LogoDars e Mahdi ATFS

ماتھا ہی تو چوما ہے، چوری تو نہیں کی ہے!

Matha hi to chooma hai | ماتھا ہی تو چوما ہے
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi

باسمہ سبحانہ
ماتھا ہی تو چوما ہے، چوری تو نہیں کی ہے!

ایک پیشانی کیا چوم لی گئی، جیسے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہو!
تصویر وائرل ہوئی اور ہمارے اخلاقی پہرے دار میدان میں آگئے۔ کسی نے اسے "چاپلوسی "کہا، کسی نے مکھن لگانا ، کسی نے پروٹوکول کی دہائی دی تو کسی نے موقع پرستی ؛ گویا پیشانی نہیں، کسی قومی راز کو ہونٹوں سے چرانے سعی ناکام ہو ۔"پیشانی" کی آڑ میں قوم کے سرمایہ کی چوری ہو معاذ اللہ۔۔۔
ذرا ٹھہریے!
ماتھا ہی تو چوما ہے، چوری تو نہیں کی ہے۔
"پیشانی" چومنا بذاتِ خود کوئی قابلِ اعتراض عمل نہیں۔ دنیا بھر میں یہ محبت، شفقت، احترام اور عقیدت کے اظہار کا ایک معروف طریقہ ہے۔
ماں بچے کا ماتھا چومتی ہے، باپ اولاد کی "پیشانی" چومتا ہے، عقیدت مند بزرگ کی "پیشانی" چومتا ہے۔
تو اگر کسی صاحب نے ایک صدر مملکت کی پیشانی چوم لی تو اس میں قیامت کہاں سے آگئی؟
اسے تو ایک مثبت اعلان سمجھا جاسکتا ہے:
"اگر ایک پیشانی احترام کے قابل ہے تو ہم اور بھی پیشانیاں چوم سکتے ہیں اگرایک صدر مملکت کی پیشانی اس لئے چومی جا سکتی ہے کہ وہ "شیر" کی طرح دنیا کے سب سے بڑے "ڈاکو" کے سامنے ڈٹا رہا تو یقینا وقف خوروں کے مقابل ڈٹے رہنے والے نڈر اور بے باک "قائد ملت" کی پیشانی بھی چومنے کے لائق ہے بشرطیکہ قول و عمل کی صداقت طرفینی ہو اور صرف قائد ملت ہی کیوں چومی گئی پیشانی کا خلوص بول اٹھے گا
علم کی پیشانی ہو، خدمت کی پیشانی ہو، شرافت کی پیشانی ہو، مجاہدت کی پیشانی ہو یا انسانیت کی پیشانی
احترام کے قابل ہر پیشانی ہمارے بوسے کی مستحق ہوسکتی ہے۔
لیکن... اصل بات تو یہں سے شروع ہوتی ہے۔
بوسہ نہیں، نیت دیکھیے!
بوسہ مقدس ہے تب جب نیت مقدس ہو۔
بوسہ ترجمان محبت بن جاتا ہے، اگر دل میں محبت ہو نہ ہو تو یہی ہوس کا نشان
بوسہ عقیدت بن جاتا ہے، اگر دل میں عزت ہو ورنہ یہی تذلیل کا باعث ہوتا ہے
بوسہ احترام بن جاتا ہے، اگر دل میں کسی کا وقار ہو۔
لیکن اگر دل میں مفاد ہو، سامنے اقتدار ہو، کیمرہ موجود ہو اور بوسہ اس لیے لیا جائے کہ دنیا کو دکھایا جاسکے کہ دیکھیے، ہماری رسائی کہاں تک ہے—تو پھر صاحب!
یہ محبت نہیں، عقیدت کے لبادے میں لپٹی ہوئی خود نمائی ہے۔
سچی عقیدت کو کیمرے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ریاکاری کو ہوتی ہے۔
احترام انسان کو جھکاتا ہے؛
موقع پرستی انسان کو وقتی طور پر جھکا کر فائدہ اٹھاتی ہے۔
فرق بہت باریک ہے، مگر کردار اسے ظاہر کردیتا ہے۔
پھر کردار دیکھیے!
احترام حسین ہے، جب اس میں مفاد نہ ہو۔
جو شخص طاقتور کی پیشانی چومے اور کمزور کو حقارت سے دیکھے، اس کا بوسہ مشکوک ہے۔
جو صاحبِ اقتدار کے سامنے جھک جائے اور مظلوم کے سامنے گردن اکڑا لے، اس کا احترام دراصل احترام نہیں، اقتدار پرستی ہے۔
جو ہر طاقتور شخص کے لیے عقیدت کے الفاظ تلاش کرے اور ہر کمزور انسان کے لیے عیب، اس کے لبوں کا بوسہ خواہ کتنا ہی خوبصورت ہو، اس کے کردار کا چہرہ بدصورت ہوگا۔
کیونکہ اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ کس کی پیشانی چومتے ہیں۔
اصل امتحان یہ ہے کہ آپ کمزور کی پیشانی دیکھ کر کیا کرتے ہیں۔
اگر وہاں بھی محبت ہے تو بوسہ خوبصورت ہے۔
اگر وہاں صرف "تکبر" ہے تو پھر طاقتور کی پیشانی پر رکھا ہوا بوسہ بھی سوال بن جاتا ہے۔
یہاں ہم اپنے آپ سے بھی کہیں گے
کسی کے بوسے پر شور مچانے سے پہلے اپنے اصولوں کا حساب بھی کرلیجیے۔
اگر طاقتور کے سامنے جھکنا ہر حال میں غلامی ہے تو سب کے لیے غلامی کہیے۔
اگر ہر بوسہ چاپلوسی ہے تو اپنے پسندیدہ لوگوں کے بوسوں کو بھی اسی ترازو میں تولیے۔
اصول وہ نہیں جو مخالف کے لیے استعمال ہوں؛
اصول وہ ہیں جو اپنے اور پرائے دونوں پر یکساں لاگو ہوں۔
ورنہ یہ اخلاقیات نہیں، سیاسی عینک ہے۔
اور سیاسی عینک کا کمال یہ ہے کہ اس سے مخالف کی پیشانی کا ایک بوسہ بھی نظر آجاتا ہے، مگر اپنے آدمی کے کردار پر پڑا ہوا سوالیہ نشان نظر نہیں آتا!
لہٰذا صاحب!
بوسے کے بارے میں کم نیت کے بارے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے
اور نیت بھی ہم خود نہ پڑھیں؛
کردار کو بولنے دیجیے۔
کیونکہ:
ہونٹ جھوٹ بول سکتے ہیں،
تصویر مسکرا سکتی ہے،
کیمرہ منظر کو خوبصورت بنا سکتا ہے،
مگر کردار آخرکار سچ بول دیتا ہے۔
اور یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے
بوسہ مقدس ہے، جب نیت مقدس ہو۔
احترام حسین ہے، جب اس میں مفاد نہ ہو۔
اور جھکنا خوبصورت ہے، جب انسان کا سر ہر اونے بونے کے سامنے نہ جھکے
باقی...
ماتھا ہی تو چوما ہے، چوری تو نہیں کی ہے!
"چومنا" بری بات نہں کسی کا حق چھیننا بری بات ہے۔ چومنا گندی بات نہں قوم کا سرمایہ چرانا اور کسی معتبر پیشانی کے پیچھے چھپنا بہت گندی بات ہے۔
چوری جیسی بھی ہو واقعی بری چیز ہے۔کسی کا مال چوری کرنا برا ہے۔
کسی کا حق چوری کرنا اس سے بھی برا ہے۔
کسی کی محنت، عزت، مستقبل یا اعتماد چوری کرنا تو اس سے بھی بڑا جرم ہے۔
یہاں ایک سوال خود قوم کے اخلاقی مجاہدین سے بھی کہ
آپ کو پیشانی کا بوسہ تو نظر آگیا، کبھی کسی کے حقوق کا استحصال بھی نظر آیا؟
کسی کا حق مارا جائے—خاموشی۔
کسی غریب کی مزدوری دبائی جائے—خاموشی۔
کسی کمزور کی زمین ہڑپی جائے—خاموشی۔
کسی کی امانت میں خیانت ہو—خاموشی۔عوام کے حقوق کے نام پر عوام کو دھوکا دیا جائے—خاموشی۔
اب فرط جذبات میں آکر اگر کسی کی پیشانی چوم لی تو
اخلاقیات کا پورا محکمہ حرکت میں آجاتا ہے
کمال ہے!
ہمیں بوسے کی پاکیزگی پر شک ہے، مگر بعض لوگوں کی یقینی چوری پر شک بھی نہیں ہوتا
حالانکہ چومنا کوئی نئی ایجاد نہیں۔
دنیا میں لوگ ماتھے چومتے آئے ہیں، ہاتھ چومتے آئے ہیں، بزرگوں کے قدموں سے عقیدت کرتے آئے ہیں۔ محبت کے اظہار کی اپنی زبان ہوتی ہے، اور اس زبان کو ہر مرتبہ سیاسی لغت سے ترجمہ کرنا ضروری نہیں۔
پیشانی چومنے والوں سے اتنا گھبرا نے کی ضرورت نہیں جتنا قوم کی پیشانی کو داغدار کرنے والوں سے یہاں ایک بوسہ ہی تو ہے ۔
نہ خزانہ چوری ہوا ہے، نہ بینک لوٹا گیا ہے، نہ کسی کے گھر میں نقب لگی ہے۔نہ کوئی وقف کی جائداد کا سودا ہوا
بس ایک ماتھا چوما گیا ہے!
اور اگر اتنی سی بات سے آپ کی اخلاقیات جاگ گئی ہیں تو خدا کا شکر ادا کیجیے یہ بھی اچھی بات ہے کہ کسی کی پیشانی کا بوسہ انسان کا سودا ہواضمیر جگا دے ہونٹ تو بہت ہیں ایسی پیشانیاں بہت کم ہوتی ہیں جو مردہ ضمیروں میں حرارت پیدا کر دیں
اب ذرا ان لوگوں کی طرف بھی دیکھیے جو قوم کی پیشانی پر بوسے کے بہانے قوم کا اعتماد چرا رہے ہیں۔
کیونکہ فرق بہت معمولی سا ہے:
ماتھا چومنے کے لیے آدمی جھکتا ہے،
چوری کرنے کے لیے آدمی چھپتا ہے۔
ایک میں محبت ہے،
دوسرے میں خیانت۔
ایک میں احترام ہے تو،
دوسرے میں حق تلفی۔
ایک کے بعد تصویر وائرل ہوتی ہے،
دوسرے کے بعد فائل غائب ہوجاتی ہے!
بوسے کی تحقیق بعد میں کر لیجیے گا،
پہلے چوری کی تفتیش کر لیجیے۔
ملک و ملت کو اس وقت پیشانیاں چومنے والوں سے زیادہ
حقوق چرانے والوں سے خطرہ ہے۔
اور شاید ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہے کہ
ہمیں ماتھے پر رکھا ہوا بوسہ دکھائی دیتا ہے،
مگر قوم کی جیب سے نکالا ہوا حق دکھائی نہیں دیتا
رب کریم!
اس پیشانی کو سلامت رکھے جس کے سبب لوگوں کا ضمیر تھوڑی ہی دیر کے لئے سہی جاگا تو سہی🤲
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

Social Media: Share