LogoDars e Mahdi ATFS

فدک کی درد بھری روداد حصہ 2

Tragedy of Fadak
کاظمہ عباس | (Kazma Abbas)
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas

بسم االلہ الرحمن الرحیم ‌
السلام علیک ابن الزھراء عجل تعالیٰ فرجہ الشریف ۔
فدک کی درد بھری روداد تاریخ اسلام کی بہت اہم کڑی ہے اسکے پس منظر کون سے موارد تھے جسکی بناپر آیت تطہیر کی مصداق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر کو دربار خلافت سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ۔

در اصل خلیفہ وقت اور انکے ساتھیوں کا ایسا منظم منصوبہ تھا کہ فدک کو فاطمہ زہرا سے چھین کر اہلبیت ع کو حکومت اور خلافت کے ساتھ عوام سے دور کردیا جاے اور انکے مقام منزلت وولایت و امامت و احترام کو ختم کر دیا جاے اور ہروہ چیز جس سے وہ عوام کو اپنے قریب کر سکتے تھے اسپر پابندی عاید کردی جاے کیونکہ باغ فدک کوئی معمولی سرمایہ نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ عوالی نام کے سات قطعات اوربھی تھے جو فدک کے نواح میں تھے جسکی آمدنی بہت زیادہ تھی اور اسے ایک یہودی جسکا نام مخریق تھا اسکی ذاتی ملکیت تھی۔

یہ جس وقت مدینہ میں واردہوا تھا اسوقت جنگ احد شروع ہو چکی تھی اسنے آتے ہی سب سے پہلے اسلام قبول کیااوراپنا سارا مال اور زرعی جایداد جس میں سات باغ تھے اور ان زمینوں کو عوالی (جگہ کا نام) کہا جاتا تھا، رسول خداکو ہدیہ کر دیااورجنگ میں شریک ہوا پھر شہید ہو گیا۔ اس کی شہادت کے بعد پیغمبراسلام ص نے ارشاد فرمایاکہ مخریق جنتی لوگوں میں ہے اگر چہ اس نے دو رکعت نماز بھی نہیں پڑھی تھی۔ مگر شہادت نے اسے جنتی بنا دیا۔اس عوالی کو فدک کے ساتھ جمع کرنے کے بعد اس کی آمدنی ستر ہزار طلای مثقال سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

مخیرق یہودی کی شہادت اور باغات کے وقف کا تاریخی پس منظر:

مخیرق کا تعارف اور وصیت: مخیرق مدینہ منورہ کے ایک متمول یہودی عالم اور قبیلہ بنو ثعلبہ (یا بنو نضیر) سے تعلق رکھتے تھے۔ غزوۂ احد (تین ہجری) ہفتے کے دن شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی قوم کو رسول اللہ کی مدد پر ابھارا، لیکن قوم نے ہفتے (سبت) کے مقدس دن کا عذر پیش کیا۔ اس پر مخیرق نے تاریخی جملہ کہا: "تمہارے لیے اب کوئی سبت نہیں ہے"۔ میدانِ جنگ روانگی سے پہلے انہوں نے وصیت کی: "اگر میں آج مارا جاؤں، تو میرا تمام مال اور جائیداد رسول اللہ کے لیے وقف ہے، وہ جہاں چاہیں اس کا استعمال کریں"۔

شہادت اور فرمانِ نبوی: وہ غزوۂ احد میں مشرکین کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب رسول اللہ کو ان کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا: "مخیرق یہودیوں میں سب سے بہتر شخص تھا"۔

سات باغات اور اسلام کا پہلا وقف: مخیرق کی ملکیتی جائیداد فدک کے قریب نہیں، بلکہ مدینہ منورہ کے بالائی علاقے عوالی میں واقع سات انتہائی زرخیز باغات پر مشتمل تھی۔ ان باغات کے نام یہ ہیں: میثب، صافیہ، دلال، حسنی، برقہ، اعواف، اور مشربہ ام ابراہیم۔ رسول اللہ نے ان باغات کو اپنی تحویل میں لے کر غریبوں اور رفاہِ عامہ کے لیے وقف فرما دیا، اور یہ جائیدادیں تاریخِ اسلام کا سب سے پہلا باقاعدہ وقف کہلاتی ہیں

معتبر کتبِ سیرت و تاریخ کے حوالہ جات:

  1. کتاب المغازی (مصنف: امام محمد بن عمر واقدی) — جلد اول (262)۔
  2. السیرۃ النبویۃ (مصنف: ابن ہشام) — جلد 2، 88۔
  3. کتاب الطبقات الکبریٰ (مصنف: امام ابن سعد) — جلد 1، 501۔
  4. تاریخ الرسل والملوک / تاریخ طبری (مصنف: امام محمد بن جریر طبری) — جلد 2، 529۔
  5. الروض الانف فی شرح السیرۃ النبویۃ (مصنف: امام ابو القاسم سہیلی) — جلد 3، 286۔

جائیداد کی منتقلی: آت ذالقربی حقہ

چنانچہ جب رسول اللہ کے پاس یہ سب ملکیت آگیی تو خدا وند عالم نے اس آیہ کریمہ کو نازل کر کے حکم دیاکہ اسے اپنے قرابت داروں کو دیدو سورہ بنی اسراءیل وآت ذالقربی حقہ رسول اسلام نے جبریل امیں سے پوچھا ذالقربی سے مراد کون ہے تو کہا کہ جناب زھرا اس سے مراد ہیں یہ جاگیر فدک فاطمہ کے حوالے کر دیجے حضور جانتے تھے کہ انکے قرابتدارکون ہیں مگر خداکے حکم کا اظہار کرکے یہ بتایاکہ یہ جاگیر میں نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خداکے حکم سے فاطمہ کو دی ہے۔

تفصیلی حوالاجات اس پوسٹ پر موجود ہیں: “جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا درجہ عصمت پر فایز ہیں”
جب یہ ملکیت جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے قبضہ میں آگئی تو چونکہ یہ گھرانہ دنیادار نہیں تھا اس لیے آپ نے اپنی مرضی سے اسکی آمدنی کوغریب ومحتاج لوگوں میں تقسیم کرتی تھیں ۔تقریباتین سال تک اپنے ہاتھوں سے آپ اسکی آمدنی سے لوگوں کی مدد و امداکرتی رہیں اوریہ بات عامہ و خاص کے ساتھ ابن ابی الحدید اورابن حجر مکی کے علاوہ بھی لوگوں نے لکھا ہے اسی بنیادپر جناب زھرا نے فدک کے ساتھ ان تمام باغات اور زراعت پر جو عوالی نامی تھی اس پر اپنے کارندے اور عمال مقرر کیے تھے اورلوگ اسکی آمدنی جمع کرکے فاطمہ زہرا تک پہونچاتے تھے اور بی بی اپنی مرضی سے غریبوں محتاجوں تک پہنچاتی تھیں۔ مگر جب ابوبکر خلافت پر قابض ہو گیے تو سب سے پہلے انھوں نے فدک کے ان عاملوں کو جو جناب فاطمہ زہرا کے تھے ان کو وہاں سے نکال دیا اور فدک اپنے قبضے میں کر لیا۔

جنابِ فاطمہ، حق کے غصب ہونے کا مقدمہ: مطالبہ،دلائل، جرح، ثبوت اور گواہ

جب بی بی اپنے حق اور مقبوضہ میراث کامطالبہ کرنے دربار خلافت میں گئیں تو انسے گواہ مانگے گئے؛ کہ کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے؟ جبکہ قانون کے مطابق اگر کوئی ملکیت کسی کے تصرف اور استعمال میں پہلے ہی سے ہو اس سے ملکیت ثابت کیئے جانے کا مطالبہ نہیں کیاجاتا بالکہ ثبوت اور گواہ اس سے طلب کیا جاتاہے جس نےجبرا کسی دوسرے کی زیرِ تصرف ملکیت پر قبضہ کیا ہو ۔

لامحالہ جناب فاطمہ نے ان افراد کو بطور گواہ پیش کیا جنکی خود قرآن مجید نے آیت مباہلہ کی رو سے صداقت (سچّائی) کی ضمانت لی ہے۔ یعنی مولاےکائینات حضرت علی علیہ السّلام اورحسنین کریمین ع مگران کی گواہی کو ردکر دیا گیا۔ یہ کہہ کرکہ “یہ انھیں کے گھرکا مسلہ ہے، یہ اپنے گھر کے خلاف کیسے گواہی دینگے”۔

اسکے بعد بی بی نے جناب ام ایمن کو گواہ کے طور پر پیش کیا جن کے بارے میں رسول خدا نے کہا تھا کہ “یہ جنَّتی ہیں”۔ مگر انکی گواہی گوبھی رد کر دیا گیا۔ یہ کہہ کر کہ ایک عورت کی گواہی کافی نہیں ہے۔ یہ ام ایمن رسول خدا کی کنیز تھیں اور پیغمبر نے میراث کےطور ام ایمن کو جناب فاطمہ کے حوالے کیا تھا۔

سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف سے حضرت ام ایمنؓ کو بطور گواہ پیش کرنےکا واقعہ، معتبر کتب کے حوالے سے درج ذیل ہیں:

جب سیدہ فاطمہ نے خلیفہ اول کے سامنے دعویٰ کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فدک اپنی زندگی میں انہیں ہبہ (تحفہ) کر دیا تھا، تو خلیفہ نے اس پر گواہ طلب کیے۔ سیدہ فاطمہ نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کو بطور گواہ پیش کیا۔

حضرت ام ایمن نے خلیفہ سے پوچھا:

"کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھے جنتی خاتون کہا ہے؟"

خلیفہ نے تصدیق کی،

جس کے بعدام ایمن نے گواہی دی کہ:

یہ زمین (فدک) رسول اللہ نے سیدہ فاطمہ کو عطا فرمائی تھی۔

معتبر کتب کے حوالے اور صفحات:

  1. فتوح البلدان (مصنف: امام احمد بن یحییٰ البلاذری) — طبع بیروت، صفحہ (39)۔
  2. کتاب المبسوط (مصنف: شمس الدین السرخسی) — جلد دسویں، صفحہ نمبر(102)۔
  3. معجم البلدان (مصنف: علامہ یاقوت حموی) — جلد چوتھی، صفحہ نمبر (267)۔
  4. تفسیر القمی (مصنف: علی بن ابراہیم القمی) — جلد دوسری، صفحہ نمبر (156)۔
  5. کتاب الاحتجاج (مصنف: علامہ احمد بن علی الطبرسی) — جلد پہلی، صفحہ نمبر(121)۔

ان حضرات کی گوہی اس جھوٹی حدیث کا جواب بھی تھا کہ جو پیغمبر اسلام پر گڑھی گئی تھی۔ وہ یہ کہ ہم انبیا کوی میراث نہیں چھوڑتے اور جو چھوڑکر جاتے ہیں وہ امت کا حق ہوتا ہے۔

اس دعوے کے جواب میں سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے تاریخی خطبے (خطبہ فدک) میں وراثت کے عموم کو ثابت کرنے اور اپنے حق کے دفاع کے لیے قرآن مجید کی متعدد آیات سے استدلال فرمایا۔ آپ نے خاص طور پر انبیاء کرام کی وراثت کو ثابت کرنے کے لیے درج ذیل آیات کو جرح کے طور پر پیش کیا:

1۔ حضرت سلیمان کی حضرت داؤد سے وراثت

سورت اور آیت:سورہ النمل، آیت نمبر سولہ (16)

عربی متن:وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ

اردو ترجمہ: اور سلیمان داؤد کے وارث بنے۔

2۔ حضرت زکریا کی اپنے وارث کے لیے دعا

سورت اور آیت:سورہ مریم، آیات نمبر پانچ اور چھ (5-6)

عربی متن:فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا ﴿٥﴾ يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ

اردو ترجمہ: پس تو اپنے پاس سے میرا ایک وارث عطا کر (5) جو میرا بھی وارث ہو اور آلِ یعقوب کا بھی وارث ہو (6)۔

3۔ قرابت داروں کی وراثت کا عمومی قانون

سورت اور آیت:سورہ الانفال، آیت نمبر پچھتر (75)

عربی متن:وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ

اردو ترجمہ: اور اللہ کی کتاب میں رشتوں ناطوں والے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔

4۔ اولاد کے لیے وراثت کا عمومی حکم

سورت اور آیت:سورہ النساء، آیت نمبر گیارہ (11)

عربی متن: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ

اردو ترجمہ: اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکید کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔

اللہم العن الجبت واطاغوت

Social Media: Share