LogoDars e Mahdi ATFS

بچوں کی تربیت میں احساسِ انسانیت اور سخاوت کی اہمیت | وفا عبد الکریم کی غمگین کہانی

Poor girl gets a pair of shoes from her class teacher | A moral story for teaching children about humanity and benevolence, غریب لڑکی اپنی کلاس ٹیچر سے تحفے میں جوتے حاصل کرتی ہے ؔ/ ایک سبق آموز واقعہ جو بچوں کو انسانیت سکھاتی ہے
Maulana Wafa Haider Khan Sahab
مولانا وفا حیدر خان
Maulana Wafa Haider Khan

فلسطین کے ایک سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نیا جوتا ملے گا۔

ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبر حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نیا جوتا دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کو کہا گیا۔

استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجاۓ اور پھر سب کے سامنے ایک ٹکڑا اٹھایا جونہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبد الکریم سب نے تالیاں بجائیں وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا۔ کیونکہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آچکی تھی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔

جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کے احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے۔ جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا “وفا عبد الکریم” ان معصوم بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔

میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملاً سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے۔


ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکوة اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔“

Social Media: Share