LogoDars e Mahdi ATFS

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی فقاہت کا وہ چراغ جو خاموشی سے روشن رہا

Ayatullah Musavi Shubairi Zanjani
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi

کبھی کسی بزرگ کی رحلت صرف ایک انسان کے دنیا سے اٹھ جانے کا نام نہیں ہوتی، بلکہ پورا ایک عہد اس بزرگ کے ساتھ رخصت ہو جاتا ہے۔ کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے سے ایک پورا علمی مزاج، ایک فکری روایت اور ایک اخلاقی اسلوب ہمارے درمیان سے اٹھتا محسوس ہوتا ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی کی رحلت بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ آج حوزاتِ علمیہ کی فضا میں ایک خاموشی ہے۔ حوزہ کے ایک طویل علمی سفر کا ایک روشن باب بند ہو گیا ہے، اور تشیع نے ایک ایسے فقیہ کو کھو دیا ہے جس کی زندگی میں علم، تقویٰ، وقار، اعتدال اور خدمت محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک مسلسل عملی حقیقت تھے۔

آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی (رضوان اللہ علیہ) تقریباً ایک صدی پر محیط زندگی اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ قم کے علمی ماحول میں گزرا؛ انہوں نے بزرگ فقہا سے استفادہ کیا، نجف کے علمی حلقوں سے فیض اٹھایا، پھر طویل عرصے تک فقہ، اصول، رجال اور حدیث کی تدریس کے ذریعے نسلوں کی علمی تربیت کی۔ ان کا علمی سفر صرف حصولِ علم تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ خود ایک ایسے استاد بنے جن کے درس سے نکلنے والے بہت سے اہلِ علم نے بعد میں حوزہ کی مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔

علم کا وہ لہجہ جس میں شور نہیں تھا

آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی گہری علمی بصیرت کے ساتھ ان کا اعتدال پسند فکری مزاج تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے نزدیک علم کا مطلب صرف زیادہ جاننا نہیں، بلکہ وقت پر بولنا اور وقت پر خاموش رہنا، اختلاف میں انصاف کرنا، حکم لگانے میں احتیاط برتنا، اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے صبر سے تحقیق کرنا بھی تھا۔

فقاہت ان کے ہاں محض مسائل کے جوابات کا مجموعہ نہیں تھی، یہ ایک ذمہ داری تھی۔ رجال اور حدیث ان کے لیے محض کتابی ابواب نہیں تھے، یہ روایتِ تشیع کی حفاظت کا ذریعہ تھے۔ اور مرجعیت ان کے لیے محض ایک منصب نہیں تھی، یہ بندگانِ خدا کے سوالات، مشکلات اور دینی ذمہ داریوں کا بوجھ تھی جسے ان کے ذمہ دار کاندھوں نے امانت کے ساتھ اٹھایا۔ اسی لیے ان کی علمی زندگی میں جلد بازی کے بجائے تأمل، نعرے کے بجائے دلیل، اور جذبات کے بجائے تحقیق نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

ان کے علمی آثار میں فقہ، اصول، رجال، حدیث، استفتائات اور مختلف فقہی ابواب پر دروس و تحقیقات شامل ہیں؛ خاص کر علمِ رجال میں ان کا تبحر عصرِ رواں میں طاق تھا۔ جبکہ ’’جرعہ‌ای از دریا‘‘ جیسی تصنیف نے ان کی شخصیت کے ایک دوسرے پہلو کو نمایاں کیا؛ یعنی بزرگ علماء، اہلِ علم اور تاریخِ حوزہ کی یادداشتوں اور علمی شخصیت شناسی کو محفوظ رکھنے کا ذوق۔

شہرت سے دور، خدمت کے قریب

ہمارے دور میں جب بعض اوقات شہرت خود ایک مقصد بن جاتی ہے، آیت اللہ شبیری زنجانی کی زندگی شہرت گریزی اور خاموش خدمت کی ایک خوبصورت مثال دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان اہلِ علم میں سے تھے جنہیں اپنی علمی عظمت کا اعلان کرنے کے لیے بلند آواز کی ضرورت نہیں تھی۔

  • ان کی شناخت ان کے بیانات سے زیادہ ان کے درس سے ہوئی؛
  • ان کی شہرت ان کے اشتہارات سے زیادہ ان کی تحقیق سے ہوئی؛
  • اور ان کا اثر ان کے نعروں سے زیادہ ان کے شاگردوں اور علمی میراث کے ذریعے پھیلا۔

یہی شاید حقیقی علمی شخصیت کی پہچان ہے کہ انسان اپنے زمانے میں موجود بھی ہو اور اپنی ذات کو مرکز بنانے سے محفوظ بھی رہے۔ وہ ایک ایسے دور میں مرجع رہے جب مرجعیت کے گرد مختلف نوعیت کے مباحث، توقعات اور حساسیتیں موجود تھیں؛ لیکن ان کی شخصیت نے اس منصب کو بنیادی طور پر علمی امانت اور دینی ذمہ داری کے طور پر نبھایا۔

اعتدال: کمزوری نہیں، علمی پختگی ہے

آج تشیع کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے، ان میں سے ایک اعتدال کی وہ بصیرت ہے جو اصول پر قائم رہتے ہوئے انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرے۔ اعتدال کا مطلب حق سے دستبردار ہونا نہیں؛ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ حق کی حفاظت حکمت، اخلاق، دلیل اور انصاف کے ساتھ کی جائے۔

آیت اللہ شبیری زنجانی کی شخصیت اس پہلو سے بھی اہم تھی۔ وہ ایک ایسے علمی مزاج کی نمائندگی کرتے تھے جس میں فقہی اختلاف دشمنی نہیں بنتا تھا، علمی اختلاف شخصی تصادم میں تبدیل نہیں ہوتا تھا، اور مذہبی وقار کو سیاسی شور کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم جتنا گہرا ہوتا جائے، لہجہ اتنا ہی سنجیدہ اور انسان اتنا ہی محتاط ہو جاتا ہے۔

ایک ایسا مرجع جو لوگوں کے درمیان دیوار نہیں بنا

ان کی زندگی کے بعض واقعات اس وسیع تر انسانی اور اخلاقی دائرے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جو ان کے مزاج میں موجود تھا۔ آیت اللہ منتظری کی وفات کے موقع پر ان کی نمازِ جنازہ کی امامت ان واقعات میں سے ایک ہے جو ان کے نام کے ساتھ تاریخ میں محفوظ ہو گئے۔ اس فیصلے کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا، لیکن ان کی دینی و شرعی جرات ہر چیز پر حاوی رہی۔

اسی طرح مختلف فکری اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے ساتھ ان کے روابط نے بھی اس بات کو نمایاں کیا کہ ان کے نزدیک علمی و انسانی تعلقات کو محض سیاسی خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کے سابق صدر جناب محمد خاتمی اور سیاسی نظام سے مختلف رائے رکھنے والی بعض علمی و فکری شخصیات سے ان کی ملاقاتیں کافی بحث انگیز رہیں، جن کی بنیاد پر انہیں طعن و تشنیع کا شکار بھی بننا پڑا؛ لیکن انہوں نے باوقار خاموشی کو ہر اعتراض کا جواب جانا اور اپنے علمی سفر کو جاری رکھا۔

یہاں اصل اہمیت کسی سیاسی موقف کی نہیں، بلکہ اس وسیع ظرفی کی ہے جس میں ایک عالم اختلاف رکھنے والے انسان کے لیے بھی انسانی احترام کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں فقاہت اخلاق کے ساتھ پیوست ہو جاتی ہے۔

حرمِ کریمۂ اہلِ بیت اطہار (علیہم السلام) میں نمازِ جماعت کا افتخار

حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی کی زندگی میں حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) سے تعلق ایک نمایاں روحانی اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے والدِ بزرگوار، آیت اللہ سید احمد زنجانیؒ، حرمِ مطہر میں صبح اور مغرب و عشاء کی نمازِ جماعت پڑھاتے تھے، جبکہ ظہر کی نماز مدرسۂ فیضیہ میں قائم کرتے تھے۔ وہ خود اپنے دور کے جلیل القدر مراجع میں شمار ہوتے تھے؛ ان کی مقبولیت، تقویٰ اور علمی مقام کا یہ عالم تھا کہ بہت سے فضلاء، علماء اور اساتذہ ان کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے۔

والدِ بزرگوار کی آخری عمر میں، جب ضعف کے باعث وہ اس فریضے کو پوری طرح انجام دینے سے معذور ہوئے، تو آیت اللہ سید موسیٰ شبیری زنجانی نے اپنے والد کی جگہ حرمِ مطہر میں امامتِ جماعت کی ذمہ داری سنبھالی۔ یوں یہ صرف ایک باپ کی جگہ بیٹے کا کھڑا ہونا نہیں تھا، بلکہ ایک علمی و روحانی امانت کا ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونا تھا۔ آیت اللہ شبیری زنجانی نے بعد میں بھی طویل عرصے تک حرمِ حضرت معصومہؑ میں نمازِ جماعت کی امامت کے فرائض انجام دیے۔

آیت اللہ شبیری زنجانی کا خانوادہ

آیت اللہ شبیری زنجانی کا خاندان قم کے قدیم اور معزز ترین علمی گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ آیت اللہ سید احمد زنجانیؒ نہ صرف فقیہ اور مدرس تھے، بلکہ فقہ کے مختلف ابواب پر وسیع احاطہ رکھتے تھے۔ ان کی علمی شخصیت سے آیت اللہ العظمیٰ سید محمد علی اراکیؒ جیسے بزرگ فقہاء بھی بے حد متاثر تھے۔ ان کی سیرت میں تقویٰ، توکل، زہد، عبادت، حسنِ معاشرت اور اہلِ بیتؑ سے غیر معمولی محبت نمایاں خصوصیات کے طور پر بیان ہوئی ہیں؛ تقریباً ساٹھ کتابیں اور رسائل ان کی علمی یادگاروں میں شامل ہیں۔

آیت اللہ شبیری زنجانی کے علمی تشخص کی تعمیر میں خود ان کے والد کا بنیادی کردار تھا۔ انہوں نے ابتدائی و سطحی تعلیم کے بعد متعدد اکابر علماء سے استفادہ کیا اور فقہ، اصول، رجال اور حدیث میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ ان کی علمی زندگی میں رجال خصوصاً ایک ممتاز میدان بنا؛ ان کی عمیق تحقیق سے ’’رجال النجاشی‘‘ کا معروف علمی نسخہ بھی سامنے آیا۔

آیت اللہ مرعشی نجفیؒ کے ساتھ بھی آپ کے گہرے مراسم تھے، جو خود حرمِ مطہر میں طویل عرصے تک باجماعت نماز قائم کرتے رہے۔ شبیری خاندان کے اس تعلق کے بارے میں ایک بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ دونوں بزرگوں کا علمی و حوزوی ماحول ایک دوسرے سے پیوست تھا؛ جہاں آیت اللہ مرعشی نجفیؒ حرمِ حضرت معصومہؑ میں امامت کو ایک عظیم دینی شرف سمجھتے تھے، وہیں آیت اللہ شبیری زنجانی بھی اسی منصب اور خدمت سے وابستہ رہے۔

یوں شبیری زنجانی کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے تین نسبتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں:

  1. حرمِ کریمۂ اہلِ بیتؑ سے قلبی و عملی تعلق۔
  2. والدِ بزرگوار آیت اللہ سید احمد زنجانیؒ کی علمی و اخلاقی میراث۔
  3. قم کے ان بزرگ فقہاء کی علمی روایت، جس میں مرعشی نجفیؒ جیسے اکابر شامل تھے۔

رہبرِ انقلاب کے ساتھ صمیمی رابطہ اور خیر خواہانہ مشاورت

آیت اللہ شبیری زنجانی کی زندگی کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ ان کا دیرینہ، صمیمی اور خیر خواہانہ رابطہ تھا۔ یہ تعلق محض رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ مختلف حساس مواقع پر دینی، اجتماعی اور مملکتی امور میں ان کی صائب رائے اور مشورے کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی رہی۔

ان کی شخصیت میں جو علمی وقار اور غیر جانبدارانہ بصیرت تھی، شاید اسی لیے ان کی گفتگو میں ایسی اخلاقی تاثیر پیدا ہو گئی تھی جو منصب اور اقتدار کی رسمی حدود سے بالا تر تھی۔ وہ جہاں ضرورت محسوس کرتے، اپنی رائے بے باکی سے پیش کرتے؛ اور جہاں کسی انسان کے حق، مصلحت یا اصلاح کا مسئلہ درپیش ہوتا، وہاں ایک فقیہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ذرا تامل نہیں کرتے تھے۔

احمد منتظری کے معاملے میں ان کی وساطت اس تعلق کی ایک نمایاں مثال ہے۔ احمد منتظری کے بیان کے مطابق، آیت اللہ شبیری زنجانی نے ان کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے سلسلے میں مداخلت کرتے ہوئے اسے مصلحت کے خلاف قرار دیا، اور اس امر پر رہبرِ انقلاب تک اپنی رائے پہنچائی۔ بعد ازاں، آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی کہ آیت اللہ شبیری زنجانی کی رائے کے مطابق عمل کیا جائے، جس کے نتیجے میں عدالتی حکم معطل ہوا۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی رہائی کا قصہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک بزرگ مرجع کی علمی و اخلاقی ہیبت اور سربراہِ مملکت کی جانب سے اس وقار کے احترام کی سچی تصویر دکھائی دیتی ہے۔

ان روابط کی اصل اہمیت کسی مخصوص سیاسی واقعے سے زیادہ اس حقیقت میں تھی کہ آیت اللہ شبیری زنجانی نے مرجعیت کے منصب کو اقتدار کے قرب کا ذریعہ نہیں، بلکہ معاشرے کی خیر خواہی اور دینی فریضہ ادا کرنے کا وسیلہ سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا رہبرِ انقلاب سے تعلق نہ اندھی تائید کا تھا اور نہ ہی تصادم اور دوری کا؛ بلکہ ایک ایسے فقیہانہ احترام اور خیر خواہانہ مکالمے کی صورت رکھتا تھا جس میں ایک عالم اپنی علمی و اخلاقی خود مختاری برقرار رکھتے ہوئے اہم مسائل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

وہ نہ تو کسی سے مرعوب ہوتے تھے اور نہ ہی اختلاف کو عناد میں تبدیل کرتے تھے۔ وہ علم کی زبان میں بات کرتے، خیر خواہی کے لہجے میں مشورہ دیتے، اور جہاں کسی انسان کی داد رسی، کسی خاندان کی مشکل یا اجتماعی مصلحت کا سوال آتا، وہاں اپنے علمی مقام کو خاموش تماشائی بننے کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔

ان کے رخصت ہو جانے سے تشیع نے صرف ایک استاد اور مرجع نہیں کھویا، بلکہ ایک ایسی معتبر آواز بھی خاموش ہو گئی ہے جو وقت پڑنے پر اہلِ اقتدار تک حق بات پہنچا سکتی تھی، اور عام انسانوں کے دکھ درد کو علمی و اخلاقی وقار کے ساتھ بیان کر سکتی تھی۔

تشیع نے کیا کھویا؟

آج جب ہم کہتے ہیں کہ تشیع نے ایک بزرگ مرجع کھو دیا، تو اس کا مطلب محض ایک فقیہ کا اٹھ جانا نہیں ہے۔

  • ہم نے ایک ایسا علمی حافظہ کھویا ہے جس میں حوزہ کے کئی سنہری ادوار محفوظ تھے۔
  • ہم نے ایک ایسی شخصیت کو کھویا ہے جس نے اساطینِ فقہ کو قریب سے دیکھا، ان سے اکتسابِ فیض کیا، ان کے باریک مباحث کو سمجھا، اور پھر اس سلسلے کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔
  • ہم نے ایک ایسے استاد کو کھویا ہے جس کے لیے درس و تدریس معمول نہیں، بلکہ ایک الٰہی امانت تھی۔
  • ہم نے ایک ایسے مرجع کو کھویا ہے جس کی ذات میں فقہ کے ساتھ رجال، حدیث کے ساتھ تاریخ، اور علم کے ساتھ اخلاق کا سنگم تھا۔
  • اور سب سے بڑھ کر، ہم نے وہ معتدل علمی لہجہ کھو دیا جس کا وجود فکری تنازعات کے شور میں بھی ایک متوازن خاموشی پیدا کر دیتا تھا۔

یہ کسی کرسی کا خلا نہیں، ایک طرزِ علم کا خلا ہے۔ یہ کسی دفتر کا خلا نہیں، ایک طرزِ مرجعیت کا خلا ہے۔ یہ ایک ایسے شفیق استاد کے رخصت ہونے کا دکھ ہے جو اپنی ذات سے بڑھ کر علم کی حرمت کو ترجیح دیتا تھا۔

آنے والے زمانے کے لیے ایک خاموش وصیت

شاید آیت اللہ شبیری زنجانی کی سب سے بڑی میراث ان کی کتابوں سے بھی ماورا ہے: یہ کہ علم کو وقار کے ساتھ حاصل کیا جائے، اختلاف کو اخلاق کے ساتھ برداشت کیا جائے، فتوے کو الٰہی ذمہ داری سمجھا جائے، تاریخ کو اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھا جائے، اور مرجعیت کو خلقِ خدا کی بے لوث خدمت مانا جائے۔

تشیع کی رہنمائی صرف بلند بانگ خطابات سے نہیں ہوتی؛ کبھی ایک خاموش فقیہ کی دہائیوں پر محیط ریاضت نسلوں کا قبلہ درست کر دیتی ہے۔ کبھی ایک محتاط عالم کا ایک جملہ سو تقریروں سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتا ہے، اور کبھی ایک مردِ حق کا گوشہ نشین رہنا اخلاص کا سب سے پر اثر خطبہ بن جاتا ہے۔

علماء رخصت ہوتے ہیں، مگر علم کے چراغ کبھی نہیں بجھتے۔

وہ ہاتھ جو برسوں کتب کے اوراق پلٹتے رہے، آج ساکت ہو گئے؛ مگر ان ہاتھوں کی لکھی ہوئی سطریں آنے والے زمانوں سے مکالمہ کرتی رہیں گی۔ وہ زبان جو فقہ و حدیث کی باریکیوں کے موتی پروتی رہی، آج خاموش ہو گئی؛ مگر اس کی گونج مدارس کی درسگاہوں میں زندہ رہے گی۔

خداوندِ متعال اس جلیل القدر فقیہ، محقق، مدرس اور مرجعِ عالی قدر کو جوارِ محمد و آلِ محمد (علیہم السلام) میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے؛ ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے؛ ان کے فیض کو جاری رکھے؛ اور حوزاتِ علمیہ و امتِ تشیع کو اس عظیم صدمے پر صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

إِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

فقاہت کا یہ چراغ بجھا نہیں ہے؛ وہ اپنی روشنی اور حرارت کتابوں، شاگردوں، اور ایک گہری یاد کے حوالے کر گیا ہے۔ اور شاید ایک عالم کی سب سے بڑی معراج یہی ہے کہ وہ رخصت ہو جائے، مگر اس کا علم انسانیت کو منزل کا پتہ دیتا رہے۔

Social Media: Share