LogoDars e Mahdi ATFS

سنگِ مرمر کے دفتری کاکروچ: خوشامد بمقابلہ اہلیت

سنگِ مرمر کے دفتری کاکروچ: خوشامد بمقابلہ اہلیت
Maulana Najeebul Hasan Zaidi
مولانا نجیب الحسن زیدی
Maulana Najeebul Hasan Zaidi

کاکروچ صرف گٹروں میں نہیں بستے۔ بعض کاکروچ سنگِ مرمر کی عمارتوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ وہ اندھیروں میں نہیں، بلکہ روشن فانوسوں کے نیچے چلتے ہیں۔ انہیں سڑاند اور تعفن سے نفرت نہیں ہوتی؛ بلکہ سڑاند ہی ان کی خوراک ہے۔ جہاں شفافیت کا راج ہو، وہاں وہ زندہ نہیں رہ سکتے؛ لیکن جہاں ذاتی اثر و رسوخ، تعلقات، خوشامد اور سازش کی نمی میسر آ جائے، وہاں ان کی نسلیں حیرت انگیز رفتار سے پھلتی پھولتی ہیں۔

دہلی کے جنتر منتر پر "کاکروچ پارٹی" کے حالیہ احتجاج نے مجھے رک کر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا: آخر حقیقی کاکروچ کون ہیں؟ جنتر منتر پر اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والی وہ عام اور مظلوم روحیں تو دراصل انصاف کی آواز بنی ہوئی ہیں؛ حقیقی کاکروچ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے پورے ملک کو گٹر بنا کر رکھ دیا ہے اور اندر سے اصل صلاحیتوں کو چاٹ کھایا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے زیادہ خطرناک کون ہے؟ وہ جو گھروں کی دیواروں کے پیچھے رینگتے ہیں، یا وہ جو اداروں اور انتظامی دفاتر کے اندرونی ایوانوں پر قابض ہو جاتے ہیں؟

کوئی بھی دفتر کسی شخص کی ذاتی جاگیر یا سلطنت نہیں ہوتا؛ بلکہ یہ ایک مقدس امانت ہوتا ہے۔ خاص طور پر وہ دفاتر جو مراجعِ عظام اور ولایتِ فقیہ کے مبارک ناموں سے وابستہ ہیں، ان کی حیثیت محض عام انتظامی یا دفتری مراکز کی نہیں ہوتی؛ وہ قوم کے اعتماد، امید اور بے لوث خدمت کی علامت ہوتے ہیں۔ انصاف کو ان کی چوکھٹوں سے نکلنا چاہیے؛ خلوص کی خوشبو ان کے اندر سے آنی چاہیے؛ اور اہل و باصلاحیت اذہان کو یہاں حوصلہ افزائی ملنی چاہیے۔ لیکن جب ان مقدس مقامات پر ادارہ جاتی کاکروچ قابض ہو جائیں، تو خوشبو کی جگہ بدبو پھیلنے لگتی ہے اور امید گھٹ کر مایوسی میں بدل جاتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ عراق سے ایران اور ایران سے ہندوستان تک، بعض دفاتر ایک خاموش بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ وہاں سالہا سال سے ایسے افراد براجمان ہیں جن کے پاس نہ تو علم کا نور ہے، نہ فکر کی وسعت، نہ تزویراتی منصوبہ بندی کی اہلیت، اور نہ ہی قوم کے مستقبل کا کوئی سچا درد۔ ان کی واحد اہلیت صرف یہ ہے کہ وہ ذاتی تعلقات کی سیڑھیاں چڑھنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ کس دہلیز پر کب تک کھڑا رہنا ہے، کس کے سامنے کتنا جھکنا ہے، کس کی انا کو مبالغہ آمیز تعریفوں سے تسکین دینی ہے، اور کس کے کان میں اپنے حریف کے خلاف خاموشی سے زہر گھولنا ہے۔

یہ شخصیات علمی و فکری میدان میں کبھی کوئی پائیدار نقش نہیں چھوڑ پاتیں۔ اپنی خیالی مونچھوں پر تاؤ دینے اور ذاتی تشہیر کے لیے تصاویر بنوانے کے علاوہ، ان کی کوئی مثبت شراکت نہیں ہوتی؛ اس کے باوجود وہ سیاسی گٹھ جوڑ کے اس کھیل میں ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ ایک مخلص طالبِ علم اپنی زندگی کی دہائیاں کتابوں کی ورق گردانی میں گزار دیتا ہے، سخت خاک چھانتا ہے، عرق ریزی سے تحقیق کرتا ہے، معاشرے کی خدمت انجام دیتا ہے اور اپنے کردار کی تعمیر کرتا ہے؛ لیکن جس مقام تک وہ برسوں کی مشقت کے بعد بھی نہیں پہنچ پاتا، یہ مفاد پرست عناصر محض چند سفارشوں، مخصوص تصویروں اور شاطرانہ تعلقات کے بل بوتے پر پہنچ جاتے ہیں۔

یہی وہ نازک ترین موڑ ہوتا ہے جہاں سے اداروں کا زوال باقاعدہ شروع ہو جاتا ہے۔

ان دفتری کیڑوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور خوف حقیقی صلاحیت ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ علم، دیانت اور سچا تجربہ ان کے وجود کے لیے بالکل اسی طرح ایک خطرہ ہے جس طرح جراثیم کش دوا کاکروچ کے لیے ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اہل افراد کے خلاف ایک منظم محاذ قائم کر لیتے ہیں۔ ان کے ہتھیاروں میں کردار کشی، بدگمانی پھیلانا، جھوٹی رپورٹیں تیار کرنا، دروازے بند کرنا، راہیں مسدود کرنا، اور ایسے تمام فورمز تک رسائی روکنا شامل ہے جہاں اہل دانش تاریخ پر کوئی گہرا اثر چھوڑ سکتے تھے۔ جب ادارے میں ایسی صفائی مہم نہیں چلائی جاتی، تو یہ عناصر تیزی سے اپنی تعداد بڑھاتے ہیں، یادگاری تقریبات پر غلبہ پا کر چاپلوسوں کی ایک نئی کھیپ تیار کرتے ہیں اور پھر واپس اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ وہ کبھی کھلی اقربا پروری کے ذریعے اور کبھی خاموش مقاطعے (بائیکاٹ) سے حقیقی قابلیت کا گلا گھونٹتے ہیں۔ ان کی نظر میں ہر وہ شخص دشمن ہے جو ادارے کو گٹر بننے سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

یہ ایک عجیب الخلقت گروہ ہے: وہ خود کبھی کچھ تعمیری پیدا نہیں کرتے، مگر جو کچھ پیدا کرتا ہے اسے ختم ضرور کرتے ہیں۔ وہ خود کوئی نیا وژن یا نظریہ پیش نہیں کرتے، مگر اہل نظر کے راستے میں کانٹے ضرور بچھاتے ہیں۔ وہ خود کوئی بامعنی خدمت انجام نہیں دیتے، مگر جو خدمت کرنا چاہے اس کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر حربہ بروئے کار لاتے ہیں۔

آج قم سے لے کر دہلی تک، جہاں کہیں بھی یہ عناصر شاندار لبادوں، چمکتی عباؤں اور مصنوعی وقار کے پردے میں اداروں پر مسلط ہیں، وہاں سب سے بڑا نقصان کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ خود مرجعیت کے وقار اور حرمت کا ہے۔ جب ایک عام انسان کسی دفتر سے مایوس اور بدظن ہو کر لوٹتا ہے، تو اس کا شکوہ محض کسی ایک اہلکار تک محدود نہیں رہتا؛ بلکہ پورے ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ یہ وہ گہرا زخم ہے جسے بھرنے میں دہائیاں بیت جاتی ہیں۔

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے اتنی برباد نہیں ہوئیں جتنی اندر بیٹھے نااہل نگہبانوں کی غفلت سے خاک میں ملیں۔ عمارت کی لکڑی کو اندر ہی اندر چاٹنے والی دیمک، ہمیشہ توپ خانے سے زیادہ مہلک ثابت ہوئی ہے۔ ہمارے اداروں میں چھپے ہوئے یہ کاکروچ دراصل اسی دیمک کی جدید شکل ہیں۔ وہ خاموشی سے عوامی اعتماد کو چاٹ جاتے ہیں، امیدوں کو کھوکھلا کرتے ہیں، قابلیت کو نگل جاتے ہیں، اور پھر بے شرمی سے انہی اداروں کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری کا دعویٰ بھی کرتے ہیں جنہیں وہ خود اندر سے ویران کر چکے ہیں۔

اب وہ وقت آ چکا ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ عمارت کے محض فرش پر جھاڑو لگا دینا کافی نہیں؛ بلکہ اب اصل صفائی پورے نظام کی ہونی چاہیے۔ پیمانہ تعلقات نہیں بلکہ اہلیت ہو، سفارش نہیں بلکہ خدمت ہو، چاپلوسی نہیں بلکہ امانت و دیانت ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مخلص اور قابل افراد کو مکمل تحفظ دیا جائے، کیونکہ اداروں کی اصل طاقت ان کی سیمنٹ اور پتھر کی دیواریں نہیں، بلکہ وہاں بسنے والے کردار ہوتے ہیں۔

اگر قیادت نے آج بھی بروقت اور دو ٹوک فیصلے نہ کیے، تو یہ کیڑے مزید انڈے بچے دیں گے، مزید منظم گروہ بنائیں گے، مزید باصلاحیت اذہان کو ہڑپ کر جائیں گے، اور بالآخر ایسا تعفن جنم لے گا کہ اہلِ ایمان ان دفاتر کی دہلیز پر قدم رکھنے سے بھی کترائیں گے۔ اس وقت شاید بہترین دوا اور کیڑے مار اسپرے بھی بہت تاخیر سے پہنچے گا۔

اداروں کو بیرونی دشمنوں سے پہلے، ان اندرونی نگہبان نما غاصبوں سے بچانا ناگزیر ہے۔

کیونکہ جب کوئی دفتر سچی خدمت سے خالی ہو جائے، تو وہ صرف ایک کھوکھلا ڈھانچہ رہ جاتا ہے—اور جب کسی عمارت پر کاکروچوں کا مکمل تسلط قائم ہو جائے، تو وہاں روشنی نہیں، بلکہ صرف اور صرف تعفن جنم لیتا ہے۔

Social Media: Share