LogoDars e Mahdi ATFS

اولاد کی تربیت: والدین کے بڑھاپے کا سہارا

اولاد کی تربیت: والدین کے بڑھاپے کا سہارا
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain
"جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے،
تو اس کی طاقت اس کے ہاتھ پاؤں میں نہیں،
بلکہ اس کی اولاد کے نرم اور محبت بھرے لہجے میں ہوتی ہے۔"

یہ چند الفاظ محض ایک جملہ نہیں ہیں، بلکہ پوری زندگی کا آئینہ ہیں۔

والدین اپنی جوانی اولاد کی پرورش پر نچھاور کر دیتے ہیں۔ وہ بے چین اور جاگتی ہوئی راتیں قربان کرتے ہیں، اپنی خواہشات کو دباتے ہیں، اور اپنی ذاتی ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ کبھی وہ خود بھوکے رہ کر اولاد کا پیٹ بھرتے ہیں؛ تو کبھی اپنی خواہشات چھوڑ کر اپنے بچوں کے خواب پورے کرتے ہیں۔ یہی والدین، جن کا دل کبھی بچے کی آنکھ میں ایک آنسو دیکھ کر بے چین ہو جاتا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ اس قدر ضعیف ہو جاتے ہیں کہ انہیں صرف سہارا دینے کے لیے کسی مضبوط ہاتھ کی نہیں، بلکہ تسلی دینے کے لیے اولاد کے نرم لہجے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مگر یہ نرمی اور شائستگی راتوں رات پیدا نہیں ہوتی؛ اس کی بنیاد بچپن کی دی گئی تربیت میں رکھی جاتی ہے۔

اولاد کو صرف اچھے اسکول میں داخل کروا دینا، اعلیٰ تعلیم دلانا، اور دنیاوی لحاظ سے کامیاب بنا دینا ہی کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ سکھانا بھی ازحد ضروری ہے کہ:

  • والدین سے کس طرح گفتگو کی جاتی ہے،
  • ان کے بڑھاپے کو کیسے سمجھا جاتا ہے،
  • ان کی خاموشی کو کیسے پڑھا جاتا ہے، اور
  • ان کی کمزوری و لاچاری کو زحمت یا بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک مقدس ذمہ داری کیسے مانا جاتا ہے۔

یاد رکھیے:

آج جس ننھے ہاتھ کو تھام کر آپ چلنا سکھا رہے ہیں، کل آپ کے کمزور اور ناتواں سالوں میں یہی ہاتھ آپ کا سہارا بنے گا۔

وہ اولاد جس کی خاطر آج آپ برسوں اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں، اسے بڑا ہو کر آپ کی بے قراری کو سمجھنا چاہیے، آپ کے سرہانے بیٹھنا چاہیے، اور آپ کو وہی دیکھ بھال فراہم کرنی چاہیے جو آپ نے عمر بھر اس کے لیے کی۔

آج جب آپ اپنی اولاد کو پیار سے "بیٹا" یا "بیٹی" کہہ کر پکارتے ہیں، تو ان کے چہرے پر پھیل جانے والی معصوم مسکراہٹ ان کے دل کی خوشی کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن جب وقت کا پہیہ پلٹے گا، اور یہی جوان اولاد آپ کے ڈگمگاتے قدموں کے پاس آ کر محبت و شفقت سے بھرا ایک جملہ کہے گی، تو وہ چند نرم الفاظ آپ کے لیے دنیا کی تمام دولت، عیش و عشرت اور آسائشوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوں گے۔

کسی بچے کی اصل کامیابی صرف بڑے عہدے، رتبے، یا بے پناہ دولت سے نہیں ناپی جاتی؛ بلکہ اس کی کامیابی ایک بااخلاق، ہمدرد اور مخلص انسان بننے میں ہے—ایسا انسان جس کے دل میں ہمدردی ہو، جس کے پاس والدین کے ساتھ بیٹھنے کے لیے وقت ہو، جو ان کی بات سننے کا حوصلہ رکھتا ہو، ان کی کمزوریوں کا جواب جھنجھلاہٹ کے بجائے محبت سے دے، اور جس کے اندر یہ شعور زندہ ہو کہ بوڑھے والدین کی خدمت کرنا اس کی اولین ذمہ داری ہے۔

والدین کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کردار صرف زبانی نصیحتوں سے نہیں، بلکہ ذاتی عمل اور رویے سے سنورتا ہے۔

بچوں کی نشوونما باتوں سے نہیں، اعمال سے ہوتی ہے۔ وہ ہماری کہی ہوئی نصیحتیں بھول سکتے ہیں، مگر جو نقوش ہمارے طرزِ عمل سے قائم ہوتے ہیں، وہ ان کے دلوں اور شخصیات پر زندگی بھر ثبت رہتے ہیں۔

لہٰذا، آج ہی سے اپنے بچوں کے اندر محبت، احترام، صبر، شائستگی اور احساسِ ذمہ داری بیدار کیجیے۔ آج آپ ان کے کردار کی جو بنیاد رکھیں گے، کل آپ کے بڑھاپے میں وہی سایہ بن کر آپ کو سکون، عزت اور سہارا دے گی۔

شاید زندگی کا سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا منظر وہ ہوتا ہے جب کوئی بوڑھا باپ یا کمزور ماں اپنی ہی اولاد کے گھر میں بیٹھی ہو، اور اسے اپنے ہی گھر میں کسی اجنبی کی طرح محسوس ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے دردناک انجام سے محفوظ رکھے۔

ہم دعا گو ہیں کہ باری تعالیٰ والدین کو اپنی اولاد کی بہترین تربیت، صحیح رہنمائی اور پاکیزہ کردار سازی کی توفیق عطا فرمائے، اور اولاد کو اپنے والدین کے لیے محبت، عزت، سکون اور دعاؤں کا ذریعہ بنائے۔

کوئی ماں اولاد کے ہوتے ہوئے تنہائی کا دکھ نہ جھیلے؛ کوئی باپ اپنے ہی خون کے سامنے بے بس و لاچار نہ ہو؛ اور کسی اولاد کو اپنے والدین کی قدر کا احساس اس وقت نہ ہو جب بہت دیر ہو چکی ہو اور ان کے پاس کہنے کے لیے صرف ایک لفظ رہ جائے:

"کاش!"

آمین یا رب العالمین۔

Social Media: Share