LogoDars e Mahdi ATFS

جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ درجہ عصمت پر فایز حصہ 1

Lady Fatima al-Zahra (SA) Her Infallibility and the Case of Fadak
کاظمہ عباس | (Kazma Abbas)
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا درجہ عصمت پر فایز ہیں۔

جناب فاطمہ زہراس۔نبی یا امام نہیں ہیں اس لیے وہ دلیلیں جو نبی اور امام ع کی عصمت کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں اسکا ذکر یہاں نہیں کرناہے. مگر وہ دلیلیں جو مستحکم ہیں اور شہزادی کی عصمت کو با قاعدہ ظاہر کرتی ہیں ان میں آیت تطہیر بہترین آپ کی عصمت پر بہترین دلیل ہے.

وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْاُوْلٰی وَاَقْمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّكٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗؔ اِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَكُمْ تَطْہِیْرًاۢ۔
"اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو، اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ کا یہی ارادہ ہے اے اہل بیت! کہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کرے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے۔"
سورہ احزاب آیت ٣٣

اس آیت کے ذیل میں شیعہ اور سنی تمام علما نے متعدد روایتیں نقل کی ہیں کہ یہ آیت پنجتن پاک کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ جنمیں نمایاں کردار جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا ہے۔ کیوںکہ گھر بھی فاطمہ زہرا کا چادر بھی آپکی اور اس چادر میں جمع ہونے وا لی ہستیاں بھی آپ ہی کے خاص رشتہ دار ہیں اور اللہ رب العزت نے آپ کے ذریعے ہی آپ کے رشتہ داروں کا تعارف بھی کرایا کہ یہ فاطمہ ہے اور اسکا بابا فاطمہ ہیں اور ان کے شوہر فاطمہ ہے اور اسکے بیٹے ۔

خود جناب عایشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول خدا ص نے حضرت علی فاطمہ حسن و حسین ع کو چادر کے نیچے جمع کیا اور فرمایا:

خدایا یہ میرے اہلبیت ہیں میرے حامی و مددگار ہیں ان سے ہر طرح کی نجاست کثافت کو دور فرما اور ہر طرح کی آلودگی سے انھیں پاک و صاف قرار دے‌‌۔

شیعہ مکتبِ فکر میں یہ حدیث حدیثِ کسا کے نام سے مشہور ہے اور غیر شیعی حوالاجات کے طور پر ہمارے دیگر مضامین جو آخر میں لنک کیئے گئے ہیں ملاحظہ فرمائں یا تفصیلی حوالاجات کیلیئے ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب، مناقبِ فاطمۃ الزہرا سلامُ اللہ علیہا دیکھیں۔ جو اردو اور انگریزی زبان میں با آسانی دستیاب ہے۔

اسکے علاوہ شیعہ اور سنی مکتب کی بہت سی کتابوں میں پیغمبر اسلام کی مشہور و معروف حدیث بھی موجود ہے جسمیں حضور ص فرمایا کہ فاطمہ میراجز ہے میرا حصہ ہے میرا ٹکڑا ہے۔ جس نے اسے ناراض کیا اسنے مجھے ناراض کیآ اور جس نے مجھے ناراض کیا اسنے خدا کو ناراض کیا اور خدا کو ناراض کرنے والا مسلمان بھی کہلانے کے قابل نہیں ہو سکتا۔

پیغمبر اسلام کی یہ حدیث جنابِ فاطمہ زہرا کی عصمت پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اگر نعوذ باللہ جنابِ فاطمہ زہرا پر ترک اولیٰ کا شایبہ بھی ہوتا تو ایسی حدیث آپ کی شان میں حضور بیان نہ فرماتے۔ وہ اسلیئے کی جنابِ فاطمہ زہرا کی رضا حضور کی رضا ہے اورحضور کی رضا خدا کی رضا ہے اور جس سے خدا راضی ہو وہ درجہ عصمت پر ہے اس بات میں شک و شبہ کی گنجایش نہیں ہوسکتی۔

خود جناب عایشہ فرماتی ہیں کہ:

میں نے فاطمہ کے والد کے علاوہ کسی اور کو فاطمہ سے زیادہ سچا نہیں پایا۔
بحارالانوار ج۔٤٣ ص ٣٩ح.٤١.

ایک دن کسی سلسلہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عایشہ میں گفتگو ہو رہی تھی اسوقت عایشہ نے کہا: فاطمہ سے دریافت کر لیجیے وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتیں۔

حضرت عائیشہ سے مروی یہ روایت معتبر کتبِ حدیث میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ موجود ہے جس کا اصل عربی متن ہے:

"مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ فَاطِمَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الَّذِي وَلَدَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
ترجمہ:
"میں نے گفتگو (اور سچائی) میں فاطمہؓ سے زیادہ سچا کسی کو نہیں دیکھا، سوائے ان کے والدِ گرامی (رسول اللہ ﷺ) کے"

یہ روایت ابن عبد البر کی کتاب الاستيعاب في معرفة الأصحاب (جلد 4، صفحہ 1897، جدید ایڈیشن)، امام حاکم کی المستدرک علی الصحیحین (حدیث: 4819)، علامہ ذہبی کی سیر اعلام النبلاء (جلد 2، صفحہ 131)، اور ابو نعیم اصفہانی کی حلیة الأولیاء (جلد 2، صفحہ 41) میں پوری سند کے ساتھ تفصیل سے درج ہے۔

یوں تو بہت سی آیتیں اور حضور اکرم کی حدیثیں شہزادی کی عصمت و عظمت کو واضح کرتی ہیں اگرچہ اختصار کے پیش نظر اس مختصر سے مضمون میں ساری دلیلیں نہیں پیش کی جاسکتیں۔ درحالیکہ؛ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ خاتون جو عصمت کبری کے درجے پر فایز ہو انھیں کو دربار خلافت میں مسلمانوں کے درمیان اصحاب رسول ص کے سامنے جھٹلایا گیا مگر دربار خلافت میں کسی کے پاس اتنی جرات نہ تھی کہ خلیفہ وقت کے سامنے جنابِ فاطمہ زھرا کی صدا قت پر کوئی گواہی دیتا۔

یہی وہ صدمہ تھا کہ جنابِ رسولِ خدا کی شہادت کے چند ہی روز بعد ہی بی بی کی حالت یہ تھی کہ سرپر پٹی بندھی رہتی، آنکھوں میں آنسو ہوتے دل میں آگ کے شعلے بھڑکتے رہتے۔

آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ حضور کے انتقال کے فوراً بعد ہی شہزادی کی خوشحال زندگی کاخاتمہ ہوگیا؟

حضور کے انتقال کے بعد ایک ایسا طوفان اٹھاجس نےنہ صرف شہزادی سلامُ اللہ کے سکون کو غارت کیا بلکہ بی بی کا زندہ رہنا تک دشوار ہو گیا۔ آپ سلامُ اللہ حضور کی شہادت کے بعد 70 دن یا 90 دن تک زندہ رہیں مگر اس عالم میں کہ آپکی ہر سانس درد میں ڈوبی ہوئی تھی۔
اب سوال یہ ہےکہ بعد رسول خدا جناب فاطمہ زہرا پر مصیبتوں کے پہاڑ ڈھائے گیے۔ اسکی وجہ کیا تھی؟ ایسا کیا ہوا؟ ایسا کیوں ہوا؟ کیا وجہ تھی کے شہزادی کو مرثیہ پڑھنا پڑا کہ:

صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبُ لَوْ أَنَّهَاصُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا
مجھ پر مصائب ٹوٹے اگر(روشن) دنوں پر ٹوٹتے تو (تاریک) راتوں میں تبدیل ہو جاتے۔
روضة الواعظين و بصيرة المتعظين، ج‏۱، ص: ۷٦

اس کے لیے اہلسنت کے مشہور و معروف دانشمند ابن ابی الحدید معتزلی نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ ایک روایت نقل کی ہے۔ ابن ابی الحدید کتاب میں اس واقعے کو ان الفاظ میں رقم کرتے ہیں:

ابن ابی لحدِید لکھتے ہیں کہ :

سألت علي بن الفارقي مدرس المدرسة الغربية ببغداد فقلت له:
أكانت فاطمة صادقة؟
قال: نعم.

قلت: فلم لم يدفع إليها أبو بكر فدك وهي عنده صادقة؟

فتبسم ثم قال كلاما لطيفا مستحسنا مع أنه كان علويا تشيعا، قال:

لو أعطاها اليوم فدك بمجرد دعواها لعلت إليه غدا في الخلافة، وزحزحته عن مقامه، ولم يكن عنده اعتذار ولا علة، لأنه يكون قد سجل على نفسه أنها صادقة فيما تدعيه أيا كان، من غير حاجة إلى بينة ولا شهود۔

ترجمہ:
میں نے بغداد کے مدرسہ غربیہ کے مدرس علی بن الفارقی سے سوال کیا اور پوچھا:

کیا فاطمہؑ (اپنے دعوے میں) سچی تھیں؟

انہوں نے کہا: ہاں۔

میں نے پوچھا:

تو پھر ابوبکر نے فدک انہیں کیوں نہیں دیا جبکہ وہ ان کے نزدیک سچی تھیں؟

وہ مسکرائے اور انہوں نے ایک لطیف اور خوبصورت بات کہی انہوں نے کہا:

اگر وہ آج انہیں محض ان کے دعوے پر فدک دے دیتے، تو وہ اگلی ہی صبح ان سے خلافت کا مطالبہ کر دیتیں اور انہیں ان کے مقام سے ہٹا دیتیں۔ اور اس وقت ابوبکر کے پاس کوئی عذر یا بہانہ باقی نہ رہتا، کیونکہ وہ خود اپنے خلاف یہ مہر لگا چکے ہوتے کہ فاطمہؑ جو بھی دعویٰ کریں وہ سچی ہیں، اور انہیں کسی گواہ یا ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔"

  • کتاب کا نام:شرح نہج البلاغہ (شرح نهج البلاغة)
  • مصنف: ابن ابی الحدید معتزلی (متوفی 656 ہجری)
  • محل (جلد اور صفحہ): جلد نمبر 16، صفحہ نمبر 284 (یہ محمد ابوالفضل ابراہیم کی تحقیق سے شائع شدہ معروف 20 جلدوں والے ایڈیشن کا حوالہ ہے)۔ کچھ دیگر ایڈیشنز میں یہ جزء نمبر 16، صفحہ 236 پر بھی ملتا ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ یہ فدک کیاتھا۔ کیا فدک ایک معمولی سا باغ تھا؟ اور یہ فدک فاطمہ زھرا کی ملکیت کیسے بنا؟

سب سے پہلے تو فدک کوی معمولی سا باغ نہیں تھا بلکہ فدک وہ زمین تھی جو مدینہ سے دو یا تین دن کی مسافت پر تھی جسکی زیادہ تر آمدنی کھجور سے تھی اور اسکی آمدنی چوبیس ہزار دینار اور ایک قول کے مطابق ستر ہزار دینار جس کاایک دینار ایک مثقال طلای کے برابرتھا۔


اب یہ فدک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ملکیت کیسے بنا؟ دیکھیے فتح خیبر کے بعد اور یہ سب جانتے ہیں کہ خیبر کیسے فتح ہوا اور کسنے خیبر کو فتح کیامولاے کاینات نے خیبر کو فتح کیا جس کے نتیجے میں بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا جو لوگوں میں تقسیم ہوا فدک کے رہنے والے یہودی فتح خیبرسے بہت مرعوب ہوے اور انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ لشکر اسلام سے مقابلہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے لہٰذا انھوں نے پیغمبر اسلام کے ساتھ صلح کرنے میں عافیت سمجھی۔

ان لوگوں نےمصالحت کی شرط پر کہ اگرفدک والوں میں سے کوی یہودی مسلمان ہو جایگا تواپنےمال کا تیسرا حصہ دیکر امان میں ہوگا اور اگر کوی مسلمان نہیں ہوتا توجو کچھ بھی اسکا مال ہےوہ رسول خداکی ملکیت ہو جایگا اسطرح فدک رسول خدا کی ملکیت میں آگیا اور جب فدک رسول اللہ کی ملکیت ہو گیا تو قرآن مجید میں سورہ حشر میں اسکی وضاحت اس طرح کی گئی:

﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔
[ الحشر: 7]

جو چیز بغیر جنگ کے رسول کو ملے اسپر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق ہے وہ مال غنیمت کی طرح مسلمانوں میں تقسیم نہیں ہوگا اور اسطرح پیغمبر اسلام نے فدک کو اپنے قبضے میں لیا یہ روایت بہت سے اہل سنت کے مورخین نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔

جیسے طبری نے اپنی تاریخ میں اور ابن اثیر نے کامل میں اسکی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی مورخین لکھا ہے کہ رسول اسلام نے اپنی حیات میں فدک حضرت فاطمہ زہرا کو عطا کردیا تھا۔
اس عطیہ کو جلال الدین سیوطی جواہلسنت کے مشہورومعروف مفسر ہیں انھوں نے اپنی تفسیر در المنصور میں سورہ اسراء کی سولہویں آیت جسمیں اللہ رب العزت نے قرابت داروں کو انکا حق دیدو کے ذیل میں ابو سعید خدری سے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ اور ذکر کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوتی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور انکو فدک حوالے کر دیا۔

1. مجمع البیان کا اصل عربی متن

"لَمَّا نَزَلَتْ (وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ) دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فَأَعْطَاهَا فَدَكاً"

2. الکافی کی حدیث کا اردو ترجمہ

اردو: امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فدک رسول اللہ ﷺ کی خالص ملکیت (انفال) تھا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اللہ کے حکم پر آپ ﷺ نے فدک کی آمدنی اور ملکیت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو تحفتاً عطا فرما دی۔

اہلِ سنت کے ہم پلہ حوالوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • تفسیر الدر المنثور (علامہ سیوطی): مشہور سنی عالم امام جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر کی جلد 5، صفحہ 273 پر صحابیِ رسول حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جیسے ہی آیت "وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ" نازل ہوئی، نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور فدک کی زمین ان کے سپرد کر دی۔
  • دلائل النبوۃ (امام بیہقی): امام بیہقی نے اپنی کتاب کی جلد 6، صفحہ 320 پر اس واقعے کا تاریخی پس منظر ریکارڈ کیا ہے۔ اس متن کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے الٰہی حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی ہی میں فدک کی آمدنی اور انتظام خاص طور پر حضرت فاطمہؑ کے لیے مخصوص اور معین فرما دیا تھا۔
  • شواہد التنزیل (حاکم حسکانی): حاکم حسکانی نے اپنی کتاب کی جلد 1، صفحہ 438 پر اس آیت کا تفصیلی تفسیری جائزہ پیش کیا ہے۔ وہ واضح طور پر یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں مذکور لفظ "ذِی الْقُرْبٰی" (قرابت داروں) سے مراد براہِ راست اور خصوصی طور پر رسول اللہ ﷺ کے اہل بیتؑ ہیں، جو اس حق پر سیدہ فاطمہؑ کے بنیادی دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔

یہ بات کتب عامہ میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ قرابت داروں کو انکا حق دیدو تو حضور نے جبریل امین سے پوچھاذی القربی کون ہیں اور انکا کیا حق ہے تو جبریل نے کہاکہ خداوند عالم فرماتا ہے کہ ذو القربٰی سے مراد چناب فاطمہ زہرا ہیں اور جاگیر فدک انکا حق ہے۔

اس کے بعد باغ فدک جناب فاطمہ کی ملکیت میں آگیا اور تقریباً تین سال تک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے تصرف میں رہا اس کی آمدنی سے شہزادی غریب و محتاج کی مدد کیا کرتی تھیں۔ کیونکہ انکو اپنی ضرورتوں سے زیادہ دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رہتا تھا انکے یہاں ایثارکا جذبہ ایسا تھا کہ خود بھوکے رہ کر یتیم ومسکین۔ و اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں اور قرآن مجید انکی شان قصیدے پڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔
اب اہل نظر انصاف کا چشمہ لگاکر بتایں کہ جس جایداد پر تین سال تک رسول اسلام کی زندگی میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا قبضہ رہا ہو رسول کے انتقال کے چند ہی روز بعد اسکی بیٹی سے وہ جایداد چھین لی جاے اور جب زہرا سلام اللہ علیہا اپنی جاگیر واپس مانگیں توانکو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی جاے اوران پر مظالم کے پہاڑ توڑے جایں۔۔

سیعلمون الذین ظلمو ای منقلب ویںقلبون

Social Media: Share