LogoDars e Mahdi ATFS

قارون کا انجام کیا ہوا؟ | دولت، تکبر اور اللہ کا عذاب | Qaroon Ka Anjaam

قارون کا انجام کیا ہوا؟ | دولت، تکبر اور اللہ کا عذاب | Qaroon Ka Anjaam
Author Sayed Minhal in blue shirt
سید منہال
Sayed Minhal

قارُون کا انجام: دوْلَت، تَکَبُّرْ اور عِبْرَت کی داستان

داستان ہائے پَراگندہ ۔اُردو ترجمہ بِکھرے موتی۔ میں عَبْدُ الحُسَیْن دستِ غَیْب شِیرازی لکھتے ہیں۔ قارُون بنی اسرائیل کا ایک بہت بڑا دوْلَت مند شخص تھا۔

اس کے پاس بے شمار مال و دوْلَت، سونا، چاندی اور قیمتی خزانے تھے۔ روایات میں اس کے خزانوں کی کثرت اور اس کی دوْلَت کی فراوانی کا ذکر ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے خزانے کی چابیاں بھی بہت زیادہ تھیں اور انہیں اٹھانا آسان نہ تھا۔

قارُون کو اپنی دوْلَت پر بہت ناز تھا۔

جب اسے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی ترغیب دی گئی تو اس نے اس حق کو قبول کرنے کے بجائے تکبُّر اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔

وہ اپنی دوْلَت کی نُمائش کرنے لگا۔

اس کے لباس، سواری، خادم اور شان و شوکت دیکھ کر دنیا پرست لوگ حیران رہ جاتے تھے۔ وہ کہتے تھے:

"کاش! ہمارے پاس بھی قارُون جیسی دوْلَت ہوتی۔"

لیکن اہلِ بصیرت جانتے تھے کہ اصل کامیابی مال و دوْلَت کی کثرت نہیں، بلکہ اللہ کی اطاعت اور آخرت کی کامیابی ہے۔

قارُون کی سرکشی صرف دوْلَت تک محدود نہ رہی۔

اس نے حضرت مُوسیٰ کی مخالفت شروع کر دی۔ وہ لوگوں کے دلوں میں حضرت مُوسیٰ کے خلاف بدگمانی پیدا کرنا چاہتا تھا۔

روایات میں آتا ہے کہ قارُون نے ایک عورت کو مال دے کر حضرت مُوسیٰ پر ایک سنگین الزام لگانے کے لیے آمادہ کیا۔

ایک دن جب حضرت مُوسیٰ بنی اسرائیل کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے، تو قارُون نے لوگوں کے سامنے حضرت مُوسیٰ پر وہ الزام عائد کرنے کی کوشش کی۔

حضرت مُوسیٰ نے اس الزام کی حقیقت دریافْت کی۔

تب اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائی۔

اس نے اعتراف کیا کہ قارُون نے اسے مال دے کر حضرت مُوسیٰ پر جھُوٹا الزام لگانے کے لیے تیار کیا تھا۔

یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بُہتان اور سازش سے محفوظ فرما لیا۔

حضرت مُوسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی۔

روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حضرت مُوسیٰ کے اختیار میں دے دیا۔

حضرت مُوسیٰ نے زمین کو حکم دیا، اور قارُون زمین میں دھنسنے لگا۔

پہلے وہ گھُٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔

پھر کمر تک۔

پھر گردن تک۔

قارُون نے حضرت مُوسیٰ سے مدد مانگی۔

لیکن اس وقت بھی اس کی توجہ اپنی دوْلَت اور اپنی جان بچانے پر تھی۔ اس نے اپنے گناہ پر حقیقی توبہ اور رجوع نہیں کیا۔

بالآخر قارُون اپنی دوْلَت سمیت زمین میں دھنس گیا۔

قرآنِ مجید بھی قارُون کے انجام کو ایک عظیم عِبْرَتْ کے طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے مال و دَوْلَتْ کو زمین میں دھنسا دیا۔

جو لوگ کل تک قارُون جیسی دوْلَت کی خواہش کرتے تھے، وہ اس کا انجام دیکھ کر کہنے لگے:

"ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ اپنے بندوں کے لیے رِزْق کُشادہ بھی کرتا ہے اور محدود بھی۔ اگر اللہ ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔"

قارُون کے اَنجام میں ایک بہت بڑا سبق ہے۔

دوْلَت بری چیز نہیں، لیکن دوْلَت پر غرور انسان کو تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مال اللہ کی نعمت ہے، مگر اس نعمت کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

زکوٰۃ، صدقہ، شکر اور اللہ کی اطاعت ہی مال کو باعثِ خیر بناتے ہیں۔

اور جب دوْلَت انسان کے دل میں تکبُّر، ظلم اور نافرمانی پیدا کر دے، تو وہی دوْلَت اس کے لیے وبال بَن سکتی ہے۔

قارُون کے پاس دنیا کا بہت سا مال تھا،
لیکن وہ اپنی دوْلَت کو اپنے انجام سے نہ بچا سکا۔

اس لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کے پاس کتنا مال ہے۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کے پاس کتنا ایمان، تقویٰ، شکر اور نیک عمل ہے۔

قارُون کی داستان ہمیں آج بھی یہی پیغام دیتی ہے:

دوْلَت حاصل کرو، مگر دوْلَت کو اپنے دل کا مالک نہ بننے دو۔

Social Media: Share