Poetry
شہیدانِ کربلا - ہزارہا مرحلوں سے دنیا حقیقتوں سے مکر گئی ہے
Shaheedaane Karbala - Hazarha Marhalon se duniya Haqeeqaton se Mukar Gai hai

شہیدانِ کربلا
ہزارہا مرحلوں سے دنیا حقیقتوں سے مکر گئی ہے
صداقتوں سے نظر چرا کے یقیں کی حد سے گزر گئی ہے
تراش کر سیکڑوں بہانے خرد کو گمراہ کر گئی ہے
آگہی
حقیقتوں سے مکر کے دنیا فریب دیتی ہے آگہی کو
یقیں کی حد سے گزر کے انساں سیاہ کہتا ہے روشنی کو
خرد کی گمراہیاں ہمیشہ تباہ کرتی ہیں زندگی کو
فریب
فریب خوردہ ہے آگہی تو عبادتوں کا اصول ہی کیا
سیاہ ہو جائے روشنی تو لطافتوں کا اصول ہی کیا
تباہ ہو جائے زندگی تو ریاضتوں کا اصول ہی کیا
اصول
عبادتوں کا اصول یہ ہے، شعور ایماں کا معترف ہو
لطافتوں کا اصول یہ ہے دماغ عرفاں کا معترف ہو
ریاضتوں کا اصول یہ ہے عمل نگہباں کا معترف ہو
خودی
یہ التفاطِ شعور و ایمان نفس کو دیتا ہے پارسائی
یہ ارتباطِ دماغ و عرفاں نظر میں بھرتا ہے کبریائی
عمل نگہبانیوں میں پل کر خودی کی کرتا ہے رہنمائی
تخت و تاج و سپاہ
اگر نفس میں ہے پارسائی تو تخت و تاج و سپاہ کیا ہے
اگر نظر میں ہے کبریائی تو عظمتِ عز و جاہ کیا ہے
اگر خودی حق پہ گامزن ہے تو سطوتِ کج کلاہ کیا ہے
تنکا
یہ تاج و تخت و سپاہ تنکا جو اڑ رہا ہو ہوا میں پیہم
یہ عظمتِ عزّوجاہ ذرّہ جو پس رہا ہو قدم سے ہر دم
یہ سطوتِ کج کلاہ کانٹا جو چبھ کے ہو ناخنوں سے برہم
کانٹا
ایک ایسا تنکا لکھا ہے کوفہ سے آیا تھا کربلا میں
زمانہ گزرا ایک ایسا ذرّہ قدم سے لپٹا تھا کربلا میں
ہوئے بہت دن ایک ایسا کانٹا دلوں میں کھٹکا تھا کربلا میں
زمانہ ساز
جو رخ زمانے کا پھرتے ہوں وہ ایک تنکے کا کیا کریں گے
جو دل پہاڑوں کا چیرتے ہوں وہ ایک زرّے سے کیا ڈریں گے
جو خوں بہاروں کو بخشتے ہوں وہ ایک کانٹے سے کیا مریں گے
