امریکہ اب عراق جیسی طویل اور تھکا دینے والی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ آج اصل خطرہ براہِ راست جنگ سے زیادہ نفسیاتی دباؤ اور داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں ہیں۔ اسلامی جمہوریہ کے لیے دانش مندانہ راستہ "اسٹریٹجک بصیرت" میں پوشیدہ ہے۔ میدانِ جنگ سے زیادہ اہم میدان "آگاہی، اتحاد اور دشمن شناسی" کا ہے—جو فریق اس میدان میں برتر ہوگا، وہی بحران کو اپنے حق میں موڑنے میں کامیاب ہوگا۔
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
The U.S. can no longer afford a long, exhausting war of attrition like Iraq, nor can it easily force Iran to surrender. The primary threat today is not just direct conventional war, but internal instability fueled by psychological pressure. For the Islamic Republic, the path forward lies in strategic foresight. Ultimately, the field of information, awareness, and unity is more important than the physical battlefield. The side that gains superiority in "knowing the enemy" will be the one to turn the crisis in its favor.
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
چانچہ 26 جنوری صرف ایک قومی تہوار نہیں بلکہ ہندوستان کی جمہوری روح کی علامت ہے۔ اس دن کی پاسداری کا مطلب ہے کہ ہم اپنے آئینی حقوق اور فرائض کو سمجھیں، قومی اتحاد کو فروغ دیں، اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔ اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں، تو یقینا ہندوستان ایک مضبوط، خوشحال، اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
آج کل رجحان جدید الحاد (New Atheism) کی صورت میں نمایاں ہے۔ ایک کتاب "فور ہارس مین" (Four Horsemen)میں پڑھا جا سکتا ہے کہ اس گروہ کے اعتراضات کیا ہیں؟ اور کس بنا پرخدا موجود نہیں؟ ۔ یہ چار شہسوار وہ لوگ ہیں جو جدید الحاد کی نمایاں شخصیات کے طور پر ابھرے ۔
خلاصہ: یہ تحریر "عالمی جہاد" کو محض جنگ و جدل کے بجائے ظلم کے خلاف ایک انسانی اور اخلاقی مزاحمت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ مصنفہ کا موقف ہے کہ موجودہ دور میں خاموشی ایک جرم ہے، اور ہر فرد کو فکری، معاشی اور سماجی سطح پر ظالم کا ہاتھ روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنا، ظالم قوتوں کا معاشی بائیکاٹ کرنا اور انسانیت کے ناطے مظلوم کا درد محسوس کرنا اس عالمی مہم کے بنیادی ستون ہیں۔ پیغام واضح ہے کہ اگر نیک لوگ متحد ہو کر اپنی خاموشی توڑ دیں، تو دنیا سے ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہے۔
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
This article redefines "Global Jihad" as a collective, humanitarian resistance against worldwide oppression rather than a call to physical arms. It emphasizes that in an era of global injustice, silence is a crime, and ordinary individuals must contribute through intellectual, moral, and economic means. By utilizing social media for awareness, practicing economic boycotts, and educating the next generation, people can unite under the banner of humanity and justice. Ultimately, the message is that the power of the oppressor is fueled by the silence of the good, making vocal and active resistance a moral necessity.
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
جنابِ زینب (سلام اللہ علیہا) کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب انسان کے تمام سہارے ٹوٹ جائیں اور وہ زندگی کے بدترین موڑ ("زیرو پوائنٹ") پر کھڑا ہو، تو وہاں سے دوبارہ کیسے اٹھا جاتا ہے۔ آپ (س) نے کربلا کی تباہی کو شکست کے بجائے شعوری قبولیت اور بلند مقصد کے ذریعے ایک عظیم فتح میں بدل دیا۔ یہ کردار ہماری خواتین کو سبق دیتا ہے کہ وہ مصائب میں ٹوٹنے کے بجائے اپنی ترجیحات واضح رکھیں، وقار نہ کھوئیں اور دوسروں کا سہارا بنیں۔ مختصراً یہ کہ زینبی حکمتِ عملی اپنا کر ہم اپنے بکھرے ہوئے حالات کی راکھ سے ایک نئی اور باوقار زندگی تعمیر کر سکتے ہیں۔
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
This essay explores the concept of the "Zero Point"—the moment of total devastation—and presents Lady Zaynab (p.b.u.h.) as the ultimate model for rising again through resilience and spiritual clarity. By analyzing her actions after the tragedy of Karbala, the author identifies five core principles: conscious acceptance of reality, maintaining priorities during crisis, finding divine meaning in suffering, preserving personal dignity, and supporting others despite one's own grief. Ultimately, it teaches that the "Zero Point" is not a final end, but a powerful new beginning for those who adopt a "Zaynabi" mindset of steadfastness and trust in God.
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
ان نظریات کے اشتراک سے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد پڑی جہاں انسان مافوق الفطرت طاقتوں اور مذہب کے سہارے کے بغیر محض اپنی عقل اور انسانی اقدار کے ذریعے زندگی اور سماج کو سنوارنے کی کوشش کرنے لگا۔
آسودگی مال کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ اس اطمینان کا نام ہے کہ میری توانائی ضائع نہیں ہو رہی۔ جس دن ہم نے یہ سمجھ لیا کہ محنت کو ہدف کے ترازو میں تولنا ضروری ہے، اس دن ہمارے ہاتھوں کی لکیریں بدلنا شروع ہو جائیں گی۔ یاد رکھیے، تھک جانے اور کچھ حاصل کرنے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
ان نظریوں کا مقصد ابتدا سے ہی خلقت اور موجودات کی اصلیت، صفت، نوعیت، ہیئت اور نوبت کا مشاہدہ کرنا رہا ہے۔ نظریات سوچنے اور تفتیش کرنے کے طور طریقے کو متعین کرنے لگے اورزیرِغورمضمون کو کس طرز پر سوچا جائے اس زاویہ ءِ نظر کا تعین کرنے میں معاون ہوئے تا کہ طے شدہ ہدف تک پہنچا جائے۔
آج بھی وہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ حسینی مشن کو پورا کرنے کے لیے صرف جذبہ کافی نہیں، بلکہ ہمیں ایسے علماء، ایسے میڈیا اور ایسے طاقتور افراد کی ضرورت ہے جن کے ضمیر کی کوئی قیمت نہ لگا سکے۔ اگر آج ہم حق کے ساتھ نہ کھڑے ہوئے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قلم کا سودا دراصل قوم کی تقدیر کا سودا ہے۔ اگر ہم نے بکاؤ میڈیا کے اس جھوٹ اور پروپیگنڈے کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو معاشرے سے شعور ختم ہو جائے گا۔ صحافت کی آزادی تبھی معتبر ہے جب صحافی کا ضمیر کسی لالچ یا دباؤ کا شکار نہ ہو۔ سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے، لیکن وہی سچ قوموں کی بقا کا ضامن ہوتا ہے۔
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
خدا کے لیے جاگیے! علیؑ کے نام پر جانے انجانے علی ع کے مقصد کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف بر سر پیکار ہوئیے ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ ایک دن 13 رجب آیا، علیؑ کی ولادت تھی اور ولایت کا تابوت لئے کچھ جوان علی ع علی ع کا نعرہ لگاتے گزر رہے تھے اور وہ لوگ خاموش تھے جو بول سکتے ہیں کچھ کر سکتے تھے۔جبکہ دوسرے مذہب کے ساتھ کچھ اپنے بھی اس شور شرابے کو دیکھ کر کہہ رہے تھے " *آج بھگوان کی برتھ ڈے ہے بھائی*
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
امام موسیٰ الکاظمؑ اہلِ بیتؑ کے ساتویں امام تھے اور صبر و ضبطِ نفس کی عظیم مثال سمجھے جاتے ہیں۔ آپؑ نے عباسی دور کے شدید مظالم کے باوجود عبادت، علم اور غریبوں کی خدمت کو اپنا مشن بنایا۔ قید و بند کی سختیوں میں بھی آپؑ نے صبر، اخلاق اور ذکرِ الٰہی کو ترک نہ کیا۔ 183 ہجری میں آپؑ کو شہید کر دیا گیا، مگر آپؑ کی زندگی ایمان، استقامت اور اللہ پر کامل بھروسے کا روشن نمونہ ہے۔
سید جنان اصغر
Sayed Jenan Asghar
Imam Musa al-Kazim (ع), the seventh Imam of Ahl al-Bayt, was renowned for his patience, self-control, and deep devotion to Allah. Living under Abbasid oppression, he avoided political rebellion and focused on spiritual guidance, education, and helping the poor. Despite years of imprisonment, he remained steadfast in worship and transformed even his jailers through his character. He was martyred in 183 AH, leaving a lasting legacy of faith, patience, and moral strength.
سید جنان اصغر
Sayed Jenan Asghar
امام جعفر الصادقؑ اہلِ بیتؑ کے چھٹے امام اور اسلامی تاریخ کے عظیم ترین علماء میں سے ایک تھے۔ آپؑ نے شدید سیاسی تبدیلیوں کے دور میں زندگی گزاری اور اقتدار حاصل کرنے کے بجائے مستند اسلامی علم کے تحفظ پر توجہ دی۔ اپنے وسیع تعلیمی حلقے کے ذریعے آپؑ نے فقہِ جعفری کی بنیاد رکھی اور بے شمار نامور علماء کو متاثر کیا۔ آپؑ اپنی صداقت، اعلیٰ اخلاق اور سخاوت کے لیے مشہور تھے اور اس بات پر زور دیتے تھے کہ ایمان کا عکس انسان کے کردار میں نظر آنا چاہیے۔ آپؑ 148 ہجری میں شہید ہوئے اور جنت البقیع میں مدفون ہیں، جہاں سے آپؑ کا علمی اور ہدایتی ورثہ آج تک زندہ ہے۔
سید جنان اصغر
Sayed Jenan Asghar
Imam Ja‘far al-Sadiq (ع) was the sixth Imam of Ahl al-Bayt and one of the greatest scholars in Islamic history. He lived during major political change and focused on preserving authentic Islamic knowledge rather than seeking power. Through his vast teaching circle, he laid the foundation of Ja‘fari fiqh and influenced many renowned scholars. Known for his truthfulness, ethics, and generosity, he emphasized that faith must be reflected in character. He was martyred in 148 AH and is buried in Jannat al-Baqi‘, leaving a lasting legacy of knowledge and guidance.
سید جنان اصغر
Sayed Jenan Asghar
حضرت فاطمہ الزہراءؑ نے اپنے خطبے کی ابتدا اللہ کی حمد و ثنا سے کی اور اس کی اس قدرت کا اعتراف کیا کہ اس نے انسانیت کو جہالت سے نکال کر حقیقی ایمان کی طرف راہنمائی فرمائی۔
آپؑ نے اللہ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کیا جنہیں اس نے کامل حکمت کے ساتھ تقسیم فرمایا۔
آپؑ نے اس حقیقت پر زور دیا کہ خدا کو پہچاننے کی ابتدا انسان کی اپنی معرفت سے ہوتی ہے، کیونکہ اللہ اپنی نشانیوں کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔
آخر میں آپؑ نے اہلِ بیتؑ کے اس بے مثال مقام کو بیان کیا، جنہوں نے خدا کو اُس وقت پہچانا جب اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی، اور جن کی معرفت صرف خدا ہی پر قائم ہے۔
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
Lady Fatima al-Zahra (s.a.) began her sermon by praising Allah and acknowledging His power in guiding humanity from ignorance to true belief.
She expressed gratitude for the countless divine blessings distributed with perfect wisdom.
She emphasized that knowing God begins with knowing oneself, as He is recognized through His signs.
Finally, she highlighted the unique rank of Ahl al-Bayt, who knew God even when nothing existed except Him, relying solely on Him for their recognition.
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
The blessed life of Lady Fatima al-Zahra (peace be upon her) proves that an ideal Islamic personality’s leadership is not confined to battlefields or seats of governance. It can also reshape history through intellectual reasoning, economic justice, and political resistance.
Her character remains an eternal model for staying firm upon principles and standing for truth across all ages.
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
حضرت فاطمہ الزہراء (سلام اللہ علیہا) کی زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک مثالی اسلامی رہنما صرف جنگوں یا حکومتی منصب سے تاریخ نہیں بناتا، بلکہ فکری رہنمائی، معاشی عدل اور سیاسی مزاحمت کے ذریعے بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔
آپ کی ذات ہر دور میں حق پر ثابت قدم رہنے، اصولوں کے دفاع، اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کی لازوال مثال ہے۔
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
یہ آرٹیکل ائمہ اطہار، خاص طور پر حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں 'خود جنونی' (Self-obsession) کے نقصانات پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ مرض ہماری عقل اور دل دونوں کو کیسے تباہ کر سکتا ہے. اسے ضرور پڑھیں اور اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ہم 'میں' کی قید سے نکل کر 'ہم' کی دنیا میں قدم رکھ سکیں۔
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
حضرت فاطمہ زہراء سلامُ اللہ علیہا، رسولِ اکرم ﷺ کا جزوِ جان اور نورِ الٰہی سے خلق کی گئی ہستی ہیں۔ آپ کی ذات میں وہ تمام کمالات و صفات جمع ہیں جو نبیِ اکرم ﷺ میں تھے، سوائے نبوت کے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نورِ ولایت کی محافظ اور انوارِ امامت و رسالت کا ظرف بنایا۔ آپ نے اپنی جان قربان کر کے ولایت، رسالت اور توحید کی حفاظت فرمائی، جس کے باعث اسلام کی اصل حقیقت ہمیشہ کے لیے محفوظ رہی۔
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
Lady Fatimah al-Zahra (peace be upon her), the beloved daughter of the Prophet Muhammad (peace be upon him and his progeny), was created from the Divine Light long before the creation of Adam. Her purity, strength, and virtues reflect those of the Prophet himself, except for prophethood. Allah chose her as the sacred vessel to carry and protect the light of Wilayah (Divine Guardianship). Through her immense sacrifice, she preserved Prophethood, Imamate, and the Oneness of Allah (Tawheed), ensuring that the true message of Islam remained alive for all generations.
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
دونوں کے سامنے بہت بڑی مشکلیں تھیں۔ دونوں کے مخالفین کے پاس تھی بہت بڑی طاقت اور بہت سارا پیسا، میڈیا، کارکن اور پروپگینڈا پھر ان مخالفین نے انکے مذہب کو بہانہ بناکر عام لوگوں کو انکے خلاف اور اپنے حمایت میں مبذول خاطر کرنے کی کوششیں کیں۔
اس مظمون میں تفصیلات بیان کی جاتی ہیں کی ایام فاطمیہ کیوں منعقد ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ سوالات جو بی بی کی شہادت اور حالات مصائب کے ذیل میں ذہنوں میں آتے ہیں ان کا خاطر خواہ جواب بھی عالمہ نے اپنے مطالعہ کے ضمن میں پیش کیا ہے۔
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
علیؑ نے کچھ کہنا چاہا،مگر الفاظ ساتھ نہ دے سکےصرف ایک آنسو گرااور زمین نے گواہی دی،کہ یہ آنسو،شرافت بشریت کا سب سے مقدس قطرہ ہے۔پھر خاموشی چھا گئی—ایسی خاموشی کہ فرشتوں کے پر بھی ساکت ہو گئے۔
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
اس مضمون میں ہمارے زمانے کے مشہور عالم "شیخ الاسلام" ڈاکٹر طاہر القادری کی لکھی ہوئی مشہور کتاب ((Fatima (PBUH) the Great Daughter of the Prophet Muhammad SAWW)) کی چند روایتوں کا ذکر ہے۔ اس مضمون میں صرف چند احادیث کو شامل کیا گیا ہے جس کا واحد مقصد تمام خواتین کی عظیم ترین سردار اور امت مسلمہ کے لیے ایک نمونہ شخصیت کو یاد کیا جاے۔
This article mentions a few narrations from the popular book (Fatima (PBUH) the Great Daughter of the Prophet Muhammad SAWW) written by a well known scholar of our time known as "Shikh ul Islam" Dr. Tahir ul Qadri. This article only includes just a few of the narrations for the sole purpose of remembering the greatest of all the women and a role model for the Muslim ummah.
امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کو ایک شخص روزانہ گالیاں دیتا تھا، مگر آپ ہمیشہ خاموش رہتے۔
ایک دن آپ خود اس کے کھیت پر گئے، نرمی سے بات کی اور اسے تین سو دینار عطا کیے۔
اس احسان سے وہ شخص شرمندہ ہوا اور امام (ع) کا مخلص دوست بن گیا۔
یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ صبر، حلم اور بھلائی سے دشمنی بھی دوستی میں بدل سکتی ہے۔
سید جنان اصغر
Sayed Jenan Asghar
Imam Musa al-Kazim (عليه السلام) was insulted by a man but responded with kindness instead of anger.
He visited the man’s farm, offered him money, and prayed for his success.
The man was moved by the Imam’s generosity and repented for his behavior.
This story teaches us that patience, forgiveness, and kindness can turn enemies into friends.
سید جنان اصغر
Sayed Jenan Asghar
یہ ایمان افروز کہانی دو عظیم کرداروں کے عمل پر مبنی ہے. جنہوں نے اپنی سب سے محبوب چیز اللہ کی راہ میں قربان کر دی اور امام علی رضاؑ کا اپنے فرزند امام محمد تقیؑ کے نام خط، جو سخاوت، ایثار اور انسان دوستی کا درس دیتا ہے۔
خدا وند متعال تمام عالمین کا مبدی و معید ہے جس نے عالمین کو اور اس میں موجود ہر شئے اور لا شئے کو اپنی پہچان کی خاطر خلق فرمایا۔پھر وہی وقت ِ ازل سے وقت معلوم تک اپنی مخلوق کا پالنے والا اور رب ہے۔عالمِ اشیاء میں ہر مفروضہءِ ہست و بود اس کی قدرت کی شہادت دیتا ہے اور مشہود رب العالمین کی ذات ہے۔مگر پھر یہ کہ اس رب العالمین کی ذات مشاہدے سے بالا تر اور بعید ہے
اسلام میں جہیز لینا یا دینا نہ فرض ہے نہ سنت، بلکہ یہ سماجی رسم و رواج کا حصہ ہے۔ اگر جہیز میں فضول خرچی، دکھاوا یا ظلم شامل ہو تو یہ حرام ہے۔ معصومینؑ کی تعلیمات میں شادی میں سادگی اور ضروری اشیاء پر زور دیا گیا ہے۔ جناب فاطمہ زہراؑ کا جہیز نہایت مختصر اور سادہ تھا۔ شادی کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ دینداری ہونا چاہیے۔ خلوص نیت سے دیا گیا ضروری جہیز ثواب کا باعث بن سکتا ہے۔
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
The issue of dowry has become a serious problem in today’s society, even though it is neither obligatory nor Sunnah in Islam. The dowry of Lady Fatima Zahra (peace be upon her) was simple and limited to basic necessities, teaching the value of modesty. Islam discourages wastefulness and showiness, as mentioned in the Qur’an. Imam Jafar al-Sadiq (peace be upon him) emphasized that piety, not wealth, should be the basis of marriage. Giving dowry with sincerity is permissible only if it causes no burden or display. The true spirit of marriage in Islam lies in simplicity, purity, and mutual respect.
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
Imam Jafar Sadiq (a.s.) heard about a man who was a follower of Allah and a man of great virtue. When the Imam (a.s.) saw him, he realized that he stole and gave things as charity. When the Imam (a.s.) asked, he argued that the reward for a bad deed is one, and the reward for a good deed is tenfold. The Imam (a.s.) said: “Allah accepts only the deeds of the pious.”
Both theft and giving charity without permission are sins. Goodness is that which is accompanied by piety and righteous intentions. This incident teaches that the real value of an action lies in the intention and piety, not in the outward worship.
Reference: Pand Tarikh Vol. 4, p. 141; Ganjinah Maarif Vol. 1, p. 310
امام جعفر صادقؑ نے ایک شخص کے بارے میں سنا کہ وہ اللہ والا اور کرامت والا ہے۔ امامؑ نے اسے دیکھا تو معلوم ہوا وہ چوری کر کے چیزیں صدقہ دیتا ہے۔ جب امامؑ نے پوچھا، تو اس نے دلیل دی کہ ایک برائی کا بدلہ ایک، اور نیکی کا اجر دس گنا ہے۔ امامؑ نے فرمایا: "اللہ صرف متقیوں کے اعمال قبول کرتا ہے۔"
چوری اور بغیر اجازت صدقہ دونوں گناہ ہیں۔ نیکی وہی ہے جو تقویٰ اور نیتِ صالح کے ساتھ ہو۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ عمل کی اصل قیمت نیت اور تقویٰ سے ہے، نہ کہ ظاہری عبادت سے۔
حوالہ: پند تاریخ ج ۴، ص ۱۴۱؛ گنجینه معارف ج ۱، ص ۳۱۰
Abu Amir’s story teaches that even those who await and prepare for a Prophet or Imam can be corrupted by ambition and desire for status. While his efforts guided many to faith, his personal greed turned him into an enemy. This serves as a lesson that sincerity and devotion must surpass worldly desires.
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
قوم یہود میں علم دین کی کمی اور دنیاوی خواہشات کی وجہ سے لوگ دین حق سے دور ہوگئے۔ ابو عامر نے شدت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کیا اور لوگوں کو ایمان کی طرف بلایا، لیکن عہدے کی لالچ نے اسے دشمن بنا دیا۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ حتیٰ کہ وہی لوگ جو شدت سے امام کا انتظار کرتے ہیں، دنیاوی خواہشات کی وجہ سے دشمن بن سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ہمارے ایمان کو آخر تک قائم رکھے اور ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے مخلص جانثار بنائے۔
ذاکرہ کاظمہ عباس
Zakerah Kazma Abbas
Just as a year is complete only when all its seasons have passed, a sibling relationship too is complete when it embraces every color, form, and emotion — joy and sorrow, laughter and silence, conflict and comfort. It keeps changing like the seasons, giving us what we need at every stage of life. To accept this bond with all its shades is to discover its true beauty. 🌿
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
بہن بھائیوں کا رشتہ زندگی کے چار موسموں کی طرح ہے — کبھی بہار کی معصومیت، کبھی گرمی کی تپش، کبھی خزاں کا سکون، اور کبھی سردیوں کی قربت۔ یہ رشتہ وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے مگر کبھی کمزور نہیں ہوتا۔ اس میں محبت، تکرار، سمجھوتہ اور ساتھ کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ جیسے موسم زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں، ویسے ہی بہن بھائیوں کا رشتہ زندگی کو معنی دیتا ہے۔
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
یہ سب چھوٹی چھوٹی مگر دل سے کہی گئی باتیں
ایک رشتے کو زندہ، پُر محبت اور خوشحال بناتی ہیں۔
روحانی قربت کا راز یہی ہے کہ دلوں میں شکر، مسکراہٹ اور محبت زندہ رہے۔ 💞
مولانا وفا حیدر خان
Maulana Wafa Haider Khan
These may seem like small gestures, but they carry deep meaning.
When shared sincerely, they make your relationship alive, loving, and truly happy.
مولانا وفا حیدر خان
Maulana Wafa Haider Khan
کبھی کبھی انسان کو صرف خلوصِ نیت، ایثار اور انسانیت کے احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔
باقی سب کچھ اللہ کے ذمے ہوتا ہے —
جو نیکی کے ایک چھوٹے قطرے کو رحمت کے سمندر میں بدل دیتا ہے۔ 💖
مولانا وفا حیدر خان
Maulana Wafa Haider Khan
Sometimes, all a person needs is sincerity, compassion, and faith in humanity.
Everything else is in Allah’s hands —
Who turns a small act of kindness into an ocean of mercy. 💖
مولانا وفا حیدر خان
Maulana Wafa Haider Khan
پانی پر چلنا، ہوا میں اُڑنا، یا زمین سمیٹ لینا — یہ سب ظاہری جلوے ہیں۔
اصل کرامت یہ ہے کہ انسان کا دل زندہ ہو جائے۔
جو دل کا مالک بن گیا، وہ حقیقت میں انسان بن گیا۔
مولانا وفا حیدر خان
Maulana Wafa Haider Khan
Walking on water, flying in the air, or covering the earth — all these are external manifestations.
The real miracle is when the human heart comes alive.
He who becomes the owner of the heart, in reality, becomes a true human being.
مولانا وفا حیدر خان
Maulana Wafa Haider Khan
Imam Muhammad Baqir (a.s.) was a great Islamic scholar and the fifth Imam of the Ahl al-Bayt, renowned for reviving the true teachings of Islam.
He excelled in Qur’anic commentary, jurisprudence, hadith, and theological debates, offering clear rational proofs for core beliefs.
Through hundreds of students, including Imam Ja‘far al-Sadiq, his vast knowledge spread across generations.
For his unmatched scholarship, he is honored as “Baqir al-Uloom,” the deep ocean of knowledge.
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi
امام محمد باقرؑ علیہ السّلام پانچویں امام اور علم و حکمت کے درخشاں ستارے تھے، جنہوں نے تفسیرِ قرآن، فقہ، حدیث اور علمُ الکلام میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
آپ نے قرآن کے باطنی معانی کو واضح کیا اور عقائدِ اسلام کی مضبوط عقلی بنیادیں فراہم کیں۔
آپ کے علمی حلقے نے سینکڑوں شاگرد پیدا کیے، جنہوں نے آپ کا علم آگے پہنچایا۔
انہی خدمات کے باعث آپ کو "باقر العلوم" یعنی علوم کا گہرا سمندر کہا جاتا ہے۔
ذاکرہ نادرہ زیدی
Zakerah Nadera Zaidi