LogoDars e Mahdi ATFS

اگر اس دور میں موبائل نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ ٹیکنالوجی، توازن اور انسانی زندگی

اگر اس دور میں موبائل نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ ٹیکنالوجی، توازن اور انسانی زندگی
Maulana Sayed Karamat Husain Sahab, Poonch, Jammu
مولانا سید کرامت حسین
Maulana Sayed Karamat Husain

موبائل فون محض عصرِ حاضر کی ایک ایجاد نہیں، بلکہ انسانی طرزِ زندگی، فکر، روابط اور رویوں میں برپا ہونے والے ایک عظیم الشان انقلاب کا نام ہے۔ اس نے جغرافیائی فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے، معلومات تک رسائی کو انتہائی سہل بنا دیا ہے، اور پوری دنیا کو ایک عالمی گاؤں (گلوبل ولیج) میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج چند سیکنڈز کے اندر ہم ہزاروں میل کے فاصلے پر موجود انسان سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں، علم کے لامحدود خزانوں سے استفادہ کر سکتے ہیں، اور اپنے نظریات کو پلک جھپکتے میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکتے ہیں۔ اگر موبائل نہ ہوتا تو بلاشبہ باہمی رابطے دشوار گزار ہوتے، معلومات تک رسائی سخت محدود رہتی، اور بے شمار تعلیمی، تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کی رفتار بے حد سست ہو جاتی۔

تاہم، یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا موبائل فون کے بغیر زندگی محض کٹھن ہوتی، یا کچھ پہلوؤں سے بہتر بھی ہو سکتی تھی؟

اگرچہ اسمارٹ فون نے ہمیں رابطے کے لامحدود وسائل فراہم کیے ہیں، لیکن ڈیجیٹل میل جول کی اسی کثرت نے حقیقی رشتوں کی گہرائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم بیک وقت سینکڑوں لوگوں سے آن لائن جڑے رہتے ہیں، مگر اکثر اپنے برابر میں بیٹھے انسان کے احوال سے یکسر بے خبر ہوتے ہیں۔ معلومات کی فراوانی نے جہاں علم کے دروازے کھولے ہیں، وہیں غیر مصدقہ خبروں کے سیلاب، سطحی مطالعے کے رجحان اور فکری انتشار کو بھی فروغ دیا ہے۔ ڈیجیٹل تفریح نے آسان سہولت ضرور مہیا کی ہے، لیکن بے مقصد اسکرولنگ نے ہمارے قیمتی وقت، یکسوئی اور قوتِ ارادی کے لیے سنگین خطرات کھڑے کر دیے ہیں۔

عقلی اور منطقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو موبائل بذاتِ خود نہ خیرِ محض ہے اور نہ شرِ محض؛ بلکہ اس کی اصل افادیت کا دار و مدار اس کے استعمال کے مقصد، انداز اور نتائج پر منحصر ہے۔ یہی ایک آلہ کسی طالب علم کے لیے علم کا خزانہ، کسی مریض کے لیے جان بچانے کا ذریعہ، اور کسی کاروباری شخص کے لیے ترقی کا زینہ ثابت ہو سکتا ہے—جبکہ یہی آلہ کسی دوسرے انسان کے لیے ضیاعِ وقت، ذہنی بے چینی اور اخلاقی پستی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کی دوہری حقیقت کا خلاصہ ہے: وسیلہ اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس کا عقلی اور اخلاقی استعمال کلی طور پر انسانی شعور اور ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔

اگر موبائل کا وجود نہ ہوتا تو شاید ہمارے پاس فراغت کے لمحات زیادہ ہوتے، توجہ میں یکسوئی برقرار رہتی، مطالعے میں گہرائی پیدا ہوتی، اور آمنے سامنے بیٹھ کر دلی گفتگو کرنے کے پرخلوص مواقع میسر آتے۔ تاہم، یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ماضی کی زندگی ہر لحاظ سے مکمل یا مثالی نہیں تھی۔ جغرافیائی تنہائی، معلومات کی قلت، اور رابطوں کی دشواریاں اُس دور کی تلخ حقیقتیں تھیں۔ لہٰذا، موبائل سے پہلے کے دور کو سراسر بے عیب سمجھنا اور موجودہ دور کو کلی طور پر تباہ کن قرار دینا ایک غیر سنجیدہ اور غیر متوازن طرزِ فکر ہے۔

بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اسمارٹ فون ہماری زندگی میں کیوں داخل ہوا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں اسے کتنی وسعت دی ہے۔ اسے ہماری ضرورت پوری کرنی چاہیے، نہ کہ ہمارے پورے وجود پر قبضہ کر لینا چاہیے۔ اگر ہم اسے حصولِ علم، باہمی رابطے اور مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں تو یہ ایک عظیم نعمت ہے؛ لیکن اگر ہم اس کی غلامی میں چلے جائیں تو یہی نعمت پل بھر میں زحمت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے: موبائل فون کے بغیر زندگی گزارنا وقتی طور پر ایک محرومی محسوس ہو سکتا ہے، مگر اس کا بے قابو اور عادی بن کر استعمال کرنا اس سے کہیں بڑی محرومی ہے۔ پہلی صورت میں ہم محض ایک مادی سہولت سے محروم ہوتے ہیں؛ جبکہ دوسری صورت میں ہم اپنا قیمتی وقت، ذہنی سکون اور وہ حقیقی رشتے کھو بیٹھتے ہیں جو زندگی کو اس کا اصل مفہوم عطا کرتے ہیں۔

Social Media: Share