LogoDars e Mahdi ATFS

تاریخِ امت کا تلخ آئینہ: اقتدار کے سائے اور ثقلین کی روشنی

تاریخِ امت کا تلخ آئینہ: اقتدار کے سائے اور ثقلین کی روشنی
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد، اگر مسلمانوں کی تاریخ کو عقیدت کی عینک اتار کر انصاف کی آنکھ سے پڑھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ امت کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا حصہ اقتدار کی ہوس، ملوکیت، جبر و استبداد، سازش، خونریزی، قید و بند اور سیاسی انتقام سے آلودہ دکھائی دیتا ہے۔ تخت بدلتے رہے، تاج سر بدلتے رہے، خاندان ایک دوسرے کو گراتے رہے، اور سلطنتیں بنتی اور مٹتی رہیں؛ مگر اقتدار کی بھوک نے بارہا عدل کو روند ڈالا اور طاقت نے ہمیشہ حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔

کہیں تخت کے لیے بھائی نے بھائی کا خون بہایا، کہیں اقتدار بچانے کے لیے زبانیں بند کی گئیں، کہیں اہلِ حق کو زندانوں میں سڑایا گیا، اور کہیں تلوار نے دلیل کی جگہ لے لی۔ جس دین نے انسان کو ظلم کے اندھیروں سے نکال کر عدل کی طرف بلایا تھا، اسی دین کے نام پر حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو تقدس کا لبادہ پہنا دیا۔ یوں رعایا سے مطلق وفاداری مانگی گئی، مگر خود حکمرانوں سے جواب دہی کا سوال سختی سے دبا دیا گیا۔

تاریخ کے سرورق پر فتوحات کے پرچم لہراتے ہیں، مگر صفحات پلٹیے تو ان کے پیچھے خون، زنجیریں، جلے ہوئے گھر، خاموش قبرستان اور بے شمار نامعلوم مظلوم کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ محلات تو باقی رہ گئے، مگر ان کی بنیادوں میں دفن چیخوں کا ذکر اکثر فاتح کے قلم نے دبا دیا۔

اس لیے تاریخ کو صرف فاتح کی آنکھ سے پڑھنا تاریخ کا مطالعہ نہیں، بلکہ محض فاتح کا موقف پڑھنا ہے۔ تاریخ تب مکمل ہوتی ہے جب تخت کے ساتھ زندان بھی دکھائی دے، فتح کے ساتھ لاشیں بھی گنی جائیں، تاج کے ساتھ مظلوم کا کٹا ہوا سر بھی دیکھا جائے، اور حکمران کے فرمان کے ساتھ اس فرمان تلے کچلے جانے والے انسان کی فریاد بھی سنی جائے۔

کیونکہ ہر فاتح حق پر نہیں ہوتا، ہر شکست خوردہ باطل پر نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر تاج کے نیچے عدل و انصاف پروان چڑھتا ہے۔

تاریخ کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کس نے کتنی زمین فتح کی؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس فتح کی قیمت کس نے ادا کی؟ کس کا خون بہا؟ کس کی آزادی چھینی گئی؟ اور کس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا؟

مگر یہ امت کی پوری تاریخ نہیں۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی امت کو اس اندھیرے سے بچنے کا راستہ پہلے ہی بتا دیا تھا۔ حدیثِ ثقلین اسی شاہراہ کا بنیادی اعلان ہے۔ آپؐ نے قرآن اور اپنے اہلِ بیت علیہم السلام کو امت کے لیے دو گراں قدر امانتیں قرار دیا اور ان سے وابستگی کو ہدایت کے ابدی تسلسل کا ضامن بنایا۔

اس فرمان کا مفہوم محض یہ نہیں کہ قرآن کی تلاوت کی جائے اور اہلِ بیتؑ سے زبانی محبت کا اظہار کیا جائے؛ بلکہ اس میں ایک گہری ذمہ داری پوشیدہ ہے: ہدایت کے لیے قرآن کو فکری مرکز بنایا جائے اور اہلِ بیت علیہم السلام کو اس قرآنی ہدایت کے فہم، اخلاق اور عملی زندگی کا رہنما نمونہ سمجھ کر تھاما جائے۔ یعنی قرآن منزلِ ہدایت ہے اور اہلِ بیتؑ اس ہدایت کے زندہ اور عملی نمونے؛ ایک کتابِ صامت ہے اور دوسرا اس کتاب سے وابستہ وہ پاکیزہ خانوادہ جس نے اس کی ایک ایک آیت کو اپنے کردار میں ڈھال کر دکھایا۔

یہی وہ تاریخی موڑ ہے جہاں سے امت کے دو راستے الگ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک راستہ دنیاوی اقتدار کی طرف گیا—جہاں دین کبھی سلطنت کے پھیلاؤ کا جواز بنا اور کبھی تخت کی حفاظت کا وسیلہ۔ دوسرا راستہ ثقلین کی طرف گیا—جہاں قرآن سے عدل، اہلِ بیتؑ سے استقامت، قرآن سے علم، اہلِ بیتؑ سے عمل، قرآن سے تقویٰ، اور اہلِ بیتؑ کے کردار سے عظیم قربانی کا درس لیا گیا۔

اس دوسرے راستے کے مسافروں کی تاریخ تخت و تاج کی نہیں، بلکہ علم و عمل، صبر و مجاہدہ، ایثار و قربانی، قید و بند اور شہادت و سرفروشی کی تاریخ ہے۔ انہیں اقتدار کم ملا اور آزمائشیں زیادہ؛ مگر انہوں نے کبھی اصول کو سیاسی مصلحت کی بھینٹ نہیں چڑھایا۔ کربلا اسی فکر کا سب سے روشن اور فیصلہ کن مظہر بن کر سامنے آتی ہے، جہاں امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے عزیزوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے واضح کر دیا کہ قرآنی روح کے ساتھ جینے کا تقاضا یہ ہے کہ باطل اور ظلم کے آگے کبھی سر نہ جھکایا جائے۔

اسی لیے اگر تاریخِ اسلام میں کوئی باب واقعی مثالی اور قابلِ فخر کہا جا سکتا ہے، تو وہ شاہی محلات نہیں بلکہ ان نفوسِ قدسیہ کی زندگی ہے جنہوں نے قرآن کو رہبر، اہلِ بیت علیہم السلام کو رہنمائے عمل، اور عدل و حق کو اپنی حیات کا اوڑھنا بچھونا بنایا۔

اسی تاریخی تسلسل کا پرتو اگر دورِ حاضر میں دیکھنا ہو تو ایران ایک اہم معاصر مثال پیش کرتا ہے۔

۱۹۷۹ء کے انقلاب کے بعد، ایران نے اپنی ریاستی شناخت کو اسلام، خود مختاری اور بیرونی تسلط سے آزادی کے تصورات کے ساتھ پیوست کیا۔ اس نے عالمی طاقتوں کے شدید دباؤ کے باوجود اپنے تزویراتی اور سیاسی فیصلوں کو نظریاتی اور قومی ترجیحات کے تابع رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس پرخطر سفر میں اسے مسلط کردہ جنگ، معاشی پابندیوں اور مسلسل جغرافیائی و سیاسی کشمکش کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایرانی قیادت ان تمام صعوبتوں کو استقلال اور مزاحمت کی ناگزیر قیمت سمجھتی ہے، جبکہ مبصرین اور ناقدین اس پالیسی کے داخلی اور خارجی نتائج پر سوال اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا، ایران کے کردار کو محض جذباتی ہمدردی یا مخالفت سے بالاتر ہو کر، اس کے عمل، معروضی حالات اور نتائج کی روشنی میں جانچنا چاہیے۔

بہرحال، ایران کا یہ تجربہ ہمارے سامنے ایک بنیادی سوال ضرور رکھتا ہے: کیا کوئی مسلم ریاست بڑی عالمی قوتوں کے بے پناہ دباؤ کے باوجود اپنی نظریاتی شناخت، سیاسی خودمختاری اور آزادانہ فیصلہ سازی کی صلاحیت کو برقرار رکھ سکتی ہے؟ ایران نے عملی میدان میں اس سوال کا جواب اپنے عمل سے دینے کی سعی کی ہے۔

شاید تاریخ کا ابدی سبق بھی یہی ہے کہ سلطنتیں محض طاقت اور شمشیر سے قائم تو ہو سکتی ہیں، مگر تاریخ کے سینے پر ہمیشہ اصول اور لازوال قربانیاں ہی زندہ رہتی ہیں۔ تخت پیوندِ خاک ہو جاتے ہیں، تاج گر جاتے ہیں، اور جابر حکمران فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں؛ لیکن حق و صداقت کے پرچم کو سربلند رکھنے والا کردار وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید تابناک ہوتا چلا جاتا ہے۔

تاریخ آخرکار یہ نہیں پوچھتی کہ تم کتنے بڑے اقتدار کے مالک تھے؛ وہ یہ دریافت کرتی ہے کہ جب اقتدار، خوف اور ظلم کا راج تھا، تب تم حق اور مظلوم کے ساتھ کہاں کھڑے تھے؟

Social Media: Share