LogoDars e Mahdi ATFS

روایات کا یہ تفاوت کیوں؟

روایات کا یہ تفاوت کیوں؟
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain

مسلمانوں سے ایک سوال:

۳۳ سال بمقابلہ ۳ سال — روایات کا یہ تفاوت کیوں؟

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث ہمارے دین کا بنیادی اور گراں قدر سرمایہ ہیں۔ اس لیے تاریخِ اسلام کے فہم و ادراک کے خواہاں ہر شخص کے سامنے ایک اہم سوال ضرور آنا چاہیے۔

حضرت علی علیہ السلام نے رسولِ اکرمؐ کی آغوشِ تربیت میں آنکھ کھولی، اپنا بچپن آپؐ کے ساتھ گزارا اور خود انہی کے زیرِ سایہ پرورش پائی۔ آپؑ نے اعلانِ نبوت سے قبل تقریباً ۱۰ سال اور بعثت کے بعد تا وصالِ نبوی تقریباً ۲۳ سال آپؐ کے ساتھ گزارے؛ یعنی مجموعی طور پر تقریباً ۳۳ سال پر محیط ایک طویل رفاقت۔ رسولِ خداؐ کی حیاتِ طیبہ کا شاید ہی کوئی ایسا تاریخی موڑ یا اہم معرکہ ہو جس میں حضرت علیؑ شریک نہ رہے ہوں۔ مگر اس کے باوجود، اہلِ سنت کی معروف کتبِ احادیث کے مطابق، حضرت علیؑ سے صرف ۵۸۶ کے قریب احادیث منقول ہیں۔

اب دوسری جانب ابو ہریرہ کے احوال کا جائزہ لیجیے۔ وہ تقریباً ۷ ہجری میں مشرف بہ اسلام ہوئے اور رسولِ اکرمؐ کی رحلت سے قبل بمشکل تقریباً تین سال آپؐ کی صحبت میں رہے۔ لیکن ان سے منقول روایات کا مجموعہ ۵۳۷۴ بتایا جاتا ہے۔

یہاں سوال بالکل واضح اور دو ٹوک ہے:

جس علیؑ نے رسولِ اکرمؐ کے ساتھ لگ بھگ ۳۳ سال گزارے، ان سے صرف ۵۸۶ روایات منقول ہیں؛ اور جس شخص کی صحبت کا دورانیہ صرف تین برسوں تک محدود رہا، اس کے نام سے ۵۳۷۴ احادیث منسوب ہیں؟ آخر یہ تفاوت کیوں اور کیسے پیدا ہوا؟

کیا یہ عددی فرق محض ایک اتفاق ہے؟ یا پھر ہمیں تاریخ کے ان خاموش صفحات کو پلٹ کر دیکھنا چاہیے جہاں ممکن ہے یہ طے پایا ہو کہ امت کو "بابِ علم"، یعنی علیؑ، تک کتنی رسائی دی جائے گی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ علم کا دروازہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہی موجود تھا، مگر تاریخ کے کسی موڑ پر اس دروازے تک پہنچنے کی راہیں مسدود کر دی گئیں؟

یہ صورتِ حال اس وقت اور بھی فکر انگیز ہو جاتی ہے جب ہم رسولِ خداؐ کے اس مشہور فرمان کو دیکھتے ہیں:

"أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ، وَعَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِينَةَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ"
ترجمہ: "میں علم کا شہر ہوں، اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں؛ پس جو شخص اس شہر میں داخل ہونا چاہے، اسے چاہیے کہ وہ دروازے سے آئے۔"
حوالہ: الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، جلد ۳، صفحہ ۱۳۷، حدیث ۴۶۳۷۔

اگر یہ سب محض ایک اتفاق تھا، تو یہ استفسار مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے:

۳۳ سالہ رفاقت سے صرف ۵۸۶ روایات، اور بمشکل ۳ سالہ صحبت سے ۵۳۷۴ روایات—کیا تاریخ ہمیں اس غیر معمولی تضاد کی کوئی واضح اور منطقی توجیہ تلاش کرنے کی اجازت نہیں دیتی؟

یہ نہ تو کسی کی توہین ہے اور نہ ہی کسی پر الزام تراشی؛ یہ فقط ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنی تاریخ، اپنے حدیثی ذخیرے اور علمِ نبوی کے حصول کے بنیادی ذرائع پر از سرِ نو غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

اے عالمِ اسلام! ذرا ٹھہریے اور غور فرمائیے...

یہ محض ۵۸۶ اور ۵۳۷۴ کا عددی فرق نہیں ہے؛ بلکہ یہ بنیادی سوال ہے کہ امت کن راستوں سے علمِ نبوت تک پہنچی، اور کن راستوں سے محروم کر دی گئی؟

اگر "بابِ علم" علیؑ ہمارے سامنے کھلے تھے، تو پھر علم کے اس عظیم دروازے تک ہماری رسائی اتنی محدود کیوں رہی؟

کیا یہ محض ایک اتفاق تھا، یا پھر تاریخ کے کسی نازک موڑ پر علم کی ترسیل کا راستہ ہی دانستہ طور پر بدل دیا گیا تھا؟

اے جہانِ اسلام! محض اعداد کو مت دیکھیے؛ ان اعداد کے پردے میں چھپی ہوئی تاریخ کو سمجھیے۔

اور پھر خود ہی انصاف سے فیصلہ کیجیے:

کیا یہ فرق محض روایتوں کی تعداد کا ہے… یا اس کے پیچھے چھپی روایت سازی کی تاریخ کا؟

Social Media: Share