگین اور روح فرسا الفاظ سے تعبیر کر دیتے ہیں۔
بلاشبہ، یہ بھاری بھرکم الفاظ عام مومنین کے نازک جذبات کو پگھلانے اور منبرِ حسینی سے وابستہ شخصیات کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے کافی ہیں، لیکن جب اس جذباتی دعوے کو عقل، شریعت، فقہ اور تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جائے، تو کئی ایسے چبھتے ہوئے سوالات سر اٹھاتے ہیں جن کا سامنا کیے بغیر کوئی بھی منصف مزاج شخص کسی حتمی رائے تک نہیں پہنچ سکتا۔
ہمیں سب سے پہلے اس الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانا ہوگا کہ کیا شریعتِ اسلامی نے ہر قسم کے معاوضے، اجرت اور مالی تعاون کو بذاتِ خود ایک مذموم اور شجرِ ممنوعہ قرار دیا ہے؟
اگر ایسا ہوتا تو قرآنِ مجید حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں محنت اور خدمات کے بدلے اجرت (استئجار) کا ذکر ایک جائز، پسندیدہ اور صالح معاشرتی اصول کے طور پر کبھی نہ کرتا۔
جب سیدنا موسیٰؑ نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں خدمات انجام دیں، تو قرآنِ حکیم نے اس منظر کو یوں محفوظ کیا: ﴿قَالَتْ إِحْدَىٰهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾“ ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا: ابا جان! آپ انہیں ملازم رکھ لیجیے، کیونکہ بہترین شخص جسے آپ ملازم رکھیں وہ ہے جو طاقتور بھی ہو اور امانت دار بھی۔”
(سورۂ القصص، آیت 26)
یہ الٰہی ضابطہ ہمیں صاف بتاتا ہے کہ اسلام انسانی محنت، وقت، صلاحیت اور خدمت کے بدلے ملنے والے جائز معاوضے کو کوئی عیب یا گناہ نہیں سمجھتا، بلکہ امانت داری اور اہلیت کے ساتھ کی جانے والی خدمت کی قدر دانی سکھاتا ہے۔
اب اگر کوئی صاحب کسی خاص دینی خدمت کو اس آفاقی اور عمومی قرآنی اصول سے مستثنیٰ کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں محض جذباتی تقریروں اور فیس بک پوسٹوں کے بجائے قرآن، حدیث یا فقہ سے کوئی ٹھوس شرعی دلیل لانی ہوگی۔ دین صرف جذباتی تاثرات پر نہیں چلتا۔مکتبِ اہلِ بیتؑ کی روشن تعلیمات میں ہمیں دور دور تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ دین کی خدمت کرنے والا انسان اپنے بال بچوں کی بنیادی ضروریات سے بالکل ہی اندھا ہو جائے، یا معاشرے کی طرف سے پیش کیے جانے والے جائز مالی تعاون کو ٹھکرا کر اپنے خاندان کو فاقوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔
ایک طرف اگر ائمۂ اہلِ بیتؑ نے اخلاص، تقویٰ اور للّٰہیت کا درس دیا، تو دوسری طرف معاشی خودداری اور اہل و عیال کے حقوق کو بھی جہاد سے تعبیر کیا۔
رئیسِ مکتب امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمانِ عالیشان ہے:
“جو شخص اپنے اہل و عیال کے لیے روزی حاصل کرتا ہے وہ راہِ خدا میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مانند ہے۔”
(الکافی، ج 5، ص 88)
یہ حدیث اس سوچ پر کاری ضرب ہے جو بال بچوں کی حلال کفالت کو دنیا پرستی سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ معصومینؑ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی صاحبِ قلم یا صاحبِ لسان نے فضائلِ اہلِ بیتؑ کو زندہ رکھا، مصائب کا نوحہ کیا اور معاشرے میں مظلومیت کا پیغام عام کیا، تو ائمہؑ نے نہ صرف ان کی پیٹھ تھپتھپائی بلکہ ان کی مالی معاونت بھی فرمائی۔
تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ جب مشہور شاعر کمیت اسدی نے اپنے لازوال قصائد دربارِ اہلِ بیتؑ میں پیش کیے، تو امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے ان کے حق میں دعائے خیر بھی فرمائی اور ان کی خدمات کو سراہا بھی۔ اسی طرح جب دعبل خزاعی نے امامِ ضامن علی رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں اپنا معروف قصیدہ “مدارس آیات” پڑھا، تو امامؑ نے نہ صرف ان کی تحسین کی بلکہ اپنی چادرِ مبارک کے ساتھ ساتھ ایک خطیر رقم بطورِ ہدیہ عطا فرمائی۔
کیا معاذ اللہ (نقل کفر کفر نباشد) ائمہؑ ان شعراء کے ساتھ کوئی "تجارت" کر رہے تھے؟ ہرگز نہیں۔ یہ دراصل اس محنت، وقت اور قلم کی قدر دانی تھی جو انہوں نے حق کے پرچار کے لیے وقف کیا تھا۔
آئیے ذرا ایک اور بنیادی سماجی نکتہ نظر سے اس معاملے کو دیکھیں۔ ہم خود بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ منبرِ حسینؑ ایک یونیورسٹی ہے، مجلسِ عزا ایک تعلیمی و تربیتی مرکز ہے اور ذکرِ شبیرؑ شعورِ انسانیت کی بیداری کا سب سے بڑا درس ہے۔ انہی مجالس کے سائے میں نسلوں کو نماز، روزہ، اخلاقیات، ایثار، صبر، عدل اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سلیقہ ملتا ہے۔ کتنے ہی ایسے نوجوان ہیں جن کا دامنِ دین منبرِ حسینی کے فیض کی بدولت گناہوں سے بچا ہوا ہے۔
اگر ہم اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ منبرِ حسینؑ ایک عظیم درسگاہ ہے اور خطیبِ حسینؑ اس کا معلم اور مربی ہے، تو پھر میرا سوال اس معاشرے سے ہے کہ:
کیا اس دنیا میں کسی استاد، پروفیسر، کونسلر یا مربی کو اس کی علمی خدمات کے اعتراف میں ملنے والا مشاہرہ یا ہدیہ کوئی عیب ہے؟ کیا دنیا بھر کے اساتذہ کے لیے معاشرے کا تعاون "حقِ خدمت" کہلاتا ہے اور منبرِ حسینی کے معلم کے لیے وہی ہدیہ اچانک “تجارت” بن جاتا ہے؟
یہ دہرا معیار کیوں؟جو عالم یا خطیب سال بھر کتابوں کی گرد چھانتا ہے، تحقیق کرتا ہے، راتوں کو جاگ کر مصائب اور فضائل کا مستند سرمایہ اکٹھا کرتا ہے اور پھر میلوں کا سفر طے کر کے مومنین کی فکری آبیاری کے لیے منبر پر بیٹھتا ہے، اس کی خدمت میں پیش کیا جانے والا ہدیہ کوئی خیرات نہیں، بلکہ اس کی علمی و تبلیغی محنت کا اعتراف ہے۔ یہ مومنین کی محبت اور عقیدت کا وہ نذرانہ ہے جو وہ خادمِ منبر کو پیش کر کے خود کو سبکدوش محسوس کرتے ہیں۔
ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے کہ
وہ عالم یا ذاکر جس نے اپنی پوری جوانی علومِ اہلِ بیتؑ کے حصول میں گھلادی، جس کا اوڑھنا بچھونا ہی کتاب، مطالعہ اور منبر ہے، اگر وہ مومنین کا ہدیہ قبول نہ کرے تو کیا اس کے بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، بیماری کا علاج اور دیگر ضروریاتِ زندگی کسی غیبی دنیا سے پوری ہوں گی؟
اگر ذکرِ حسینؑ پر ہدیہ لینا "تجارت" ہے، تو پھر دینی مدارس کے اساتذہ، مساجد کے ائمہ، مؤذنین، اور بچوں کو قرآن پڑھانے والے اساتذہ کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہوگا؟ کیا ان سب کا کچن اس اعتراض کی زد میں نہیں آئے گا؟ اگر وہاں خاموشی ہے، تو پھر صرف منبرِ حسینؑ ہی کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟
اصل خرابی ہدیہ لینے میں نہیں، نیت کے کھوٹ میں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لوگ ایک روپیہ لیے بغیر بھی صرف سستی شہرت، واہ واہ، اور اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے منبر پر آتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ہدیہ قبول کرنے کے باوجود پوری دیانت، تقویٰ اور خلوص کے ساتھ حق کا پیغام مومنین تک پہنچاتے ہیں۔
اخلاص کا تعلق جیب کے سائز سے نہیں، دل کی گہرائی سے ہے۔ رقم کا ہونا یا نہ ہونا کسی کے مخلص یا غیر مخلص ہونے کا حتمی پیمانہ نہیں ہو سکتا۔ اگر مالی تعاون لینا خلافِ دین ہوتا، تو نہ اجداد سے ہم تک حوزاتِ علمیہ کا نظام پہنچتا، نہ مدارس قائم رہتے اور نہ ہی علومِ آلِ محمدؑ نسل در نسل ہم تک منتقل ہو پاتے۔
ہاں! یہاں ایک تلخ حقیقت کا اعتراف کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ منبرِ حسینؑ کو "بولی" لگا کر دولت سمیٹنے کا ذریعہ بنانا، ریٹ طے کرنا، نمود و نمائش، مال پرستی اور بیجا پُرتعیش فرمائشیں کرنا یقیناً ایک سنگین معاشرتی اور اخلاقی بیماری ہے۔ جہاں کہیں یہ ناسور موجود ہے، اس کی اصلاح اور مذمت ہونی چاہیے کیونکہ منبرِ حسینی پر بیٹھنے والے کا کردار عام انسانوں سے بلند ہونا چاہیے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چند افراد کی اس نرخ بازی اور غلط طرزِ عمل کو بنیاد بنا کر پورے طبقۂ علماء، ذاکرین اور خدامِ عزا کو کٹہرے میں کھڑا کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟ جرم اگر کسی فرد کا ہے، تو بدنام پورے قافلے کو کیوں کیا جائے؟ دنیا کے کس شعبے میں کالی بھیڑیں نہیں ہوتیں؟ کیا چند لٹیرے ڈاکٹروں کی وجہ سے پوری مسیحائی کو گالی دی جا سکتی ہے؟سید الشہداء علیہ السلام نے کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں ہمیں عدل، انصاف، حق گوئی اور غیرت کا درس دیا ہے۔ اسی درس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دوسروں کی نیتوں پر عدالتیں لگانے کے بجائے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ اپنے علمی اختلافات کو دلیل کے دائرے میں رکھیں اور ایسے تند و تیز الفاظ سے گریز کریں جو زندگی بھر دین کی خدمت کرنے والوں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہوں۔
یاد رکھیے! اخلاص کا سرٹیفکیٹ نہ کوئی مقرر جاری کر سکتا ہے، نہ سامع، اور نہ ہی کوئی ناقد۔ اخلاص کا فیصلہ صرف دلوں کے بھید جاننے والا خدا کرے گا۔ ہمیں لوگوں کے اعمال کو شریعت اور دلیل کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، نیتوں پر فتوے صادر کرنے سے بچنا چاہیے، اور کسی کی خدمت کو "تجارت" کہنے سے پہلے اس کے پیچھے چھپی عمر بھر کی محنت، ریاضت اور قربانی کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ کیونکہ منبرِ حسینؑ کا اصل مقصد بازار سجانا نہیں، کردار بنانا ہے؛ یہ کوئی کاروبار نہیں، بلکہ انسان سازی کی ایک مقدس مہم ہے۔