LogoDars e Mahdi ATFS

مقامِ منیعِ فاطمۃ الزہرا: منشائے الٰہی، تاریخی حقائق اور آزمائشِ ایمان

مقامِ منیعِ فاطمۃ الزہرا: منشائے الٰہی، تاریخی حقائق اور آزمائشِ ایمان
کاظمہ عباس | (Kazma Abbas)
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas

السلام علیک یا بقیۃ اللہ! السلام علیک یا ابن الزہرا (سلام اللہ علیہا)۔

فضائلِ جنابِ فاطمۃ الزہرا (سلام اللہ علیہا):

قدیم دور کے اہل سنت علمائے کرام میں بھی جو اربابِ حق تھے، وہ شریعت اور فقہ کے شناور تھے اور اہلِ بیتِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلند مرتبے، عظمت اور مناقب سے بخوبی آگاہ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اہل بیت کی محبت کے بغیر نماز بھی بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت نہیں پا سکتی۔ یہی وہ حقیقت تھی جس کے اعتراف میں امام شافعی کا یہ شہرہ آفاق شعر سامنے آیا:

"یا أھلَ بیتِ رسولِ اللہِ حبُّکمُ۔۔۔ فرضٌ منَ اللہِ فی القرآنِ أنزلَہُ
کفاکمُ من عظیمِ الفخرِ أنّکمُ۔۔۔ مَن لم یُصلِّ علیکم لا صلاۃَ لہُ"
(اے رسولِ خدا کے اہل بیت! آپ کی محبت اللہ کی طرف سے قرآن میں نازل کردہ ایک فریضہ ہے؛ اور آپ کی عظمت و منزلت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو آپ پر درود نہ بھیجے، اس کی نماز ہی قبول نہیں ہوتی۔)

اسی طرح وہ اشعار جو مولا علی (علیہ السلام) کے فضائل و مناقب میں کہے گئے، واضح کرتے ہیں:

"علی کی محبت سپر (ڈھال) ہے، وہ جنت اور دوزخ کے تقسیم کنندہ ہیں؛ وہ رسولِ مصطفیٰ کے برحق وصی اور تمام انسانوں و جنات کے امام ہیں۔"

یہ مدحیہ کلام خود اہل سنت کے معتبر علماء نے مولا علی (علیہ السلام) کی شان میں قلمبند کیے ہیں۔

مگر افسوس کہ اگر آج کے دور کو دورِ جاہلیتِ ثانیہ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا—یہ دور حقیقی اسلام سے دوری اور اس کی اساسی تعلیمات سے بے اعتنائی کا دور ہے۔ قرآنِ مجید کے واقعات اور عبرتوں کو محض ماضی کے قصے سمجھا جا رہا ہے۔ عصرِ حاضر کی مادی ترقیات کو کتابِ الٰہی اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کے علم و کردار پر فوقیت دی جانے لگی ہے۔ دنیاوی جاہ و جلال، اقتدار اور مال و دولت ہی کو لوگوں نے اپنا معبود بنا لیا ہے، جبکہ قومیت اور قبیلہ پرستی کو اصل بندگی کا نام دے دیا گیا ہے۔

چند نام نہاد تعلیم یافتہ افراد کا وہ گروہ، جو قرآن، فقہ اور حدیث کے عمیق علم سے کوسوں دور ہے، روایتی مسلک سے کسی گہرے فکری یا عقیدتی شعور کے تحت نہیں، بلکہ محض اس لیے وابستہ ہے کہ یہ عددی اعتبار سے اکثریت میں ہے۔ دورِ حاضر میں کثرتِ تعداد کو اقتدار کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اکثریت ہی سے قومیت کی تشکیل کی جاتی ہے۔ اس لاعلمی اور جمود کی بنا پر ان لوگوں نے قرآن، فرامینِ نبوی اور احکامِ شریعت سے انحراف کرتے ہوئے علی اور اہلِ بیتِ نبوت (علیہم السلام) سے بغض و عداوت کو اپنا وتیرہ بنا لیا ہے۔ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ حبِّ علی ان کے قومی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہے، اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ احادیثِ رسول کی علانیہ مخالفت کے باوجود ان کے ایمان میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا۔

وہ قرآنِ مجید کے اس جزوی فقرے کو—"کہہ دیجیے کہ میں تو صرف تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں"—سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنی دلیل بناتے ہیں، اور بغیر کسی تدبر کے یہ فرض کر بیٹھتے ہیں کہ رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر اعتبار سے عام انسانوں جیسے ہی تھے۔ ان کی خام خیالی ہے کہ جس طرح ایک دنیا دار حاکم اپنے اقتدار کو اپنے ہی گھرانے میں محفوظ رکھنے کا خواہاں ہوتا ہے، اسی طرح رسولِ خدا نے بھی—نعوذ باللہ—اس الٰہی حکومت اور قیادت کو اپنے خاندان تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ اسی غلط زاویۂ نگاہ کی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آنحضرت نے محض خاندانی جانبداری کے تحت حضرت علی کو اپنا جانشین منتخب کیا، اور اپنے قرابت داروں کا درجہ بلند کرنے کے لیے اہلِ بیت کی ایسی توصیف فرمائی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

بعض لوگ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ مغالطہ پیش کرتے ہیں کہ رسولِ خدا کی متعدد بیٹیاں تھیں، مگر چونکہ جنابِ فاطمہ کا نکاح حضرت علی سے ہوا تھا، اس لیے ساری مدح و ستائش انہی کے لیے مخصوص کر دی گئی۔ حالانکہ مستند تاریخی و تحقیقی شواہد جنابِ سیدہ فاطمۃ الزہرا (سلام اللہ علیہا) کی بے مثل اور منفرد حیثیت کو ثابت کرتے ہیں۔ اگر پیغمبرِ اکرم کی دیگر صلبی بیٹیاں ہوتیں اور وہ ان کے وجود کو یکسر نظر انداز کر کے تمام فضائل، اعزازات اور تعظیم صرف جنابِ فاطمہ کے لیے روا رکھتے، تو یہ امر رسولِ اللہ کے کمالِ عدل کے صریح منافی ہوتا۔ درحقیقت، بیتِ نبوت میں پرورش پانے والی دیگر بیٹیاں جنابِ خدیجہ کی بہن کی اولاد تھیں، جن کی کفالت پہلے جنابِ خدیجہ اور بعد ازاں شادی کے بعد نبیِ اکرم نے ازراہِ شفقت فرمائی تھی۔

رسولِ اسلام نے اپنی دخترِ گرامی، اپنے نواسوں اور مولائے کائنات (علیہ السلام) کی عظمت و جلالت کو مجمعِ عام میں روزِ روشن کی طرح آشکار کیا۔ آپ نے اپنے نواسوں کو دوشِ رسالت پر بٹھایا، انہیں "جوانانِ جنت کے سردار" کا لقب دیا، اور نجات کا پروانہ ان کی محبت و اطاعت سے وابستہ کیا۔ یہ سب کسی ملوکیت یا خاندانی اقتدار کی بنیاد رکھنے کی خاطر نہ تھا۔ مگر افسوس کہ سقیفۂ بنی ساعدہ میں خدا اور اس کے رسول کے صریح احکام کو پسِ پشت ڈال کر، مولائے کائنات کی جگہ ابوبکر کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا۔ اور آج کا غافل انسان ان واقعات کو یہ کہہ کر سندِ جواز فراہم کرتا ہے کہ سقیفہ کا اقدام ایک مبینہ خاندانی اقتدار کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا ضروری قدم تھا!

حالانکہ حقیقت اس مفروضے کے بالکل برعکس ہے۔ اگرچہ پیغمبرِ اسلام ایک بشری پیکر میں مبعوث ہوئے، لیکن انہوں نے یہ حقیقت واضح کر دی تھی کہ گو وہ ظاہری طور پر شریعت و احکامِ الٰہی کے پابند ایک بشر کے روپ میں زندگی گزار رہے ہیں، مگر ان کی تخلیق، طہارت اور نورانی حقیقت عام انسانوں سے بالکل جدا ہے۔ جیسا کہ کلامِ الٰہی گواہی دیتا ہے:

"اور وہ اپنی خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتے۔ یہ تو بس وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔" (سورۃ النجم: ۳–۴)

چونکہ رسولِ اکرم کا ہر قول اور فعل وحیِ الٰہی کے تابع تھا، اس لیے اہلِ بیتِ اطہار کے متعلق انہوں نے جو فضائل بھی بیان فرمائے—خواہ وہ مولا علی کو اپنا بھائی، وصی اور جانشین مقرر کرنا ہو، ان کے بعد گیارہ برحق ائمہ کا تعارف کرانا ہو، یا جنابِ فاطمۃ الزہرا کی شانِ اقدس میں کلمات فرمانا ہو—وہ سب منشائے الٰہی اور امرِ ربی کے عین مطابق تھا، نہ کہ کسی ذاتی یا خاندانی عصبیت کی بنا پر۔

مگر تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرت کی رحلت کے فوراً بعد، گنتی کے چند باوفا اصحاب کے سوا، لوگ دنیاوی مفادات اور اقتدار کی طرف دوڑ پڑے اور سب نے الٰہی نظام کو تتر بتر ہوتے خاموشی سے دیکھا۔ مولائے کائنات نے رسولِ خدا سے کیے گئے عہدِ صبر و ضبط کی پاسداری کرتے ہوئے اس غصب پر صبرِ جمیل اختیار کیا۔

اور جب جنابِ فاطمۃ الزہرا (سلام اللہ علیہا) دینِ اسلام کے الٰہی تحفظ اور ولایت کے دفاع کے لیے میدان میں تشریف لائیں، تو آپ پر مصائب و آلام کے وہ پہاڑ توڑے گئے جن کے کرب کا اظہار خود بی بی نے اپنے اس معروف نوحے میں فرمایا:

"صُبَّتْ عَلَیَّ مَصَائِبُ لَوْ أَنَّھَا۔۔۔ صُبَّتْ عَلَی الْأَیَّامِ صِرْنَ لَیَالِیَا"
(مجھ پر ایسے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے کہ اگر وہ چمکتے ہوئے دنوں پر آن پڑتے، تو وہ تاریک راتوں میں تبدیل ہو جاتے۔)

کیا یہ وہی فاطمہ نہ تھیں جن کے اعزاز و احترام میں رسولِ خدا کھڑے ہو جایا کرتے تھے، انہیں اپنی مسند پر بٹھاتے تھے، اور فرطِ محبت و عقیدت سے ان کے دست و پیشانیِ مبارک کا بوسہ لیا کرتے تھے؟ نہ صرف سرورِ کائنات، بلکہ ملائکۂ مقربین بھی آپ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ کے گھر میں اذن کے بغیر قدم نہیں رکھتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی اس کنیز سے اتنی محبت تھی کہ جب وہ چکی پیستے پیستے تھک کر سو جاتیں، تو پروردگارِ عالم حضرت جبرائیل اور میکائیل کو حکم فرماتا کہ جا کر چکی کی گردش کو سنبھالیں اور گہوارے میں آرام فرماتے ان کے معصوم فرزند کا جھولا جھلائیں۔

ممکن ہے دورِ جدید کا کوئی مادیت پسند شخص فرشتوں کے وجود یا ان کے اس تصرف پر شبہ وارد کرے۔ لیکن یاد رہے کہ کسی بھی صاحبِ ایمان کے لیے ملائکہ کے وجود کا انکار ناممکن ہے، کیونکہ ملائکہ پر ایمان لانا ارکانِ دین اور قرآنی نصوص کا ناگزیر حصہ ہے۔ ہماری ظاہری آنکھوں کا ان لطیف ہستیوں کے مشاہدے سے قاصر ہونا ان کے وجود کی نفی نہیں کرتا؛ یہ کائنات لاتعداد ایسے حقائق سے بھری پڑی ہے جو انسانی بصر کی دسترس سے ماورا ہیں، مگر حقیقت پر مبنی ہیں۔

(جاری ہے...)

Social Media: Share