نبیِ رحمتؐ کی امت اور خون آلود تاریخ ؟ جس امت کی ہدایت کے لیے نبیِ رحمت، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے، جنہوں نے نفرت کے مقابلے میں محبت، ظلم کے مقابلے میں عدل، انتقام کے مقابلے میں عفو اور جاہلیت کے مقابلے میں انسانیت کا درس دیا، اسی امت کی تاریخ پڑھتے ہوئے دل ایک تلخ سوال پر آ کر رک جاتا ہے: آخر یہ خونریزی کیوں؟ ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ دوسری قوموں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی تاریخ ظلم، جنگ، خونریزی اور بربریت سے خالی ہے۔ انسان جہاں بھی رہا، طاقت، اقتدار، تعصب، انتقام اور مفاد نے اسے بارہا ظلم کی طرف دھکیلا۔ دنیا کی تقریباً ہر قوم کے ماضی میں ایسے سیاہ ابواب موجود ہیں جنہیں پڑھ کر انسانیت شرمندہ ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے دکھ کی شدت اس لیے زیادہ ہے کہ ہمیں صرف ایک مذہب نہیں ملا تھا، ہمیں نبیِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ملے تھے۔ ہمیں وہ رسول ملے جنہوں نے جاہلیت کے خونریز معاشرے کو انسانیت کا سبق دیا؛ جنہوں نے دشمن کے ساتھ بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا، فتح کے موقع پر انتقام کے بجائے عفو کا راستہ اختیار کیا، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی، عورتوں، بچوں اور بے گناہوں کو ظلم سے بچانے کی تعلیم دی اور انسان کی جان و عزت کو حرمت عطا کی۔ ہمیں قرآن ملا، ہمیں سیرتِ رسول ص ملی، ہمیں عدل و رحمت کا عملی نمونہ ملا، ہمیں اہلِ بیت علیہم السلام کی زندگیاں ملیں؛ پھر بھی ہماری تاریخ میں اتنا خون کیوں بہا؟ یہی سوال دل کو سب سے زیادہ دکھاتا ہے۔ دوسری قوموں کے ظلم پر حیرت ہوتی ہے، لیکن اپنی تاریخ کے ظلم پر شرمندگی ہوتی ہے؛ کیونکہ ہمارے پاس ظلم سے بچنے کے لیے صرف نظریہ نہیں تھا، ہمارے سامنے خود نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری زندگی موجود تھی۔ اس لیے ہمارا سوال دوسروں کو مجرم ٹھہرانے کے لیے نہیں، اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے ہے۔ آخر ہم نے محمد ص سے کیا سیکھا؟ رحمت یا انتقام؟�عدل یا طاقت؟ �اخوت یا نفرت؟ �انسانیت یا خونریزی؟ یہ سوال جتنا تاریخ سے ہے، اس سے کہیں زیادہ آج ہمارے اپنے ضمیر سے ہے۔ وہ نبی جنہوں نے انسان کو انسان کا خون بہانے سے روکا، دشمن کو معاف کیا، کمزور پر رحم کیا اور جان، مال اور عزت کی حرمت سکھائی۔ پھر بھی تاریخ کے صفحات کھولیں تو کہیں تلواریں ہیں، کہیں نیزے، کہیں جلتے ہوئے شہر اور کہیں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا بہتا ہوا خون۔ جنگِ اُحد کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر بھی انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی۔ ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کی بے حرمتی کی، ان کا سینہ چاک کیا، جگر نکالا اور اسے چبا ڈالا۔ یہ محض ایک شہید کے ساتھ بدسلوکی نہیں تھی؛ یہ جاہلیت کی اس وحشت کی انتہا تھی جسے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ مٹانے کے لیے آئے تھے۔ ایک طرف وہ نبی تھے جو دشمنوں کے لیے بھی رحمت تھے، اور دوسری طرف انتقام میں اندھی ہوئی وہ ذہنیت تھی جو مقتول کے جسم تک کو معاف کرنے پر آمادہ نہ تھی۔ سوچیے! جس معاشرے کو اسلام نے یہ سکھایا کہ انسان کی جان، عزت اور حرمت مقدس ہے، اسی معاشرے میں انتقام اس حد تک پہنچ گیا کہ شہید کا سینہ چاک کیا گیا اور اس کا جگر نکال کر چبایا گیا۔ یہ واقعہ صرف تاریخ کا ایک ہولناک منظر نہیں؛ یہ جاہلیت اور اسلام کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لیے ایک لرزا دینے والا آئینہ ہے۔ اور پھر سوال صرف ہند بنت عتبہ کا نہیں؛ سوال اس پوری ذہنیت کا ہے جو انسان کو دشمن سمجھتے سمجھتے اس کی لاش سے بھی انتقام لینے لگتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ایسی ہی جاہلیت کو ختم کرنے کے لیے انسانیت، رحم، عفو اور اخلاق کا چراغ روشن کیا تھا۔ مگر افسوس کہ بعد کی تاریخ میں بھی اسی امت کے اندر بارہا وہی جاہلی انتقام، خونریزی اور درندگی نئے ناموں اور نئے نعروں کے ساتھ واپس آتی رہی پھر زمانہ آگے بڑھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد امت ابھی اس عظیم صدمے سے پوری طرح سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ اقتدار اور سیاسی اختلافات نے اس کے اندر دراڑیں ڈال دیں۔ جو لوگ کل تک ایک رسول، ایک قرآن اور ایک قبلے کے سائے میں جمع تھے، وہ رفتہ رفتہ ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہونے لگے۔ پھر جنگِ جمل ہوئی؛ مسلمان مسلمان کے مقابل کھڑا تھا۔ پھر صفین آئی؛ قرآن پڑھنے والے ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ پھر نہروان نے دکھایا کہ اختلاف جب تعصب اور تکفیر کی شکل اختیار کرلے تو عبادت گزار ہاتھ بھی تلوار اٹھا سکتے ہیں۔ ایک ہی کعبہ، ایک ہی قرآن، ایک ہی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، مگر تلواریں ایک دوسرے کے سینوں پر! یہیں سے امت کی تاریخ میں ایک ایسا باب کھلا جس میں سیاسی اختلاف صرف اختلاف نہ رہا؛ خونریزی، تکفیر اور اقتدار کی جنگ بن گیا۔ اور پھر یہ زخم صدیوں تک مختلف شکلوں میں رستا رہا۔ پھر حضرت علی علیہ السلام شہید ہوئے۔ اور تاریخ کا زخم مزید گہرا ہوگیا۔ محمد بن ابی بکر کا انجام تو اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا ہے۔ مصر میں انہیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو گدھے کی کھال میں بند کیا گیا اور پھر اسے آگ لگا دی گئی۔ یعنی انتقام کی آگ صرف ایک انسان کے قتل پر نہیں بجھی؛ مقتول کے جسم کو بھی آگ کے حوالے کیا گیا۔ محمد بن ابی بکر کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے؛ وہ حضرت ابوبکر کے صاحبزادے اور حضرت علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی تھے۔ ان کا اس طرح قتل کیا جانا اور پھر لاش کو گدھے کی کھال میں ڈال کر جلانا اس دور کی سیاسی کشمکش اور باہمی دشمنی کی اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جہاں اختلاف نے انسانیت کو بھی نگل لیا تھا۔ یہ صرف ایک قتل نہیں تھا؛ یہ اس بات کی دردناک علامت تھا کہ جب اقتدار کی جنگ دین، اخلاق اور انسانیت پر غالب آجائے تو مسلمان کے ہاتھ سے مسلمان کی لاش بھی محفوظ نہیں رہتی۔ پھر کربلا آئی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ صرف خون سے نہیں، شرمندگی سے بھی لکھ دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے نواسے، حضرت امام حسین علیہ السلام، اپنے اہلِ بیت علیہم السلام اور باوفا اصحاب کے ساتھ کھڑے تھے، اور سامنے وہ لوگ تھے جو اسی امت سے نسبت رکھتے تھے۔ وہاں تلوار نے صرف امام حسین علیہ السلام کو شہید نہیں کیا؛ اس نے امت کے ضمیر پر ایسا زخم لگایا جس کا درد آج تک باقی ہے۔ پھر تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ اقتدار کی بھوک نے مقدس مقامات کی حرمت تک کو پامال کر دیا۔ مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور خود خانۂ کعبہ بھی سیاسی کشمکش سے محفوظ نہ رہ سکے۔ واقعۂ حرّہ میں مدینہ منورہ پر حملہ ہوا، شہر میں خون بہا اور اہلِ مدینہ کو شدید مصیبت سے گزرنا پڑا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ کا محاصرہ ہوا اور منجنیقوں سے شہر پر پتھر برسائے گئے؛ خانۂ کعبہ بھی اس جنگ کی زد میں آیا اور آگ لگنے سے اس کا ایک حصہ متاثر ہوا۔ پھر تاریخ نے عبداللہ بن زبیر کے عہد میں مکہ کے ایک اور طویل محاصرے کو دیکھا۔ حرم کے اندر لڑائی ہوئی، خانۂ کعبہ کے گرد جنگ ہوئی اور بالآخر ابنِ زبیر قتل کر دیے گئے۔ یہ سب واقعات اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ جب اقتدار مذہب، اخلاق اور حرمت سے بڑا ہوجائے تو پھر وہ مدینہ کی گلیوں، مکہ کی وادیوں اور خانۂ کعبہ کی دیواروں تک کا لحاظ نہیں کرتا۔ جس دین نے حرم کو امن کی جگہ قرار دیا تھا، اسی امت کی سیاسی کشمکش نے کبھی مدینے کو میدانِ جنگ اور مکے کو محاصرے میں تبدیل کردیا۔ یہ تاریخ کا معمولی واقعہ نہیں؛ یہ امت کے لیے ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج بھی ہمارے پاس نہیں۔ اور اس خون آلود تاریخ کا سب سے دردناک باب آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ہے۔ جس خاندان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی محبت، احترام اور امت کی ذمہ داریوں سے جوڑا، اسی خاندان کے افراد کو کبھی قتل کیا گیا، کبھی قید کیا گیا، کبھی جلاوطن کیا گیا اور کبھی برسوں تاریک زندانوں میں سڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب کو شہید کیا گیا، اہلِ بیت علیہم السلام کو قید کرکے کوفہ و شام لے جایا گیا، اور پھر آنے والی نسلوں میں بھی آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نسبت رکھنے والے سادات اقتدار کے خوف اور سیاسی انتقام سے محفوظ نہ رہے۔ تاریخ کے بعض دردناک بیانات میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقتولین کے خون کو بھی عمارتوں کے گارے میں استعمال کیا گیا۔ ذرا تصور کیجیے! جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت نے عزت بخشی، ان کے خون تک کو بعض ظالم اقتدار کی عمارتوں کی تعمیر میں استعمال کرنے سے نہ ہچکچائے۔ بعض روایات میں آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے افراد کو زندہ دیواروں میں چن دینے جیسے لرزا دینے والے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔ کتنے ہی سادات ایسے تھے جن کی جوانیاں تاریک قید خانوں میں گزریں؛ نہ جرم ثابت کرنے کی ضرورت سمجھی گئی، نہ انصاف کا دروازہ کھولا گیا، صرف نسبت کافی تھی کہ وہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعلق رکھتے تھے یا حکمرانوں کی نگاہ میں خطرہ سمجھے جاتے تھے۔ یہ کیسی سیاست تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان سے نسبت جرم بن گئی؟ یہ کیسا اقتدار تھا جسے آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود خطرہ محسوس ہوتا تھا؟ اور یہ کیسی مسلمانی تھی کہ درباروں میں قرآن پڑھا جاتا تھا، مسجدیں آباد تھیں، اذانیں بلند ہوتی تھیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان کے خون سے زمین محفوظ نہ تھی؟ یہاں تاریخ ہمیں ایک نہایت تلخ حقیقت دکھاتی ہے: تاج سر پر ہو سکتا ہے، تسبیح ہاتھ میں ہو سکتی ہے، محل میں قرآن کی تلاوت ہو سکتی ہے؛ لیکن اگر عدل نہیں تو ظلم، ظلم ہی رہتا ہے۔ اور اگر اقتدار کو بچانے کے لیے آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خون بہانا پڑے، ان کے بچوں کو قید کرنا پڑے، ان کے سادات کو زندانوں میں ڈالنا پڑے، تو پھر تاریخ کو یہ سوال ضرور کرنا چاہیے: یہ اسلام کی حکومت تھی یا اسلام کے نام پر اقتدار کی حکومت؟ یہ سوال صرف ماضی سے نہیں ہے۔ یہ ہر اس زمانے سے ہے جہاں مذہب کا نام باقی رہ جائے، مگر رحمت، عدل اور انسانیت رخصت ہوجائے۔ نام بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، مگر انسان کا خون بہتا رہا۔ صدیاں گزریں تو منگولوں کی یلغار نے بغداد کو اجاڑ دیا؛ کتابیں دریا میں پھینکی گئیں، شہر خون میں ڈوبا اور اسلامی تہذیب کا ایک عظیم مرکز خاکستر ہوگیا۔ پھر تاریخ نے صلیبی جنگیں دیکھیں، پھر مختلف سلطنتوں کی جنگیں، پھر داخلی خانہ جنگیاں، پھر استعمار آیا؛ ہر دور نے مسلمانوں کے زخموں میں ایک نیا زخم شامل کیا۔ اور افسوس یہ ہے کہ بیرونی دشمنوں سے پہلے ہم نے خود اپنے اندر دشمن پیدا کرلیے تھے۔ فرقے ایک دوسرے سے لڑتے رہے، حکمران اقتدار کے لیے لڑتے رہے، مذہبی تعصبات نے دلوں میں دیواریں کھڑی کردیں، اور عام انسان ہر دور میں ان دیواروں کے نیچے کچلا جاتا رہا۔ پھر ہمارا زمانہ آیا۔ عراق اور شام نے ایک بار پھر وہ مناظر دیکھے جنہیں انسانیت دیکھ کر شرمندہ ہوجاتی ہے۔ جدید جنگوں، فرقہ وارانہ جنون اور دہشت گردی نے انسانوں کو قتل کیا، سر قلم کیے، زندہ جلایا، لاشوں کی بے حرمتی کی اور شہروں کو قبرستان بنا دیا۔ یہ کون لوگ ہیں؟ پھر ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ایک اور قیامت برپا ہوئی۔ پاکستان، عراق، شام اور یمن—وہ سرزمینیں جہاں اذانیں بلند ہوتی ہیں، قرآن پڑھا جاتا ہے، مساجد آباد ہیں—وہاں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا خون بہا۔ بے گناہوں کو بازاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں اور گھروں میں نشانہ بنایا گیا۔ گردنیں کاٹی گئیں۔ لاشیں مسخ کی گئیں۔ سر قلم کرکے خوف پھیلانے کے لیے نمائش بنائے گئے۔ بچوں تک کو نہیں بخشا گیا۔ داعش اور اس جیسے تکفیری گروہوں نے انسانیت کو وہ مناظر دکھائے جنہیں دیکھ کر درندے بھی شرما جائیں۔ لوگوں کو زندہ جلایا گیا، قیدیوں کو ذبح کیا گیا، بچوں اور عورتوں کو بھی اپنی وحشت کا نشانہ بنایا گیا؛ اور یہ سب کچھ کبھی اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ کیا گیا۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے! قتل بھی دین کے نام پر،�ذبح بھی دین کے نام پر،�آگ بھی دین کے نام پر،�اور وحشت بھی دین کے نام پر! کبھی یہ ہولناک خبریں بھی سامنے آئیں کہ مقتولوں کے سروں کے ساتھ کھیل تک کیا گیا، انسانی جسموں کو انتقام اور تذلیل کا سامان بنایا گیا۔ ایسی بربریت میں انسانیت تو دور، انسان ہونے کی آخری علامت بھی باقی نہیں رہتی۔ اور سوال پھر وہی ہے: یہ کون لوگ تھے؟ کیا یہ کسی اور سیارے سے آئے تھے؟ کیا ان کی زبان پر کوئی اور کلمہ تھا؟ کیا ان کے گھروں میں قرآن نہیں تھا؟ کیا وہ مسلمانوں کے درمیان ہی نہیں پلے بڑھے تھے؟ مسلمان ہی تو تھے! یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ مسئلہ صرف بندوق کا نہیں، اس ذہنیت کا ہے جو انسان کو پہلے کافر بناتی ہے، پھر اس کے قتل کو ثواب سمجھاتی ہے۔ جب تکفیر دل میں اترتی ہے تو رحم نکل جاتا ہے۔ جب تعصب ایمان کا لباس پہن لیتا ہے تو انسان دشمن بن جاتا ہے۔ اور جب مذہب کو نفرت کا ہتھیار بنا دیا جائے تو پھر قرآن ہاتھ میں رہتا ہے، مگر قرآن کا انسان غائب ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کی جان کو حرمت دی تھی؛ ان لوگوں نے انسان کی جان کو اپنی وحشت کا ایندھن بنا دیا۔ یہ اسلام کی تعلیم نہیں؛ یہ اسلام کے نام پر انسانیت کا قتل ہے۔ اور سب سے زیادہ دردناک سوال یہ ہے: ہم نے کربلا پڑھ کر بھی کیا سیکھا؟ ہم نے امام حسین علیہ السلام کا نام لے کر بھی ظلم سے نفرت کیوں نہ سیکھی؟ ہم نے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مان کر بھی ایک دوسرے کے لیے رحمت بننا کیوں نہ سیکھا؟ اگر مسلمان کا ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگ جائے اور پھر وہ اسی خون آلود ہاتھ کو دین کا ہاتھ سمجھنے لگے، تو اس سے بڑی فکری اور اخلاقی تباہی اور کیا ہوگی؟ یہی ہماری تاریخ کا سب سے خوفناک آئینہ ہے۔ قاتل کے سر پر مذہب کا نام ہو سکتا ہے،�مگر اس کے ہاتھ پر لگا خون اسے بے گناہ نہیں بنا دیتا۔ نام مسلمان ہونا کافی نہیں؛ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی رحمت کا وارث بننا ضروری ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دل پھر پوچھتا ہے: کیا یہی وہ امت ہے جسے رسولِ رحمت ص نے بنایا تھا؟ ہمیں اپنے سوال کا جواب دوسروں سے نہیں، اپنے اندر سے تلاش کرنا ہوگا۔ کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تاریخ میں ظالم کون تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ظلم سے کیا سیکھا؟ ہم نے کربلا پڑھی، مگر کیا ظلم سے نفرت سیکھی؟ ہم نے امام حسین علیہ السلام کا نام لیا، مگر کیا ظلم کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا؟ ہم نے سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھی، مگر کیا رحمت، عفو، عدل اور انسانیت کو اپنی زندگی میں جگہ دی؟ ہم نے قرآن کی تلاوت کی، مگر کیا قرآن کے انسان کو پہچانا؟ ہم نے مسجدیں آباد کیں، مگر کیا انسان محفوظ ہوئے؟ ہم نے منبر آباد کیے، مگر کیا دلوں سے نفرت نکلی؟ ہم نے دین کی حفاظت کے نام پر بہت کچھ کیا، مگر کبھی یہ بھی سوچا کہ دین کے اخلاق کی حفاظت کون کرے گا؟ اسلام نے ہمیں انسانیت سے دور کرنے کے لیے نہیں، انسانیت کو بلندی دینے کے لیے جنم دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ لیکن ہماری تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ کبھی ہاتھ خون سے رنگے گئے اور کبھی زبانیں زہر سے۔ ہم نے مذہب کو عبادت گاہوں تک محدود کردیا اور اخلاق کو زندگی سے نکال دیا۔ ہم نے مسلک کو شناخت بنایا اور انسانیت کو بھلا دیا۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنایا، دشمنی کو نفرت بنایا اور نفرت کو کبھی کبھی عبادت سمجھ لیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: اگر ہمارے پاس رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت ہے، تو ہمارے معاشرے میں اتنی بے رحمی کیوں؟ اگر ہمارے پاس قرآن ہے، تو اتنا ظلم کیوں؟ اگر ہمارے پاس کربلا ہے، تو اتنی خاموشی کیوں؟ اگر ہمارے پاس امام حسین علیہ السلام ہیں، تو ہم ظلم کے سامنے اتنے بے حس کیوں؟ شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم دین سے دور ہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو اپنی خواہشات کے قریب اور اس کی روح کو اپنی زندگی سے دور کردیا ہے۔ ہم رسول اللہ ص کا نام لیتے ہیں، مگر ان کی رحمت نہیں لیتے۔ ہم اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کے اخلاق، صبر، عدل اور قربانی کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔ ہم تاریخ کے قاتلوں پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر اپنے زمانے کے ظلم پر خاموش رہتے ہیں۔ یہی خاموشی تاریخ کو دوبارہ جنم دیتی ہے۔ کربلا صرف ماضی نہیں؛ کربلا ایک سوال ہے۔ ہر زمانے سے پوچھتی ہے: ظلم کے سامنے تم کہاں کھڑے ہو؟ اور رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ کی سیرت بھی ہر زمانے سے یہی پوچھتی ہے: تم انسان کے لیے رحمت کب بنو گے؟ شاید آج امت کو کسی نئے راستے سے زیادہ اسی ایک حقیقت کی ضرورت ہے: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے نام لیوا بننے سے پہلے، محمد ص کی رحمت کے وارث بنو۔ کیونکہ دنیا کو ہماری تعداد کی نہیں، ہمارے کردار کی ضرورت ہے۔ دنیا کو ہمارے نعروں کی نہیں، ہمارے عدل کی ضرورت ہے۔ دنیا کو ہماری باہمی نفرت کی نہیں، اس رحمت کی ضرورت ہے جس کے لیے نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ تشریف لائے تھے۔ اور شاید ہماری پوری خون آلود تاریخ کا سب سے مختصر سبق یہی ہے: ہم نے رسولؐ کو مانا بہت،�رسولؐ کی رحمت کو اپنایا بہت کم۔ اب بھی وقت ہے کہ تاریخ کو صرف پڑھا نہ جائے، اس سے سبق بھی لیا جائے۔ ✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
یہ تحریر تاریخی اور مذہبی مباحث میں اہلِ بیت (علیہم السلام) اور دیگر شخصیات کے فضائل کے لیے اپنائے جانے والے دوہرے معیارات پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جہاں اہلِ بیتؑ کے صریح قرآنی و نبوی فضائل کے سامنے کڑی تاویلیں اور شکوک تراشے جاتے ہیں، وہیں دیگر شخصیات کے حق میں ضعیف اور غیر مستند روایات کو بھی آسانی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ مصنف کا موقف ہے کہ حق و باطل اور قبولِ روایت کی کسوٹی ہر ایک کے لیے غیر جانبدار اور یکساں ہونی چاہیے۔ قرآن کا بنیادی حکم عدل و انصاف ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ذاتی پسند کو سچائی کے تابع کرے، نہ کہ سچائی کو اپنی پسند کے مطابق ڈھالے۔
The text critiques the intellectual double standards applied when evaluating the virtues of the Ahl al-Bayt (AS) versus the merits of other historical figures. It highlights how explicit Qur'anic verses and authentic traditions regarding the Prophet’s family are often subjected to restrictive reinterpretations and intense skepticism, while unverified or weak narrations for others are readily accommodated. Demanding consistent principles of verification, the author emphasizes that personal bias must never dictate historical and religious truth. Ultimately, genuine justice and intellectual integrity require that evidence be evaluated through a single, fair standard for all.
موبائل فون دورِ حاضر کا ایک انقلابی آلہ ہے جس نے فاصلوں کو سمیٹ کر معلومات اور عالمی رابطوں کو بے پناہ آسان بنا دیا ہے۔ تاہم، اس کے بے قابو اور عادی بن کر استعمال کرنے سے گہرے انسانی رشتے، ذہنی یکسوئی اور قیمتی وقت شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود اچھی یا بری نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اچھائی یا برائی کا انحصار انسان کے اپنے طرزِ عمل اور نیت پر ہے۔ ماضی کا دور اگرچہ دشواریوں سے خالی نہ تھا، لیکن موجودہ دور کی بے مقصد اسکرولنگ روح اور فکر کے لیے اس سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ اصل دانشمندی یہ ہے کہ موبائل کو اپنی ضروریات کا خادم بنایا جائے، نہ کہ اپنی زندگی کا حاکم۔
The mobile phone is a revolutionary tool that has connected the world and democratized access to information, yet its excessive use has eroded deep personal relationships, focus, and mental well-being. Rather than being inherently good or evil, technology reflects human intent; it can serve as a powerful engine for knowledge and growth, or a source of distraction and intellectual clutter. While the pre-digital era had genuine challenges, the modern urge to mindlessly scroll poses an equal threat to our time and presence. The ultimate challenge is balance—allowing mobile devices to serve our essential needs without permitting them to dominate our lives.
سر سید احمد خانؒ ایک عہد ساز مصلح تھے جنہوں نے 1857ء کے بعد مسلمانوں کو مایوسی سے نکال کر جدید تعلیم، فکری بیداری اور سائنسی تحقیق کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے سائنٹفک سوسائٹی، رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ اور ایم اے او کالج (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) جیسے تاریخی ادارے قائم کر کے روایتی تہذیب اور جدید علوم میں توازن پیدا کیا۔ انہوں نے شکوے شکایات اور محض ماضی کے قصوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود اعتمادی، کردار سازی اور عملی جدوجہد کو قومی بقا کا لازمی تقاضا قرار دیا۔ اگرچہ ان کے بعض مذہبی و سیاسی افکار پر شدید علمی اختلاف رہا، مگر ان کا یہ تاریخی کارنامہ مسلم ہے کہ انہوں نے ثابت کیا کہ علم اور دلیل کے بغیر کوئی بھی قوم زوال سے نکل کر ترقی نہیں کر سکتی۔
Sir Syed Ahmad Khan (RA) was an epoch-making reformer who steered South Asian Muslims out of post-1857 despair through modern education, critical inquiry, and pragmatic institution-building. By establishing landmark platforms like the Scientific Society, the journal *Tahzib-ul-Akhlaq*, and MAO College (later Aligarh Muslim University), he harmonized cultural heritage with scientific progress. Rather than leaning on past glories or futile confrontation, he advocated for modern learning, rational discourse, and self-reliance to secure the community's future. While his theological and political stances sparked sharp contemporary debate, his lifelong commitment left an enduring legacy proving that genuine national revival is impossible without knowledge, character, and practical action.
انسانی الفاظ جنابِ زینب (سلام اللہ علیہا) کی عظمت و جلالت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں؛ لفظ تو محض اس چراغ کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہو سکتے ہیں جس کی ضیا صدیوں کے بعد بھی ماند نہیں پڑ سکی۔
وہ کربلا کے المیے کے بعد کا بے مثال حوصلہ ہیں، زنجیروں میں کمالِ آزادی ہیں، دلدوز غم میں بصیرت کا پیکر ہیں، اور جبر کے دربار میں صدائے حق کی گرج ہیں۔ وہ ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ انسان کی حقیقی رفعت اس کے بیرونی حالات سے نہیں بلکہ اس کے اندرونی کردار سے طے پاتی ہے؛ اور تاریخ میں وہی زندہ رہتے ہیں جو اپنے عہد کی تاریکیوں میں حق کا تابناک چراغ بن کر ابھرتے ہیں۔
سلام ہو جنابِ زینب (سلام اللہ علیہا) پر، جنہوں نے رنج و غم کو شکست میں تبدیل نہ ہونے دیا، جنہوں نے اسیری کو خاموشی کا کفن نہ پہننے دیا، اور جنہوں نے کربلا کے مشن کو زمانے کی گرد میں گم نہ ہونے دیا۔
زینب (علیہا السلام) محض حوّا کی بیٹی کے وقار کا نام نہیں؛ وہ اس سچائی کا زندہ اعلان ہیں کہ جب ایک عورت ایمان، بصیرت، خودداری اور حق شناسی کے ساتھ میدان میں ڈٹ جائے، تو جابروں کے مادی تخت وقتی طور پر باقی رہ سکتے ہیں، مگر ان کا غرور ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جاتا ہے۔
زینب (علیہا السلام)—وہ نام جس کے سامنے تاریخ سر تسلیم خم کرتی ہے، جس کے کردار سے صنفِ نازک کا وقار روشن ہے، اور جس کی للکار ہر عہد کے ضمیر سے یہی سوال کرتی ہے: تم حق کے علمبردار ہو یا باطل کے تخت کے وفادار؟
Human language cannot encompass the grandeur of Lady Zaynab (peace be upon her); words can only gather like moths around the flame whose light centuries have failed to dim.
She was courage in the desolate aftermath of Karbala, freedom in the midst of chains, profound clarity within intense grief, and the roar of divine truth within the halls of tyranny. She teaches us that human nobility is defined not by external circumstances, but by internal character; and those who live forever in history are those who choose to become a torch of truth amidst the darkness of their times.
Peace be upon Lady Zaynab (peace be upon her), who refused to let sorrow turn into defeat, who refused to let captivity turn into silence, and who never permitted the message of Karbala to be buried under the dust of time.
Zaynab (AS) is not merely the dignity of womanhood; she is the living declaration that when a woman stands anchored in faith, awareness, self-respect, and justice, the physical thrones of despots may endure for a moment, but their arrogance is broken forever.
Zaynab (AS)—the name before which history bows, through whose character the dignity of womanhood is illuminated, and whose defiant call asks the conscience of every age: Do you stand with the truth, or do you bow to the throne?
مصنف نے ایک خونخوار مگرمچھ کی تمثیل کے ذریعے دینی مراکز، اوقاف اور مساجد میں چھپے ان بددیانت عناصر کو بے نقاب کیا ہے جو عوامی اعتماد اور غریبوں کے چندوں پر پلتے ہیں۔ تقدس کے لبادے میں چھپے یہ لوگ نہ صرف یتیموں، مریضوں اور طلبہ کا حق مارتے ہیں بلکہ ہر قسم کے سوال، تنقید اور احتساب کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہبی لباس یا عہدہ کسی کو شفافیت اور بازپرس سے بالاتر نہیں بناتا، اور خاموش تماشائی بنے رہنا دراصل ان کے ظلم کو تقویت دینا ہے۔ بالآخر مصنف نے زور دیا ہے کہ قوم کی امانتوں اور نسلوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے اجتماعی جرات، مکمل مالی شفافیت اور کڑے احتساب کی فوری ضرورت ہے۔
Using the metaphor of a man-eating crocodile, the author exposes corrupt individuals within religious institutions who exploit public trust, Waqf endowments, and charitable donations meant for the needy, sick, and students for personal gain. Lurking behind an outward veneer of piety and sanctity, these predators not only misappropriate funds but actively suppress audits, questions, and criticism. The essay argues that attire and status do not confer immunity from scrutiny, warning that the community’s silent complicity only emboldens such corruption. Ultimately, it calls for collective courage, strict financial transparency, and uncompromising institutional accountability to protect community trust and safeguard future generations.
The article quotes the passage beginning “Balā, kānat fī aydīnā Fadak” (“Yes, Fadak was in our possession”), associated with Letter 45 in commonly used editions of Nahj al-Balagha. Numbering and commentary may vary between editions.
’’رافضی‘‘ کوئی قرآنی یا نبوی اصطلاح نہیں بلکہ بنو امیہ کے دور میں درباری مفتیوں اور مفاد پرست ملاؤں کا گھڑا ہوا ایک تحقیر آمیز لیبل ہے، جسے اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں کو بدنام کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ماضی کے ان درباری عناصر کے فکری وارث آج بھی سامراجی مفادات کی خدمت اور امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف ہیں۔ کسی پر توہین آمیز القاب چسپاں کرنے یا گالی دینے سے نہ تو کسی کے عقائد باطل ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی دلوں سے اہلِ بیتؑ کی محبت مٹائی جا سکتی ہے۔ شیعانِ علیؑ کی اصل شناخت ان کا کردار، پختہ عقیدہ اور اہلِ بیتِ رسولﷺ سے لازوال محبت ہے۔ حق کو سمجھنے کے لیے بغض، تعصب اور طعن و تشنیع کے بجائے دلیل، انصاف اور غیر جانبدارانہ تحقیق کی ضرورت ہے۔
The term "Rafidi" has no Quranic or prophetic basis; it was historically manufactured by court-aligned clerics to malign the followers of the Ahl al-Bayt (AS) and legitimize state tyranny during the Umayyad era. This legacy of sectarian slander persists today among opportunists who align religious decrees with imperialist interests rather than divine truth. However, weaponizing derogatory labels cannot invalidate faith, refute reasoned argument, or diminish devotion to the Prophet’s Household. Ultimately, sincere religious discourse demands evidence, justice, and critical inquiry over slurs and fabricated prejudice.
مولاےکاینات نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہےکہ اس زمین وآسمان کے نیچے اور اوپر جتنے ہیں وہ سب جانتے ہیں اور انھوں دیکھا ہے کہ فدک ہمارے ہاتھ میں تھا مگر ان لوگوں نے بخل کیااورفدک ہم سے چھین لیا۔
The dispute over Fadak centers on the confiscation of the valuable estate and its adjoining orchards from Lady Fatima al-Zahra by the caliphal authorities following the Prophet’s passing. Although she had held direct possession of the land as a divine gift and utilized its revenues for charitable relief, her claim was challenged and the testimonies of Imam Ali and Umm Ayman were dismissed. In response to the assertion that prophets leave no inheritance, Lady Fatima delivered her historic sermon, drawing upon explicit Quranic verses detailing prophetic succession to defend her rightful claim and dismantle the legal justification used to dispossess her.
املاکِ فدک کی منتقلی، تحصیل، غصب، مقدمہ دلائل جرح، گواہ، ثبوت اور معتبر کتب تاریخی حوالاجات پر مشتم ایک بصیرت سے بھر پور مضمون جو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کے ہوا کیا تھا؟
यह लेख क़ुरआनी आयतों और पैग़म्बरी हदीसों की रोशनी में हज़रत फ़ातिमा ज़हरा (स.) की इस्मत, सच्चाई और बुलंद मक़ाम को बयान करता है। इसमें फ़दक की ऐतिहासिक पृष्ठभूमि, पैग़म्बर-ए-इस्लाम (स.) द्वारा हज़रत फ़ातिमा (स.) को इसके दिए जाने और इसकी मिल्कियत के हक़ से जुड़ी रिवायतों का ज़िक्र है। लेख रसूले ख़ुदा (स.) के इंतिक़ाल के बाद फ़दक के मामले में पेश आने वाले घटनाक्रम को हज़रत फ़ातिमा (स.) की ज़िंदगी के दर्दनाक अध्यायों में से एक के रूप में प्रस्तुत करता है
This article explores the infallibility, truthfulness, and exalted status of Lady Fatima al-Zahra (SA) in the light of Quranic verses and Prophetic traditions. It examines the historical background of Fadak, its reported transfer to Lady Fatima by the Prophet Muhammad (PBUH), and the accounts concerning her right to its ownership. The article highlights the events surrounding Fadak after the Prophet’s passing as one of the most painful chapters in Lady Fatima’s life
یہ مضمون حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت، صداقت اور عظمت کو قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں بیان کرتا ہے۔ اس میں فدک کی تاریخی حیثیت، رسولِ خدا ﷺ کی جانب سے حضرت فاطمہؑ کو اس کی واگذاری، اور آپؑ کے حقِ ملکیت سے متعلق واقعات و روایات پیش کی گئی ہیں۔ مضمون اس امر پر زور دیتا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کے وصال کے بعد فدک کے معاملے میں حضرت فاطمہؑ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات آپؑ کی زندگی کے دردناک ابواب میں سے ہیں۔
والدین اپنی جوانی اور خواہشات اولاد کی پرورش پر قربان کر دیتے ہیں، مگر بڑھاپے میں ان کی حقیقی طاقت اولاد کا نرم اور محبت بھرا لہجہ ہوتا ہے۔
یہ احترام اور نرمی بچپن کی اس تربیت کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں والدین کی خدمت اور بڑھاپے کو بوجھ کے بجائے فرض سمجھنا سکھایا جائے۔
اولاد کی اصل کامیابی دنیاوی دولت یا عہدے میں نہیں بلکہ ایک بااخلاق اور دردِ دل رکھنے والا انسان بننے میں ہے جو والدین کو وقت اور عزت دے۔
چونکہ بچے زبانی نصیحت کے بجائے عملی کردار سے سیکھتے ہیں، اس لیے والدین کو اپنے عمل سے ان کی تربیت کرنی چاہیے تاکہ بڑھاپے میں وہ اپنے ہی گھر میں اجنبیت اور تنہائی سے محفوظ رہ سکیں
Parents sacrifice their youth, rest, and personal desires to raise their children, but in old age, their true strength comes from their children's gentle tone rather than mere physical support.
This softness and respect do not appear overnight; they stem from early moral upbringing that teaches children to honor aging parents rather than view them as a burden.
True success is not measured by high worldly status or wealth, but by raising empathetic human beings who make time for their parents and treat their frailties with compassion.
Since children learn character from action rather than spoken advice, parents must lead by example today to avoid the heartbreak of becoming neglected strangers in their own homes tomorrow.
نیابت کی تفریق: تحریر میں غیبتِ صغریٰ کی معین و شخصی ’’نیابتِ خاص‘‘ اور غیبتِ کبریٰ میں جامع الشرائط فقہاء کی مسلسل ’’نیابتِ عامہ‘‘ کے درمیان واضح فرق بیان کیا گیا ہے۔
جہاد پر فقہی آراء: متقدمین کے مشہور موقف کے برعکس (جو عدمِ معصوم میں جہادِ ابتدائی کو ساقط مانتے تھے)، آیت اللہ خوئی اور آیت اللہ خامنہ ای جیسے معاصر فقہاء شرائط کی موجودگی میں اس کے وجوب یا نفاذ کو باقی مانتے ہیں۔
قیادت اور نفاذ کی بنیاد: آیت اللہ خوئی نے انتشار (ہرج و مرج) کی روک تھام اور ’’بابِ حسبہ‘‘ کے تحت جہاد کا اختیار فقیہ کے سپرد کیا ہے، جبکہ آیت اللہ خامنہ ای اسے ’’ولایتِ امر‘‘ اور مصلحتِ عامہ کے دائرے میں رکھتے ہیں۔
نصاب کا پس منظر: تنظیم المکاتب کے نصاب میں ’’نائبِ امام‘‘ کی اجازت کی شرط دراصل ایک تنظیمی و سماجی حفاظتی اصول ہے، تاکہ کوئی بھی غیر ذمہ دار فرد یا جتھہ اپنی مرضی سے جہاد اور مسلح تصادم کا اعلان نہ کر سکے۔
Distinction of Deputyship: The text differentiates between the specific, historical Special Deputyship (Niyabat al-Khas) and the ongoing General Deputyship (Niyabat al-Amm) held by qualified jurists during the Major Occultation.
Jurisprudential Views on Jihad: While classical consensus largely viewed initiative jihad as suspended without an Infallible Imam, several contemporary authorities (such as Ayatollah al-Khoei and Ayatollah Khamenei) maintain that its obligation or execution can persist under specific conditions.
Authority and Execution: Grand Ayatollah al-Khoei grounds the jurist’s mandate to oversee such matters in Bab al-Hasbah and the prevention of social chaos, whereas Ayatollah Khamenei views it as an explicit prerogative of the Wali al-Amr.
Contextual Application to Tanzeem-ul-Makatib: The curriculum's requirement of authorization from the "Deputy of the Imam" reflects this jurisprudential need for institutional oversight, emphasizing that military action cannot be declared arbitrarily by unauthorized individuals or rogue groups.
ایران کے خلاف جنگ نے امریکی عسکری طاقت کے محدود اثرات کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں واشنگٹن کو 43 ارب ڈالر سے زائد کا مالی بوجھ اٹھانا پڑا اور اس کے اہم میزائل ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہو گئے۔ ایران نے آبنائے ہرمز اور اپنی میزائل صلاحیت کے ذریعے عالمی توانائی کے نظام کو متاثر کر کے جنگ کے معاشی نقصانات کا رخ براہِ راست امریکی عوام کی طرف موڑ دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عوام کو مہنگائی برداشت کرنے کی تلقین واشنگٹن کی تزویراتی پریشانی اور کسی حتمی نتیجے کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی برتری کے باوجود ایران کی غیر متزلزل مزاحمت نے اس تنازعے کو ایک مہنگے تعطل میں تبدیل کر دیا، جہاں امریکہ نہ فتح کا اعلان کر پا رہا ہے اور نہ ہی باعزت واپسی کا راستہ تلاش کر سکا ہے۔
The escalating conflict with Iran has exposed critical limits in American military dominance, costing Washington over $43 billion, draining vital missile stockpiles, and triggering domestic inflation at fuel pumps and grocery stores. Despite suffering heavy attrition, Iran's asymmetric tactics and leverage over the Strait of Hormuz disrupted global energy markets, ensuring the war's financial and economic fallout did not remain one-sided. Donald Trump’s rhetoric urging citizens to bear these rising expenses as a "small price" reflects growing strategic anxiety as Washington struggles to convert sheer firepower into political victory. Caught in an expensive war of attrition with depleted reserves and no clear path to triumph or graceful exit, the U.S. faces a costly stalemate that represents a major political success for Iranian defiance.
ناصبیت دراصل نفرت اور انتہا پسندی پر مبنی وہ زہریلی فکر ہے جو مذہب کے مقدس لبادے میں بربریت، دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتلِ عام کو جواز فراہم کرتی ہے۔ اس کی اصل جڑ رسولِ اکرمؐ اور اہلِ بیتؑ سے بغض و عداوت ہے، جو انسان سے رحم، اخلاق اور ضمیر کا احساس چھین لیتی ہے۔ اس فتنے کو فکری غذا ان متعصب مفتیوں اور واعظوں سے ملتی ہے جو منبر و محراب کو نفرت اور خونریزی کے پرچار کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ یہ سوچ اپنے چولے، عنوان اور منبر بدل سکتی ہے، مگر آلِ رسولؑ سے بغض اور ظلم کے دفاع کی اپنی اصل شناخت کبھی نہیں بدلتی۔
Nasibism is an ideological factory of hatred that legitimizes terror, extremism, and the persecution of innocents under a guise of religious sanctity. Driven by a deep-seated malice toward the Prophet and his Progeny (Ahl al-Bayt), it strips the human heart of conscience and transforms violence into an act of twisted devotion. This fanaticism is continually nurtured by radical clerics whose pulpit sermons and biased edicts sanctify bloodshed and justify historical atrocities. While its proponents may change their garb, names, or rhetoric over time, the true essence of Nasibism remains unchanged: unrelenting animosity toward the Ahl al-Bayt and an unyielding defense of tyranny.
یہ اقتباس صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کی روشنی میں یمن اور نجد کے درمیان تقابل پیش کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ یمن کی نرم دلی، ایمان اور حکمت کی تعریف فرمائی، ان کی سرزمین کے لیے برکت کی دعا کی اور حوضِ کوثر پر انہیں ترجیح دینے کی بشارت دی۔ اس کے برعکس، جب نجد کے لیے دعا کی درخواست کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں فتنوں، زلزلوں اور شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی پیشگوئی فرمائی۔ مجموعی طور پر یہ متن نبوی ارشادات کی روشنی میں یمن کی تاریخی اور روحانی فضیلت کو واضح کرتا ہے۔
This passage contrasts prophetic traditions concerning Yemen and Najd based on narrations from Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim. The Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his family) commended the people of Yemen for their soft-heartedness, declaring faith and wisdom to be Yemeni, while praying for their land and promising them precedence at his Basin. In stark contrast, when requested to bless Najd, he refrained, forewarning that earthquakes, tribulations, and the horn of Satan would arise from there. Overall, the text highlights the historical and spiritual virtue bestowed upon Yemen over Najd through prophetic testimony.
سید نجیب الحسن زیدی تنظیم المکاتب کے نصاب کا دفاع کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ شریعت کے بنیادی احکام اٹل ہیں جبکہ تدریسی اسلوب حالات کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ بچوں کے فہم کے مطابق فقہی اصطلاحات کو آسان بنانا—خصوصاً جہاد کو بااختیار دینی قیادت کے اذن سے مشروط کرنا—روایتی شیعہ فقہ کے عین مطابق ہے، نہ کہ شریعت میں کوئی تحریف۔ یہ شرعی قید ہندوستان جیسے جمہوری اور تکثیر الوجود معاشرے میں من مانی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ مصنف ناقدین کو لفظی بحث کے بجائے سنجیدہ علمی تحقیق کی دعوت دیتے ہوئے زور دیتے ہیں کہ ایک باحیات تعلیمی نظام کے لیے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے نصاب میں تدریسی لچک برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
This article defends Tanzeem-ul-Makatib's educational curriculum, arguing that simplifying complex jurisprudence (Fiqh) for children is a necessary pedagogical tool rather than an alteration of divine law (Sharia). It emphasizes that stating Jihad requires the authorization of a legitimate religious authority aligns with classical Shi'a jurisprudence and serves as a vital safeguard against vigilantism and extremist violence, especially in pluralistic societies like India. Furthermore, introductory textbooks must be understood within their educational and historical contexts rather than judged as advanced legal treatises.
Following the tragedy of Karbala, Imam Zayn al-Abidinؑ faced the insults of an elderly Syrian man with remarkable patience and composure despite being in captivity and enduring immense suffering. Through the Qur’anic verses concerning love for the Prophet’s family, the rights of his relatives, and the purification of the Ahl al-Baytؑ, the Imam calmly and wisely helped the man recognize the true identity of the Prophet’s family.
کربلا کے بعد شدید مصائب اور قید کی حالت میں امام زین العابدینؑ نے ایک شامی بوڑھے کی گستاخیوں کا صبر و تحمل سے سامنا کیا۔ امامؑ نے قرآن کی آیاتِ مودّت، حقِ قرابت اور تطہیر کے ذریعے نہایت حکمت اور اخلاق سے اسے اہلِ بیتؑ کی حقیقی شناخت سے آگاہ کیا۔ قرآن کی آیات پر غور کرنے کے بعد اس شخص کا تعصب دور ہوگیا اور وہ اپنے رویے پر نادم ہو کر توبہ کرنے لگا۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ صبر، اخلاق، حکمت اور علم کے ذریعے انتہائی نامساعد حالات میں بھی دلوں کو بدلا اور بڑے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنا تاریخی حقائق اور علمی دیانت کے صریح منافی ہے، کیونکہ یہ خطہ عہدِ رسالت سے لے کر قرونِ وسطیٰ تک اسلامی علوم کا عظیم مرکز رہا ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ کی قربتِ نبوی سے لے کر صحاحِ ستہ کے ائمۂ حدیث، فقہاء اور مفسرین (جیسے غزالی، رازی اور طبری) تک، اسلامی ورثے کی تشکیل میں اس سرزمین کا کردار بنیادی رہا ہے۔ قرآن کی رو سے فضیلت کا معیار تقویٰ ہے نہ کہ نسل یا آباؤ اجداد کا قدیم مذہب؛ لہٰذا سیاسی یا نظریاتی اختلاف کو دلیل کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایک پوری قوم کو صدیوں پرانے متروک مذہب کا طعنہ دے کر جھٹلایا جائے۔
Labeling modern Iran as "Majuus" disregards centuries of Islamic scholarship and ignores the foundational contributions of the Persian and Khurasanian regions. From the early devotion of Salman al-Farsi to the compilation of the major Hadith corpuses and landmark works in theology and exegesis, this civilization shaped core Islamic heritage. Ascribing a centuries-old pre-Islamic faith to an entire modern population contradicts Quranic principles, which measure honor by piety rather than ancestry. Valid disagreements—whether theological or political—warrant reasoned critique rather than historically inaccurate, derogatory generalizations.
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات تقصیر (معرفت میں کمی) اور غلو (مخلوق کو خدائی صفات دینا) دونوں انتہاؤں کی نفی کرتی ہیں۔ ائمہؑ نے مقصر کی تلافی و اصلاح کا دروازہ کھلا رکھا کیونکہ وہ صحیح معرفت ملتے ہی اطاعت و بندگی کی طرف لوٹ آتا ہے، مگر غلو کو سختی سے مسترد کیا کیونکہ غالی فرائض چھوڑ کر توحید کی حدیں پامال کر دیتا ہے۔ محبتِ اہلِ بیتؑ کا حقیقی معیار ذاتی دعوے نہیں بلکہ خالص توحید اور شرعی اطاعت کی پابندی ہے۔ اصل دین یہی اعتدال ہے کہ نہ ان کے مقام کو گھٹایا جائے اور نہ ربوبیتِ الٰہی کی حدود کو توڑا جائے۔
The teachings of the Ahl al-Bayt (as) warn against the two extremes of taqseer (deficiency in recognizing their status) and ghuluw (exaggerating their status into divine authority). While the Imams accepted the Muqassir because their lack of knowledge can be reformed through truth and obedience, they decisively rejected the Ghali for abandoning foundational obligations and diminishing Allah's majesty. True devotion to the Ahl al-Bayt (as) is not measured by extreme claims, but by maintaining the absolute supremacy of Tawhid and upholding servitude to Allah.
اسلامی فکر میں رہبری اقتدار یا خاندانی نسبت کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، فکری بصیرت، مشاورت اور جواب دہی پر مبنی ایک مقدس دینی امانت ہے۔ قرآنی و احادیثی معیار کی روشنی میں تحریر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کا جائزہ لیتی ہے، جنہیں شدید معاشی اور جیو پولیٹیکل دباؤ کے دور میں زمامِ قیادت سنبھالنی پڑی ہے۔ ایک حقیقی رہبر کی بنیادی قوت یہ ہے کہ وہ بحران کے وقت قوم میں اتحاد، اعتماد اور حوصلہ پیدا کرے۔ بالآخر، دینی قیادت کو ہمیشہ شخصیت کے بجائے اصول، اور شہرت کے بجائے عملی کردار اور اہلیت کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔
In Islamic thought, leadership is a sacred trust grounded in piety, scholarly competence, mutual consultation, and accountability rather than power or lineage. Applying these criteria established by the Quran and Ahl al-Bayt, the text examines Ayatollah Sayyid Mojtaba Khamenei's leadership amid severe geopolitical and economic challenges. It emphasizes that a leader's true strength lies in instilling national unity and public trust during crises. Ultimately, leadership must be judged by principles over personality and character over renown.
شہادت موت کا نام نہیں بلکہ ابدی بیداری ہے، جہاں قربانی نظریے کی گواہی بن جاتی ہے۔ سید حسن نصراللہ کی شہادت نے دلوں کو مغموم ضرور کیا، لیکن قرآنی فرمان کے مطابق وہ اپنے رب کے حضور زندہ و جاوید ہیں۔ ان کی توانا آواز خاموش ہونے کے باوجود ان کا عزم اور پیغام ہر دل میں زندہ ہے۔ درحقیقت، ان کی قربانی پسماندگان کے لیے یہ دعوتِ فکر ہے کہ ان کے مشن کو محض آنسوؤں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے کردار اور عمل سے زندہ رکھا جائے۔
Martyrdom is depicted not as an end, but as an eternal awakening where sacrifice bears witness to enduring conviction. Reflecting on the loss of Sayyid Hassan Nasrallah, the text conveys profound grief alongside the Quranic assurance that martyrs remain alive with their Lord. Though his physical presence and voice are gone, his message and resolve persist in the hearts of the people. Ultimately, his sacrifice poses an enduring challenge to the living: to honor his memory not merely through grief, but through steadfast faith, character, and action.
بہن زندگی کا ایک ایسا انمول سہارا اور جذباتی قلعہ ہے جو انسان کے بچپن کی تمام یادوں اور رازوں کی امین ہوتی ہے۔ سائنسی و نفسیاتی تحقیقات کے مطابق بہن کا پرخلوص تعلق ذہنی دباؤ کو کم کر کے قدرتی دوا کی مانند صدمات سے نکلنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے تمام رشتے وقت اور مصروفیات کے ساتھ ماند پڑ سکتے ہیں، لیکن بہن کی محبت عمر، فاصلوں اور تبدیلیوں کے باوجود سدا بہار رہتی ہے۔ اس کے سامنے انسان بنا کسی جھجھک کے اپنا حقیقی روپ جی سکتا ہے، جو دل کے سکون کے لیے ایک بے لوث پناہ گاہ ہے۔ ایک شفیق بہن کا وجود درحقیقت زندگی کی ان نایاب نعمتوں میں سے ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔
A sister is not merely a family member, but an irreplaceable emotional anchor and a living archive of shared childhood memories. Scientific studies—including long-term research from Harvard—demonstrate that this close, affectionate bond naturally reduces stress, alleviates anxiety, and accelerates healing after life’s hardships. Unlike other relationships that often fade with time, the love of a sister transcends age and distance, offering an unconditional safe haven where one can be entirely authentic. Having a compassionate sister is an invaluable blessing, providing lifelong comfort that often proves more restorative than any medicine.
یہ تحریر امتِ مسلمہ کی تاریخ میں اقتدار پرستی اور ثقلین (قرآن و اہلِ بیتؑ) کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتی ہے۔ جہاں ملوکیت اور حکمرانوں نے مذہب کو ظلم، جبر اور خونی فتوحات کے جواز کے لیے استعمال کیا، وہیں اہلِ بیتؑ اور ان کے پیروکاروں نے کربلا کی مانند اصول، عدل اور قربانی کی لازوال تاریخ رقم کی۔ معاصر دور میں ۱۹۷۹ء کے بعد کا ایران اسی نظریاتی مزاحمت اور خود مختاری کا ایک عملی نمونہ پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تحریر کا بنیادی حاصل یہ ہے کہ تاریخ فتوحات اور اقتدار سے نہیں، بلکہ ظلم کے دور میں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے کردار سے یاد رکھی جاتی ہے۔
Muslim history reveals a sharp divergence between the corrupting pursuit of political power and the moral path of the Thaqalayn (the Qur'an and the Prophet’s Ahl al-Bayt). While empires routinely weaponized religion to justify tyranny, bloodshed, and conquest, the Ahl al-Bayt and their adherents chose sacrifice, justice, and spiritual steadfastness over worldly compromise—exemplified by Karbala. In the modern era, post-1979 Iran is presented as an ongoing test of whether a nation can maintain this ideological resistance and sovereignty against foreign dominance. Ultimately, history measures greatness not by transient authority or conquered lands, but by where one stood when confronting injustice.
In the previous article, we were very bold. We thoughtlessly asked questions from history and mistakenly asked questions that seem to be against science. While this was not the idea at all. The idea was that the harmony of religion, philosophy and science is the root, branches and fruit of consciousness.
پچھلے مضمون میں بڑی جسارت ہو گئی۔ ہم نے بے خیالی میں تاریخ سے سوالات پوچھے اور غلطی سے ایسے سوالات پوچھ لیئے جو ظاہری طور پرسائینس کے مخالف لگ رہے ہیں۔ جبکہ ایسا بالکل خیال نہیں تھا۔ خیال تو یہ تھا کہ مذہب، فلسفہ اور سائینس تینوں کی ہم آہنگی ہی شعورکی آصل و فروع و ثمر ہے۔ کیونکہ
It is noteworthy that this investigation was done only eighteen years ago with modern technology, which the scientists themselves are not fully familiar with.
But no one was aware of this natural phenomenon and the miracle of mother's milk, except the one upon whom the Holy Quran was revealed and who is the heir to this Book.
قابلِ غور بات یہ ہیکہ یہ تفتیش صرف اٹھارہ سال پہلے کی گئی اور ٹیکنولوجی بھی جدید ہے جس سے خود سائینسدان پوری طرح واقف کار نہیں۔
مگر اس قدرتی مظہر اور شیرِ مادر کے کرشمے سے واقفیّت کسی کو نہ تھی۔ سوائے اس کے کی جس پر قراٰن مجید نازل ہوا اور جو اس کتاب کا وارث ہے۔
یہ تحریر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روشنی میں "واقعۂ قرطاس" کے تناظر میں اطاعتِ رسول اور حرمتِ رسالت کے اصولوں کا جائزہ لیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی وفات سے قبل جب امت کو گمراہی سے بچانے کے لیے وصیت لکھنے کا سامان طلب فرمایا، تو اس کے مقابلے میں رائے زنی کی گئی اور "یہجر" جیسے نامناسب کلمات کہے گئے۔ ان مخالفتوں اور شور و غوغا کے سبب تحریر کا عمل رک گیا، جس پر نبی کریمؐ نے شدید ناراض ہو کر حاضرین کو مجلس سے چلے جانے کا حکم دیا۔ مصنف کا استدلال ہے کہ قرآن جب رسولؐ کی مطلق اطاعت اور ادب کا حکم دیتا ہے، تو ان کے صریح حکم کی مخالفت اور بے ادبی کو کسی بھی طور پر معمولی نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ مضمون قارئین کو مسلکی تعصب سے بالا تر ہو کر اس تاریخی سانحے کی بنیاد پر حرمتِ رسالت کے حقیقی قرآنی معیار پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔