LogoDars e Mahdi ATFS

ایران کیسے سپر پاور سے ٹکرا گیا؟

The theme of the poster should follow viral Lego Style Characters shown in the Lego Videos of the west Asian war. Showing Iran VS US
Maulana Wafa Haider Khan Sahab
مولانا وفا حیدر خان
Maulana Wafa Haider Khan

ایران ایک مہینہ پانچ دن سے عالم کفر سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں:

اس وقت تک 40 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی

کھانے پینے کی اشیاء کے لیے اپیل نہیں کی

ادویات کی اپیل نہیں کی

ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے

ایک مہینے جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی جبکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں۔

لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔

بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا۔

جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک ہیں۔

ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ہے۔

یہ سب کیسے ممکن ہوا کہ 47 سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ملک کی عوام پر سکون ہے۔

کیونکہ:

نئے سپریم لیڈر نے ذاتی گھر تک نہیں خریدا نہ خرید سکے

وزراء اور جرنیلوں کے بچوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پابندی ہے۔

حکومتی اراکین اور انتظامیہ بیرون ملک اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے

کسی بھی وزیر یا جرنیل کا ملک سے باہر کوئی دوسرا گھر نہیں ہے۔

سپریم لیڈر محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 18 گھنٹے کام کرتا ہے

کو ایجوکیشن کے نام پر بے غیرتی کے اڈے نہیں ہیں

امریکن یا یورپین سکول کالجز نہیں ہیں

تعلیم مفت ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا جوان انجینئر ؛ پی ایچ ڈی اور کم از کم ایم اے پاس ملے گا۔

رات کی تاریکی میں شب خون مار کر ریٹ نہیں بڑھائے جاتے بلکہ حکومت پہلے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے پھر سپریم لیڈر نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اس لیے سال میں ایک آدھی مرتبہ دو تین پرسنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے وہ بھی ریٹ کے ساتھ سپریم لیڈر کے بجٹ سے عوام کو ریلیف دے دیا جاتا ہے

گھر میں روٹی پکانا منع ہے جس سے خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں یا اجتماعی پروگراموں میں آسانی سے شرکت کر سکتی ہیں۔

ڈیلیوری کیسز فری ہیں بلکہ بچے کی پیدائش پر کم از کم 20000 روپیہ والدہ کے اکاؤنٹ میں گفٹ بھی ٹرانسفر کیا جاتا ہے

علاج میں 70 فیصد حکومت ادا کرتی ہے 30 فیصد مریض

چوری ڈکیتی نہیں ہے

شاہی کلچر نام کی چیز ہے نہ پروٹوکول

بھکاری نہیں ملے گا

بے نمازی ہونا عیب سمجھا جاتا ہے

سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک پولیس قاتل کے گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ وقت اس کی بیوی بچوں کا ہے

جیلیں خالی ہیں اور اگر کسی سے جرم ہو بھی گیا تو اسے جیل میں کام دیا جاتا ہے جس کی سیلری اس کے گھر بھیجی جاتی ہے تاکہ اس کی فیملی بجٹ ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہو۔

امام جمعہ کا مقام گورنر سے بالاتر ہوتا ہے تاکہ انتظامیہ من مانی نہ کر سکے ۔جمعہ کے خطبہ میں انتظامیہ کو وارننگ دے دی جاتی ہے۔

وزراء اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے افسران نماز جمعہ کی پہلی صف میں سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔

چھوٹے بڑے خاندان کا تصور نہیں ہے سادات اور غیر سادات میں پوری قوم تقسیم ہوتی ہے

معلم سر کا تاج ہوتا ہے اسے تھانے یا کچہری میں نہیں بلوایا جا سکتا کیونکہ معلم اور استاد ایسا کام ہی نہیں کرتا۔

نوکر رکھنے کا رواج نہیں ہے

ذہنی طور پر ہر شخص مطمئن اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے

یہ ہے ولایت فقیہ کا ملک جسے ایرانی کہتے ہیں کہ یہ ملک بارہویں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا پیش خیمہ ہے۔

اور ہم نے یہ حکومت نھار دہندہ بشریت کے سپرد کرنی ہے یہ ہمارے پاس امانت ہے اور اس امانت کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔

ان کے اس جذبے اور قربانی اور پھر سچے ایمان کی وجہ سے اس وقت عالم اسلام اور یہاں تک کہ غیر مسلم بھی ان کی تائید کر رہے ہیں۔

اگر ایسی حکومت سپر پاور بن جائے تو دنیا کے غم ختم ہو جائیں گے۔

درحقیقت یہ وہی عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت ہے جس کا پوری دنیا کو صدیوں سے انتظار ہے۔

ہر آنے والا دن مسلمانوں کے لیے ترقی کا سورج کے کر نکلے گا۔

اور پوری دنیا پر مسلمان اور اسلام غالب ا جائے گا۔

با کچھ صبر ؛ برداشت اور متحد ہو جانے کی ضرورت ہے۔

گناہ کرنا چھوڑ دیں

اپنے آپ کو اس عالمی حکومت کے لیے تیار کر لیں جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔

معاشرے میں بھائی چارے کی فضا پیدا کریں۔

منقول

Social Media: Share