LogoDars e Mahdi ATFS

خدا موجود ہے | سب کو دستیاب نہیں (Series - Article 4)

Does god exists. Yes, his exists but is not available for all
Author Sayed Minhal in blue shirt
سید منہال
Sayed Minhal

پچھلے مضمون میں بڑی جسارت ہو گئی۔ ہم نے بے خیالی میں تاریخ سے سوالات پوچھے اور غلطی سے ایسے سوالات پوچھ لیئے جو ظاہری طور پرسائینس کے مخالف لگ رہے ہیں۔ جبکہ ایسا بالکل خیال نہیں تھا۔ خیال تو یہ تھا کہ مذہب، فلسفہ اور سائینس تینوں کی ہم آہنگی ہی شعورکی اصل و فروع و ثمر ہے۔ کیونکہ

  • مذہب بتاتا ہے: کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔، حق کیا ہے اور کیا باطل۔
  • فلسفہ کے بغیر صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، حق و باطل کی پہچان نہیں ہو سکتی۔
  • اور آخر بنا سائینسی تجربات کے بھلا کیسے معلوم ہو کی صحیح کیوں صحیح ہے اور غلط کیوں غلط۔؟

عقل جب تک حق و باطل کے تضاد سے متعرف نہ ہو، ذہن و قلب؛ اطمینان کی سرحدوں تک نہیں پُہنچ پاتے۔ اور جب عقل و ذہن و قلب و اطمینان حق و باطل کا تدارک کر لیتے ہیں تب یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہیں یقین کہتا ہے۔ خدا موجود ہے۔۔۔ یہیں وجود پر علم الیقین کی منزلیں کھلتی ہیں۔ اسکے آگے یقین کی دو اور منزلیں ہیں۔ عین الیقین اور حق الیقین۔ آخرش وجود "انسانِ کامل" ہو کر تمام پردوں کے بعید خدا کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔ پھر یقین وجود کو خلعتِ عرفانِ ایذدی سے مزیَّن کرکے فخر کرتا ہے۔

وجودِ کامل، یقین کی آخری منزلوں سے گذرکے کہتا ہے:

عَرَفْتُ اللهَ سُبْحَانَهُ بتزک الْعَزَائِمِ، وَحَلِّ الْعُقُودِ، وَنَقْضِ الْهِمَمِ
ترجمہ: میں نے اللہ سبحانہ کو ارادوں کے ٹوٹ جانے، عہد و پیمان کے بکھر جانے اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے پہچانا ہے

ارادوں کی شکستوں پر ثنا خوانی سے پہچانا

خدایا میں نے تجھ کو کتنی آسانی سے پہچانا

(کلیم حیدر شرر)

موضوع سے متصل ہوتے ہوئے سوالات کے ضمن میں کچھ بات کرتے ہیں۔ہم نے سوال پوچھا۔۔۔

کیا ہر انسان سائینس دان، عاقل و فہیم ہو یہ ممکن ہے؟

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہر شخص ہر چیز کا جانکار ہو وہ اسلیئے کے ایک ڈاکٹر موٹرکار کی اصلاح نہیں کر سکتا مگر وہ انسانی طبیعت کی اصلاح کر سکتا ہے بعینہ ایک میکینک موٹر کی اصلاح کر سکتا ہے۔ یہاں علم کی حدود اور انسانی استطاعت مسئلہ ہے۔ مولانا اور پروفیسر دونوں سے پیریوڈک ٹیبل اور تھیوری آف ریلیٹیوٹی کے بارے میں پوچھا جائے تو پروفیسر کے بیانات تا حدِ نظر زیادہ قابلِ اعتماد ہونگے به مقابل مولانا کے بیانات کے۔ نا تو میکینک کا علم فضول ہے، نا ہی ڈاکٹرکا، اور نا ہی دونوں ہر دو میدان کے دائرہ کار میں کارآمد۔

یہاں ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ سائنس نے کائنات، مادے، حیات اور انسانی جسم کے بارے میں ہماری معلومات میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ جدید طب، فلکیات، طبیعیات، کیمیا، حیاتیات اور ٹیکنالوجی اس کامیابی کی واضح مثالیں ہیں۔ حیاتیاتی ارتقا بھی جدید حیاتیاتی علوم کا بنیادی تصور ہے اور مختلف شعبوں سے حاصل ہونے والے شواہد سے مضبوط طور پر تقویت پاتا ہے۔ مگر پھر بھی سائینس کے انکشافات حتمی نہیں بالکہ ترقی پذیر ہیں، جو مثبت پہلو ہے۔

سوال پھر دہرا دیتا ہوں۔ کیا کنویں سے پانی نکالنے کے لیئے ہائیڈرولکس جاننا ضروری ہے؟

کیا سائینس نے جو انکشافات کیئے وہ حتمی ہیں؟

انتہائی اہم بات یہ ہیکہ چاہے وہ سائینسدان ہو یا عالمِ دِین یا کہ فلسفی؛ کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہی حتمی ہے۔ وہ اسلیئے کے مشاہدے کی رو سے، جو کلیدیں، انکشافات اور اصول؛ صرف سو سال قبل مقبول و مستند تھے اب نہیں رہے۔

مثلا سائنس کے کچھ اصول مندجہ ذیل ہیں جو متغیر ہو چکے ہیں۔

1. پلوٹو کا درجہ (Status of Pluto)

پرانا تصور: 2006 سے پہلے، پلوٹو کو ہمارے نظامِ شمسی کا نواں سیارہ (9th Planet) مانا جاتا تھا اور درسی کتب میں اسے اسی طرح پڑھایا جاتا تھا۔ اب وہ ڈوارف پلانیٹ ہے۔

2۔ ڈائنوسارس (Dinosours)

کو پہلے سرد خون والی چھپکلیوں کی نسل سمجھا جاتا تھا پر اب نئے فوسلز کی دریافت کے بعد انھیں پروں والے پرندوں کے زمروں میں منتقل کر دیا گیا ہے

3۔ انسانی دماغ کی لچک یا نیوروپلاسٹیٹی Neuroplasticity

پرانا تصور: بیسویں صدی کے اواخر تک طبی سائنس کا یہ نظریہ تھا کہ انسانی دماغ صرف بچپن میں ترقی کرتا ہے۔ پرتحقیق نے اس نظریے کو غلط ثابت کیا۔ اب سائنسدان جانتے ہیں کہ انسانی دماغ زندگی بھر خود کو بدلنے، نئے رابطے بنانے اور نئے خلیات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کیا انسانوں کیساتھ نا انصافی اور مظالم صرف مذہبی تاریخ کا حصہ ہیں؟

تاریخ کا ایک رخ دکھا کر کچھ باتیں چھپانا علمی خیانت ہے۔ کیا بیسویں صدی کے ہولوکاسٹ، نازی ازم، اسٹالن اور ماؤ زیڈونگ کے کمیونسٹ مظالم مذہبی تحاریک کا نتیجہ تھے؟ ان الحادی اور سیکولر نظریات کی جنگوں میں کروڑوں انسان مارے گئے۔ سائنسی ایجادات (ایٹم بم، کیمیائی ہتھیار) نے انسانیت کا کتنا نقصان کیا؟ پس ظلم کا تعلق انسان کے **جہل اور مفاد پرستی** سے ہے، نہ کہ صرف مذہب سے۔

ذرا اس صفحہ کو ملاحظہ فرمائیں:چارلس فلپس اور ایلین ایکسل روڈ Encyclopedia of Wars، یا آر جے رومیل کی ڈیٹھ بائے گورنمنٹ پڑھیں Death By Government اور خود فیصلہ کریں۔ تناسب کے لحاظ سے مذہبی جنگوں میں انسانی جان کا نقصان 4 فیصد سے بھی کم ہے۔ اب وہ چار شہسوار مذہب اور تشدد کو چاہیں جتنا ملانا چاہیں ملا لیں، تاریخ تو تاریخ ہے۔

بالفرض خدا موجود نہیں، اسی طرح بالفرض خدا موجود ہوا تو، نقصان کیا ہوگا؟

اس اعتراض کے جواب میں آئمہ اہلیبت کے جوابات پر ورق گردانی ہمارے علم و یقین میں خاطر خواہ اضافے کا باعث ہوگی لہٰذا جو پاسکل کا جوا (Pascal's Wager) جیسی باتیں ہیں انھیں نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔

کیا نیچرل سیلیکشن، طبعیات، فلکیات اور کیمیا کی کلیدوں کو چیلیج کیا جاسکتا ہے؟

جناب رچرڈ ڈاکنز صاحب، آپ نے قابلِ ستائش کارنامہ انجام دیا ہے مگر آپ کو صرف فخر کرنا چاہیئے گھمنڈ نہیں۔ قوانینِ فطرت بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ کوئی قانون ساز ہے۔ ڈیزائینر، کریئیٹر، اوریجنیٹر ہے۔ کائنات کا منظم نظام ایک زبردست اور علیم خالق کا پتہ دیتا ہے۔

آپ کیلیئے ایک تجویز ہے، روبن کالن (Robin Collin) کا مکالمہ ملاحظہ فرمائیں، جس کا عنوان ہے فائین ٹیوننگ۔ (Fine-Tuning)

یا پھر یہ مکالمہ دیکھیں، جسے ایک ایسے شخص نے لکھا ہے، جو خود ایک ملحد (Atheist) ہوا کرتا تھا اور اسکا نام ہے، آنتھونی فلیو (Anthony Flew)، کتاب ہے: "دیر از اے گاڈ"

There is a God: How the World's Most Notorious Atheist Changed His Mind

اب ان سوالات اور انکے جوابات پر غور کیا، توحقیقتیں واضح ہونے لگی اور سقراط کا وہ جملہ یاد آیا۔

"میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا"
I know one thing, that I know nothing

پھر میں کیا اور میرا علم کیا… میں کیا اور میری حق شناسی کی کیا اہمیت… اور… میرا مشاہدہ بھی محدود… میرا عرفان بے بضاعت…، میرا تدارک اور یقین حقیقتوں سے بعید… مجھے اس بات سے شرم آتی ہے کے میں خدا کے وجود پر بات کروں۔

یہ وہ عنوان ہے، جو اسی کی شایانِ شان ہے جو شاہد ہو اوراس شہادت کفیٰ میں شامل کر لیا گیا ہو، جو یہ کہہ سکے کی

ولكِن وَجَدتُكَ أهلًا لِلعِبادَةِ فَعَبَدتُك‌
ترجمہ: تجھے لائق عبادت پایا اس لئے تری عبادت کی
Bihar al-Anwar: Allamah Majlisi, Volume 41, Page 14
Sharh Nahj al-Balagha: Ibn Abi al-Hadid، Mu'tazilite

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَا یَبْلُغُ مِدْحَتَهُ الْقَآئِلُوْنَ، وَ لَا یُحْصِیْ نَعْمَآئَهُ الْعَادُّوْنَ وَ لَا یُؤَدِّیْ حَقَّهٗ الْمُجْتَهِدُوْنَ، الَّذِیْ لَا یُدْرِكُهٗ بُعْدُ الْهِمَمِ، وَ لَا یَنَالُهٗ غَوْصُ الْفِطَنِ، الَّذِیْ لَیْسَ لِصِفَتِهٖ حَدٌّ مَّحْدُوْدٌ، وَ لَا نَعْتٌ مَّوْجُوْدٌ، وَ لَا وَقْتٌ مَّعْدُوْدٌ،وَ لَاۤ اَجَلٌ مَّمْدُوْدٌ.
ترجمہ:تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں، نہ اس کیلئے توصیفی الفاظ ہیں، نہ اس (کی ابتدا) کیلئے کوئی وقت ہے جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہو جائے۔
نہج البلاغہ ۔ خطبہ 1؛
Nehjul Balagha: Sermon 1

تحریر سید منہال ، (ابنِِ شرر)

Social Media: Share